مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امن کی خواہش، عزت کے ساتھ
بھارتی وزیر دفاع محترم منوہر پاریکر کے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے حوالے سے حالیہ بیان نے پاکستان کے اس موئقف کی بھرپور تائید کردی ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی راء ملوث ہے۔ معلوم نہیں یہ بیان محترم منوہرپاریکرکی معصومیت اور بھولپن کا نتیجہ ہے کہ وہ انجانے میں سچ بول گئے یا پھر یہ بیان انہوں نے آئی ایس آئی کے کہنے پر دیا ہے کیونکہ بھارت میں ایک عام خیال یہی ہے کہ بھارت میں جو کچھ بھی برا ہوتا ہے اس کے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع نے اپنے اس بیان میں کہا تھا کہ دہشت گرد پیسے کے لیے سب کچھ کر سکتے ہیں،جب ایسے لوگ مارکیٹ میں موجود ہوں تو پھر ہمیں اپنے فوجی سپاہی سامنے لانے کی کیا ضرورت ہے، دہشت گردوں کا مقابلہ دہشت گردوں کی مدد سے کیا جانا چاہیے۔بھارتی وزیر دفاع نے اپنے اس بیان کے ذریعے دنیا کو ایک نئی سوچ دی ہے، اگر ان کی اس سوچ کو مقبولیت حاصل ہوگئی تو آنے والے دنوں میں دنیا بھر میں فوج رکھنے کی بجائے دہشت گرد پالنے کا رواج فروغ پا جائے گا، مختلف دہشت گرد گروہوں کو سرکاری سرپرستی میں قیام و طعام اور وسائل کی فراہمی کے لیے منصوبہ بندی کی جائے گی، حکومتی سربراہ اور قومی ادارے کسی بھی معاملے کے حل کے لیے دہشت گرد گروہوں سے مشاورت کیا کریں گے، سپاہی رہیں گے نہ ان کی ضرورت، سارے کا سارا نظام ہی بدل جائے گا۔دنیا پر دہشت گردوں کی حکومت ہو جائے گی اور اس تبدیلی کا سارا سہرا بھارت کے سر ہوگا۔مگر خود بھارت کے لیے یہ تبدیلی کچھ زیادہ نئی نہیں ہوگی، بھارت تو عرصے سے کرائے کے دہشت گردوں کی خدمات سے نہایت بھرپور انداز میں فیضیاب ہورہا ہے۔ یہ کرائے کے دہشت گرد ضرورت کے مطابق نام بھی بدل لیتے ہیں اور حلیہ بھی، کبھی یہ دہشت گرد آپ کو بنگلہ دیش میں نظر آئیں گے تو کبھی سری لنکا میں، کبھی پاکستان میں تو کبھی نیپال میں، حتی۱ کہ افغانستان بھی ان کرائے کے بھارتی دہشت گردوں کی دست برد سے محفوظ نہیں، آئے روز کے دھماکے، ہر وقت کی قتل و غارت گری۔ لیکن کمال یہ کہ الزام پھر بھی پاکستان پر۔ اور پاکستانیوں کی امن پسندی کا یہ عالم کہ بہت عرصے پاکستانی یہی کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح بھارت کو موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ دے دیا جائے۔ اگر محترم منوہر پاریکر نے پیشہ ور دہشت گردوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی بات کی ہے تو یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں، سچ پوچھیں تو منوہر صاحب نے تو صرف بھارتی مزاج اور بھارتی فطرت کا اعتراف کیا ہے اور اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ دہشت گردی کسی محدود سی اصطلاح کا نام نہیں، دہشت گردی تباہی اور بربادی کی ایک ایسی خوفناک دنیا ہے جس میں استعمال ہونے وا لے ہتھیاروں کی ان گنت قسمیں ہیں، کبھی قلم تو کبھی بندوق، کبھی لفظ تو کبھی سوچ، دہشت گرد موقعے اور ضرورت کی مناسبت سے ہتھیاروں کا انتخاب کرتے رہتے ہیں۔ مقصد صرف ایک ہی ہوتا ہے کہ انسانوں کو اتنا ڈرایا اور سہمایا جائے تاکہ ان کے پاس جینے کی امنگ رہے نہ جینے کا حوصلہ۔لوگ جینا بھی چاہیں اور مرنے کی دعا بھی مانگیں۔ مجھے یاد ہے برسوں پہلے مجھے کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج بم دھماکے کے ایک زخمی سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ وہ شخص کسی بازار سے گزر رہا تھا کہ اچانک بم دھماکہ ہوگیا۔ بم کے چھوٹے چھوٹے ریزے اس کے خون میں ایسے شامل ہوگئے کہ انہیں خون سے جدا کرنا ممکن نہیں رہا۔ان زہریلے ذرات کو انگریزی میں pallets کہا جاتا ہے۔ڈاکٹروں کے پاس ان پیلیٹس کو خون سے جدا کرنے کا کوئی آسان طریقہ نہیں ہوتا۔ ایسے مریضوں کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔ بم کے زہریلے نوک دار ذرے سارے جسم میں رگوں کو چیرتے پھرتے ہیں تو مریض کی آہ و بکا سن کر بڑے بڑے جی دار کانپ کر رہ جاتے ہیں۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آجکل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی آزادی کی جنگ لڑنے والے کشمیریوں کے خلاف ایسے ہتھیار استعمال کر رہی ہے کہ جن سے نکلنے والے زہریلے ذرات جسموں میں پیوست ہو جاتے ہیں اور زخمی ہونے والا شخص دوسروں کے لیے نشان عبرت بن جاتا ہے۔25 مئی کے بھارتی اخبار روزنامہ ہندو نے مقبوضہ کشمیرمیں ایسے ہی زہریلے ہتھیار کا نشانہ بننے والے ایک کشمیری نوجوان حامد نذیر بھٹ کی کہانی شائع کی ہے۔ اخبار کے مطابق یہ سولہ سالہ نوجون کئی روز سے بے ہوشی کی حالت میں ہے۔ بھارتی فوج نے اس معصوم نوجون کو حریت پسند قرار دے کر اپنے قہر کا نشانہ بنادیا۔ زہریلے ذرات سے اس کی ایک آنکھ مکمل طور پر ضائع ہوگئی، سارے جسم پر چھوٹے چھوٹے ہزاروںسوراخ ہوگئے جن سے مسلسل خون بہتا رہتا ہے، کسی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس نوجوان کو اس اذیت سے کیسے چھٹکارا دلایا جائے۔اس نوجوان کو شمالی کشمیر کے ایک قصبے پلہالن سے گرفتار کیا گیا تھا۔اس تفصیل کی اشاعت کے بعد دنیا بھر میں بھارتی چہرہ جس مکروہ انداز میں رسواء ہوا ہے اس سے بھارت میں بسنے والے مٹھی بھر اعتدال پسند لوگوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ اس نوجوان کی تصویر آجکل فیس بک اور سوشل میڈیا پر شدت سے شیئر کی جارہی ہے۔ برسلز میں فرینڈز آف یورپ نامی تنظیم نے گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ظلم و ستم کے حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا، اس سیمینار میں بھی حامد نذیر بھٹ کی دردناک تصویر بہت دیر موضوع گفتگو رہی۔ حاضرین کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں تعینات سات لاکھ سے زائد بھارتی فوجی جس بے رحمی سے انسانی حقوق کی پا مالی میں مصروف ہیں اس کی کہیں کوئی مثال نہیں ملتی۔لیکن افسوس کہ بھارت سرکار کو نہ تو مقبوضہ کشمیر میں انسا نی حقوق کی پامالی پر کوئی افسوس ہے نہ ہی وہ ظلم کے اس سلسلے کو روکنے کی کوئی خواہش رکھتی ہے۔ ہم پاکستانیوں کو احساس ہونا چاہیے کہ اقوام عالم میں ہمیں اگر کوئی خطرہ ہے تو وہ صرف اور صرف بھارت سے ہے، چاہے ہمارے دریائوں کو ریگستانوں میں تبدیل کرنے کا مکروہ منصوبہ ہو یا پھر دنیا بھر میں پاکستانی فوج اور ہمارے انٹیلی جنس اداروں کو بد نام کرنے کی سازش، ہمارے شہروں میں بد امنی کی آگ لگانے کی خواہش ہو یا پھر یا پھر ہمارے فنکاروں کو رسواء کرنے کا سلسلہ،بھارت ھمارے خلاف کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، ایسے میں ہمیں بحیثیت قوم بھارت کے حوالے سے اپنی سوچ میں تبدیلی لانا ہوگی۔ ذلت کے ساتھ امن کی خواہش کبھی بھی زندہ قوموں کا وطیرہ نہیں رہی۔ایسی خواہش کو بزدلی کا نام دیا جاتا ہے۔