مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پولیس نفری سے مزاحمت کے دوران ناظم دین کی ہلاکت کا معاملہ پیچیدہ ہو گیا ..!!
لیڈز ...پاکستانی نژاد ناظم دین کی اپنے بیٹے کی گرفتاری کیلئے آئی پولیس نفری سے مزاحمت کے دوران ہلاکت کا معاملہ خاصا پیچیدہ ہو گیا ہے ۔ ناظم دین کے اہل خانہ اور دیگر محلے والوں نے پولیس پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے ناظم دین کو جس بیدردی سے دھکا دیا ، وہ وہیں تڑپ تڑپ کر دم توڑ گیا ۔ اہل خانہ اور محلے والے چیختے چلاتے رہے لیکن پولیس مبینہ طور پر ٹس سے مس نہ ہوئی جس کی بدولت ایمبولنس 20منٹ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچ پائی اہل خانہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس کے اہلکار گرے ہوئے ناظم دین کے اوپر سے پھیلانگتے رہے اور یہ کہ وہ زندہ ہے یا مر گیا ہے دیکھنے کی تکلیف تک گوارہ نہ کی گئی ۔ واضح رہے کہ تین روز قبل پولیس کی ایک بھاری نفری نے لیڈز کے علاقے ورٹلے میں مقیم ناظم دین کے گھر اس کے ایک بیٹے ندیم ناظم کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مارا اور تصدیق کئے بغیر کہ جے وہ گرفتار کر رہے ہیں وہ ندیم ناظم ہے یا نہیں گھر سے ایک نوجوان کو حراست میں لے کر گاڑی میں دھکیل دیا ۔ اس دوران 54سالہ ناظم دین جو معذوری کی وجہ سے واکنگ اسٹکس استعمال کرتا تھا لڑ کھڑاتے پولیس کی جانب یہ بتانے کیلئے بڑھا کر پولیس جسے گرفتار کر رہی ہے وہ ندیم نہیں نوید ہے ، لیکن پولیس بدستور اپنی کارروائی میں مصروف رہی ذرائع کے مطابق جب ناظم دین پولیس کی جانب بڑھا تو ایک پولیس اہلکار نے اسے زور سے دھکا دیا جس سے وہ وہیں زمین بوس ہو گیا اور بے ہوش ہو گیا بعد ازاں ناظم دین کی ہلاکت ہو گئی ۔ جس پر نہ صرف ناظم دین کے لواحقین نے شدید برہمی کا اظہار کیا بلکہ پاکستانی اور دیگر کمیونٹی کے نمائندوں نے پولیس کی اس جارحانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری طور آزادانہ انکوائری کروائی جائے اور ذمہ دار افراد ویسٹ یاکشائر پولیس حکام نے فوری طور انکوائری کیلئے ایک کمیشن ترتیب دیا ہے جو عملے والوں سے حقائق جاننے کیلئے انٹرویو کر رہا ہے تاہم پولیس ابھی کسی قسم کا بیان دینے سے گریزاں ہے ۔مرحوم کے قریب عزیز محمد شفیقنے برطانوی میڈیا پر شدید تنقید کی کہ وہ ریڈیو ٹی وی اور اخبارات میں وہی دکھا رہے ہیں جو انہیں پولیس بتا رہی جو صریحاً جانبدامانہ رویہ ہے تاہم ہم اپنی آواز بلند کرنے کیلئے ہر وہ حربہ استعمال کریں گے جس سے عام لوگوں کو آگاہی ملے کہ پولیس 160سال یہاں رہنے کے باوجود بھی نسلی امتیازی رویوں کا اظہار کرتے ہوئے کارروائی کرتی ہے ۔ محمد شفیق اپنے دیگر رشتہ داروں اور ناظم دین کے بھائی اور بیٹوں کے ہمراہ انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ناظم دین کے بیٹے پولیس کی حراست میں اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے والد کو تڑپ تڑپ کر جان دیتے بے بسی کی حالت میں دیکھتے رہے ۔ محمد شفیق کا کہنا تھا کہ اس سارے واقعہ کی ٹیلی فون کیمرہ میں فلم بھی بنی ہے جو یو ٹیوب پر موجود ہے جس میں واضح طور پر پولیس کی جارحانہ کارروائی کو دیکھا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حقیقتاً پولیس ایسی کارروائیوں سے نہ صرف ہمارے ساتھ بلکہ پورے انگلینڈ میں ایشیائی نوجوانوں کے ساتھ یہی رویہ اپنائے ہوئے ہے جبکہ اگر ایسا کوئی جرم کسی گورے نے کیا ہوتا تو اس کیلئے ایک آدھ پولیس اہلکار معمول کی کارروائی کے طور پر نمٹا دیتا لیکن یہاں معاملہ برائون کھال کا تھا اس لئے پورے محلے میں گاڑیوں کا جال بچھا کر کارروائی کی گئی ۔