مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
لیبیا انٹیلی جنس کے سابق سربراہ کی بیٹی طرابلس میں سزا پوری کر کےجیل سے نکلتے ہی اغوا
لیبیا کی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ محمد عبداللہ السینوسی کی بیٹی کو طرابلس میں جیل سے نکلتے ہی اغوا کر لیا گیا۔ وزیرِانصاف صالح المرغانین نے بتایا ہے کہ پیر کی صبح الریومی جیل سے پولیس انود السینوسی کو لیکر جا رہی تھی کہ اچانک کچھ مسلح افراد نے پولیس پر حملہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مس السینوسی کولے جانے سے پہلے حملہ آوروں نے پولیس پر فائرنگ کی تھی۔ مس السینوسی کی سزا ختم ہو چکی تھی اور جس وقت یہ حملہ ہوا اس وقت انہیں پولیس کی حفاظت میں طرابلس ہوائی اڈے پہنچایا جا رھا تھا۔ وزیرِ انصاف نے مزید بتایا کہ چار گاڑیوں نے پولیس پر گھات لگا کر حملہ کیا اور زبردست فائرنگ شروع کر دی لیکن جلدی ہی یہ واضح ہو گیا کہ وہ مس السینوسی کو لیجانا چاہتے تھے۔ اس حملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ وزیرِ انصاف نے لوگوں سے مدد کی اپیل کی ہے اور خاص طور پر باغیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انہیں تلاش کرنے میں مدد کریں۔ مس السینوسی کو اکتوبر 2012 میں جعلی پاسپورٹ کے ساتھ لیبیا میں داخل ہونے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ انہیں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ جیل میں اپنے والد عبداللہ السینوسی سے ملاقات کرنے آئی تھیں۔ ان کے والد معمر قذافی کے دور حکومت کے دوران ہونے والے جرائم کا حصہ بننے کے الزام میں قید ہیں۔