مقبول خبریں
پاکستانی کمیونٹی سنٹر اولڈہم میں بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا انعقاد، برطانیہ بھر سے 20 ٹیموں کی شرکت
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
زوال در زوال
زوال کی بہت سی قسمیں ہوتی ہیں، معاشی زوال، سیاسی زوال، معاشرتی زوال اور اخلاقی زوال، یہ تمام اقسام یکجا ہوجائیں تو قومی اور انفرادی سطح پر تباہی اور بربادی کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے جو رکنے کا نام نہیں لیتا۔حکمران اپنی تگ و دو سے قوم کو معاشی زوال سے تو نکال لیتے ہیں لیکن اخلاقی زوال سے بچنے کے لیے ایک الگ قسم کے جہاد کی ضرورت پڑتی ہے۔حال ہی میں فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا ٹولز پر ایک ویڈیو سانگ ریلیز کیا گیا ہے، جس کا نام ہے، اے پتر بٹاں دے نئیں رجدے،اس گانے میں اس مشہور زمانہ قومی نغمے کی پیروڈی کی گئی ہے جو 1965 کی جنگ میں پاکستان کے بہادر فوجیوں کی قربانیوں کو سراہنے کے لیے ملکہ ترنم میڈم نور جہاں کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا اور اس جنگی نغمے میں آج بھی اتنا سوزو گداز ہے کہ سن کر آنکھوں سے آنسو نکل آئیں۔ افسوس کہ کسی بد ذات اور بدخواہ کو پیروڈی بنانے کے لیے یہی نغمہ ملا۔ قومی نغموں، قومی ترانوں اور قومی شخصیات کا اپنا ایک الگ تقدس ہوتا ہے، زندہ قومیں اس تقدس کو کبھی بھی پامال کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہیں، کاش پاکستان میں ایسا بھی کوئی ادارہ ہوتا کہ جو اس طرح کے معاملات پر خود سے نظر رکھتا اور ایسے ملک دشمن عناصر کی سرکوبی کے لیے ہر لمحے تیار رہتا۔ ملک سے محبت، ملک کا نظام چلانے والوں سے محبت اور ملک کی حفاظت کرنے والوں سے محبت ایک انتہائی فطری نوعیت کا جزبہ ہوتا ہے، اس جزبے کے لیے کسی بھی قسم کی ٹریننگ کی ضرورت نہیں ہوتی، تاہم ان لوگوں اور افراد پر نظر رکھنے کی ضرورت ضرور ہوتی ہے جو ایسے جذبے کو کمزورکرنے کے خواہشمندہوں۔پچھلے کئی برسوں سے ہمارا ایک المیہ یہ بھی رہا ہے کہ ہمارے ہاں قومی نغموں کے حوالے سے قحط کی سی صورت حال رہی۔ اگرچہ اس سارے عرصے میں پاکستان نے بہت سے نامی گرامی گلوکاروں کو جنم دیا، امریکا برطانیہ اور بھارت سے لے کر دنیا کے ہر کونے میں پاکستانی گلوکاروں نے اپنے فن کی دھاک بٹھادی، ہمارے شاعروں نے بھی بین الاقوامی قسم کے بہت سے مشاعرے فتح کر لیے لیکن وطن کی محبت کے حوالے سے منظر بڑی حد تک بے رونق رہا۔آج بھی قومی نوعیت کاکوئی اکھٹ ہو تو وہی’ سوہنی دھرتی، دل دل پاکستان اور اے مرد مجاہد جاگ ذر ا ‘ قسم کے دو چار قومی نغمے سننے کو مل جاتے ہیں۔ پہلے تعلیمی اداروں میں اور خصوصا سرکاری تعلیمی اداروں میںصبح کی اسمبلی میں علامہ اقبال کی نظم ’لب پہ آتی ہے۔۔۔‘ اور آخر میں قومی ترانہ پڑھنے کا رواج ہوتا تھا، اب ان اداروں میں نہ تو اسمبلی کا رواج رہا نہ قومی ترانے کا، پرایئویٹ تعلیمی اداروں کو تو پہلے ہی بہت سے استثناء حاصل ہیں، بہت کم پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر اسمبلی کی جاتی ہے، سچ پوچھیں تو ہمارے بچوں کو چودہ اگست کے علاوہ کسی روز بھی قومی ترانہ سننے کا موقعہ ہی نہیں ملتا۔ ایک زمانہ تھا کہ ہمارے سینیما ہالز میں شو شروع ہونے سے پہلے قومی ترانہ بجایا جاتا تھا، پھر اس ترانے کو محض چند بول تک محدود کیا گیا، وقت اور گذرا تو بات چند بول کے سازینے تک سمٹ کر رہ گئی، اب نہ بول ہیں نہ سازینہ، ایک سینیما کے مینیجر کہ رہے تھے کہ سینما ہالوں پر بے شمار ٹیکسز ہیں، بجلی بہت مہنگی ہے،ہم قومی خدمت کرنا چاہتے ہیں مگر کیا کریں کاروبار کے حالات بہت خراب ہیں۔قومی نغموں کے حوالے سے ماضی میں پی ٹی وی کی خدمات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ آج تک جتنے بھی مقبول قسم کے قومی گیت تخلیق کیے گئے، وہ پی ٹی وی کے پلیٹ فارم پر تیا ہوئے۔ اب پی ٹی وی میں نہ وہ دم خم رہا نہ معیار۔ پرائیویٹ چینلوں سے مقابلے کی دوڑ میں پی ٹی وی کو بھی نئے طور طریقے اپنانے پڑ گئے، پھر یہ بھی ہوا کہ دیگر سرکاری محکموں کی طرح پی ٹی وی بھی معیار کی بجائے ذاتی مراسم اور انفرادی تعلقات کی بھینٹ چڑھ گیا۔ نہ وہ بڑے لکھاری رہے نہ پیشکار، بھلا ہو آئی ایس پی آر کا کہ گزشتہ دنوں آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کے قتل عام کے بعد ایک ایسا گیت تخلیق کر دیا کہ سننے والا ہر شخص آبدیدہ ہوگیا۔ بڑا دشمن بنا پھرتا ہے ۔۔۔۔ آج اس گیت کو عوامی اور سرکاری سطح پر ہونے والی قومی نوعیت کی تقریبات میں وہی حیثیت حاصل ہے جو کبھی جیوے جیوے پاکستان کو حاصل ہوتی تھی۔ اقوام عالم کی بھیڑ میں زندہ رہنے کے لیے صرف تقریروں سے کام نہیں چلتا، قوم کو جوڑنے کے لیے، زندہ رکھنے کے لیے بہت سے جتن کرنا پڑتے ہیں، لوگوں کو احساس دلانا پڑتا ہے کہ وہ کسی ہجوم کا نہیں ایک قوم کا حصہ ہیں۔ہمارا یہی انتشار ہے جس کے سبب آج ہمارے اپنے ہی لوگ بہت سی غیر ملکی ایجنسیوں کے آلہ کار نظر آتے ہیں۔ وہ تمام پاکستان دشمن قوتیں جنہیں پاش پاش کرنے کے لیے ہماری پولیس، ہماری فوج اور ہمارے بہت سے سیکیورٹی اداروں کے لوگ اپنی جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں، ان قوتوں کو سہارا دینے کے لیے خود ہمارے ہی درمیان سے میر جعفر اور میر صادق پیدا ہو جاتے ہیں۔ معلوم نہیں ہمیں اس حقیقت کا ادراک کب ہوگا کہ دنیا کے لیے پاکستان نام کی اس ایٹمی قوت کو برداشت کرناناممکنات میں سے ہے، ستاروں کی چال پڑھنے والے اس سچائی سے آشنا ہیں کہ آج عالمی سازشوں کا شکار پاکستان، کل کی دنیا کا حکمران ہوگا،اسی لیے دنیا ہم سے خائف ہے۔ کبھی ہمیں اسلام پسند قوتوں سے ڈرایا جاتا ہے تو کبھی اسلامی عسکریت پسندوں کا خوف دلایا جاتا ہے، کبھی ہمارے دینی مدارس کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی ہمارے عسکری اداروں کی ساکھ بگاڑنے کی کوشش ہوتی ہے۔حد تو یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مدتوں سے جاری تحریک آزادی کو بھی متنازعہ بنانے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی رپورٹنگ کرتے ہوئے، بھارتی میڈیا داعش اور آئی ایس آئی ایس کے جھنڈے بھی اصل رپورٹ میں ہیر پھیر کر کے شامل کر دیتا ہے تاکہ دنیا کو یہ تاثر دیا جاسکے کہ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کی حمایت کرنے والے تمام لوگ دہشت گرد ہیں۔ ہمیں اس ساری صورت حال کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہماری فوج گزشتہ ایک برس سے لگاتار دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے مصروف عمل ہے، آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں دہشت گرد یا تو مارے جاچکے ہیں یا بھر اپنے اپنے علاقوں سے فرار ہوچکے ہیں، فتح کے لمحات بہت قریب ہیں، ایسے میں ہمیں ہوشمندی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ دنیا کی کوئی بھی فوج کسی بھی محاذ پر اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک عوام کی دعا ئیں اور نیک خواہشات اس کے ساتھ نہ ہوں، ایسے میں اگر قومی اہمیت کے حامل کسی نغمے کی ایک نہایت بھونڈے انداز میں پیروڈی بنا کر انٹر نیٹ پر پھیلا دی جائے تو کسی کے لیے بھی ایسا کرنے والے کی نیت اور ارادے کو سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں ہوگا۔