مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
چپ کی آڑمیں جمہوریت کا قتل ...!!
مرسی حکومت کوبالجبرمعزول کئے ہوئے دوماہ سے زائد کا عرصہ ہوچکاہے مگرتمام حکومتی فاشسٹ ہتھکنڈوں کے باوجود اخوان المسلمون کانہ تواحتجاج کاجذبہ ٹھنڈاہواہے اورنہ ہی مغربی ایجنڈے کے مطابق اخوانیوں نے ہتھیار اٹھانے کی راہ اپنائی ہے۔ مغربی سازشوں اوراورعرب ریاستوں میں تبدیلی کی لہرسے آشنامبصرین کاروزِاوّل سے ہی خیال تھاکہ امریکی اوردیگرقوتیں اس انتظارمیں ہیں کہ اخوان مظاہرین پرتشدد ہوں اوراوران کے خلاف مصری فرعونیت کو جائز قرار دے سکیں۔یہی سبب ہے کہ مرسی کی جائز جمہوری اورمنتخب حکومت کے خاتمے پرامریکہ سمیت جمہوریت کے تمام ”ورثا“ چپ رہے اوراس چپ کی آڑمیں جمہوریت کے قاتل جنرل سیسی کے غاصبانہ اقدام کی ہرممکن مددکرتے رہے یہاں تک کے مغربی تھنک ٹینکس نے اپنے اپنے مشورے بھی دیئے اوراسرائیلی ماہرین کوفلسطینیوں سے نمٹنے کے اپنے تجربات کی روشنی میں مصری فوج کومشاورت کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے۔ حالات پرنظررکھنے والے اس امرسے بخوبی آگاہ ہیں کہ مصری فوج روزِ اوّل سے ہی اخوان کومشتعل کرنے کی کوشش میں تھی اوراس کوشش میں ناکامی نے ہی اسے انتہائی اقدام پر مجبورکیااورجنرل سیسی نے اپنی فوجی قوت کواستعمال کرتے ہوئے پہلے ہی ہلے میں تین ہزارسے زائداخوانیوں کوشہیدکردیا۔دنیابھرکے میڈیاکومانیٹرکیاجائے تویہ امراچھی طرح سے سامنے آجاتاہے کہ امریکہ سمیت پوری دنیامیں سے ترکی اورپاکستان کے سواکسی کواس قتل عام کی مذمت کرنے کی توفیق نہیں ہوئی بلکہ ہرطرف موت جیسی خاموشی تھی۔اس خاموشی کے پیچھے یہ توقع جھلک رہی تھی کہ اخوان اب ہتھیاراٹھائیں ،اب اٹھائیں مگران کی امیدیں اس وقت خاک میں مل گئیں جب اخوان کی اعلیٰ قیادت نے اپنی روایتی امن پسندی کوچھوڑنے سے انکارکردیااورمظاہروں سے دستبرداری بھی اختیارنہیں کی۔توقع کی جارہی تھی کہ اس کے بعدروزبروزکی جھڑپیں انہیں میدان چھوڑنے یا تشدد پر اترنے پرمجبورکردیں گی مگرایسانہیں ہوا،جس پردنیابھرمیں عوامی سطح پراخوان کیلئے حمائت اور اس کے مخالفین کے خلاف نفرت کاایک طوفان اٹھ کھڑاہوااورمغربی میڈیاکی اخوان سے روایتی عداوت کے باوجودلوگوں کوسچ سے آشنائی ہوئی۔ اس سارے ڈرامے کی اصل ہدایت کار امریکی حکومت بھی مجبورہوگئی اوراس نے مصری فوج کی امدادروکنے کاحکم جاری کر دیااورسینیٹ کمیٹی نے کہاکہ امریکہ مصرکے حالات کی روزانہ کی بنیادپرمانیٹرنگ کرے گااوراس کی بنیادپراس امدادکوروکنے یاجاری رکھنے کافیصلہ کیاجائے گا۔ شہداکے لہولہواوراخوان کارکنوں کے صبرنے یورپی یونین کے ضمیرکوبھی جھنجوڑڈالاہے اوراب 28یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ کااجلاس ہورہاہے جس میں مصرکی امداد بندکرنے اور تعلقات منقطع کرنے کافیصلہ کیاجائے گا۔ جبر سے مقابلے میں صبرکادباوٴ ہے کہ برطانیہ میں مصری سفیرکوملک بدرکرنے کامطالبہ شروع ہوچکاہے کیونکہ مصری سفیر نے چند روز پہلے اپنے سفارتخانے میں کہاکہ مظاہرین نے پہلے پولیس پرگولی چلائی جس پرمصری فوج کوجوابی کاروائی کرنی پڑی۔مصری فوج نے وہی کیاجوبرطانوی حکومت نے گزشتہ برس لندن میں مظاہرین کے خلاف کیاتھا،فرق صرف اتناہے کہ ہمیں گولی چلانی پڑی۔مصری سفیرکے ان الفاظ نے ان کے خلاف لندن میں نفرت کاگراف بڑھادیاہے اور ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے مصری سفیر کی بے دخلی کامطالبہ سامنے آگیاہے تاہم لندن میں مصری سفیراشدالخولی کے اس بیان سے مصری عزائم ضروربے نقاب ہوگئے ہیں جس میں اس نے کہاکہ”اخوان کونازیوں کی طرح مٹادیاجائے گا، مصری تہذیب اسلام کے مقابلے میں پانچ ہزارسال پرانی ہے اوراخوان اصرارکرتے ہیں کہ اسلام کوغالب کیاجائے اس لئے انہیں مٹادیاجائے گا “۔ اس سے یہ سمجھنامشکل نہیں رہتاکہ اصل مسئلہ کیاہے مگرسوال یہ ہے کہ مصری فوج اسلام کے خلاف 5ہزارسال پرانی فرعونی تاریخ کے دفاع پرفخرکررہی ہے مگرخادمین حرمین شریفین کی حکومت ان کی پشت پناہی کیوں کررہی ہے؟کیونکہ اس وقت دنیابھرمیں سعودی حکومت ہی وہ واحدحکومت ہے جومصری فوج کی پشت پناہی کررہی ہے یاپھراسرائیل ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ یورپی یونین تجارتی پابندیاں عائد کردے گی جب کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی مصری حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ وہ انسانی حقوق کے مانیٹرمصرمیں تعینات کرنے کی اجازت دے ۔اس سے قبل وہ 37 قیدیوں کے قتل کی تحقیقات کابھی مطالبہ کرچکے ہیں جس کے حوالے سے مصری حکومت کاموٴقف یہ ہے کہ ان قیدیوں جن کا تعلق اخوان سے تھا،انہیں جیل منتقل کیاجارہاتھاکہ انہوں نے ایک جیل افسرکویرغمال بنالیاجس پران کے خلاف مسلح کاروائی کرنی پڑی جبکہ آزادذرائع اس کی تصدیق نہیں کرتے کیونکہ لاشوں پرتشددکے نشان ہیں اورچہرے مسخ کئے ہوئے ہیں۔ مصری حکومت کے حامیوں میں بھی پھوٹ پڑگئی ہے۔ محمد البرادعی کے اقتدارسے الگ ہونے کے بعدمزیدلوگوں کی علیحدگی روکنے کی خاطر صدرنے البرادعی کے خلاف بھی مقدمہ چلانے کاحکم دے دیاہے جب کہ دوسری جانب فوج اور پولیس میں بھی وسیع پیمانے پرگرفتاریاں جاری ہیں کیونکہ ان دونوں فورسز نے لوگوں کے قتل عام پراحتجاج کیاتھا اور بعض نے توساتھ دینے سے بھی انکارکردیاتھا۔مصری حکومت ان گرفتاریوں کودوسروں کیلئے نشانِ عبرت بناناچاہتی ہے اور امریکی دوستوں کے مشوروں پرعمل کواشتعال دلانے اور اخوان کوتشددپرابھارنے کی خاطرسابق آمراورڈکٹیٹر حسنی مبارک کورہاکرکے ان کے سابق محل میں واپس لایا جا رہا ہے۔ مگرمبصرین اس پرمتفق ہیں کہ حسنی مبارک کی رہائی قابض فورسزمیں انتشارکاسبب توبن سکتی ہیں مگراخوان کی صفوں میں کوئی ارتعاش پیدانہیں کرسکے گی اوروہ وقت جلد آنے والاہے جب اس خطے میں عرب بہار کے نام پرکھلبلی مچانے والی صہیونی اوراستعماری قوتوں اوران کے ایجنٹوں کو بھی ماضی کے فراعین کی طرح اس طرح عبرت کانشان بنادیاجائے گاکہ صدیوں تاریخ ان کی گواہی دے گی۔ ( سمیع اللہ ملک … لندن)