مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
لیبیا انٹیلی جنس کے سابق سربراہ کی بیٹی طرابلس میں سزا پوری کر کےجیل سے نکلتے ہی اغوا
لیبیا کی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ محمد عبداللہ السینوسی کی بیٹی کو طرابلس میں جیل سے نکلتے ہی اغوا کر لیا گیا۔ وزیرِانصاف صالح المرغانین نے بتایا ہے کہ پیر کی صبح الریومی جیل سے پولیس انود السینوسی کو لیکر جا رہی تھی کہ اچانک کچھ مسلح افراد نے پولیس پر حملہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مس السینوسی کولے جانے سے پہلے حملہ آوروں نے پولیس پر فائرنگ کی تھی۔ مس السینوسی کی سزا ختم ہو چکی تھی اور جس وقت یہ حملہ ہوا اس وقت انہیں پولیس کی حفاظت میں طرابلس ہوائی اڈے پہنچایا جا رھا تھا۔ وزیرِ انصاف نے مزید بتایا کہ چار گاڑیوں نے پولیس پر گھات لگا کر حملہ کیا اور زبردست فائرنگ شروع کر دی لیکن جلدی ہی یہ واضح ہو گیا کہ وہ مس السینوسی کو لیجانا چاہتے تھے۔ اس حملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ وزیرِ انصاف نے لوگوں سے مدد کی اپیل کی ہے اور خاص طور پر باغیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انہیں تلاش کرنے میں مدد کریں۔ مس السینوسی کو اکتوبر 2012 میں جعلی پاسپورٹ کے ساتھ لیبیا میں داخل ہونے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ انہیں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ جیل میں اپنے والد عبداللہ السینوسی سے ملاقات کرنے آئی تھیں۔ ان کے والد معمر قذافی کے دور حکومت کے دوران ہونے والے جرائم کا حصہ بننے کے الزام میں قید ہیں۔