مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
لٹل پاکستان بریڈفورڈ میں پی ٹی آئی کے رہنمائوں کا صدر آزاد کشمیر کے اعزاز میں استقبالیہ
بریڈفورڈ ... اقتدار آنی جانی چیز ہے لیکن ریاستی مفادات کے بدلے ہمیں اقتدار نہیں چاہئے بلکہ اپنے حق کیلئے ڈٹ جانا چاہئے اور کسی کو اپنا حق مارنے کی اجازت نہیں دینا چاہئے، آزادکشمیر حکومت اپنے حق کیلئے آواز بلند کرناجانتی ہے اور اگر ہمارے مفادات پر زد آئے تو ہم کشمیر کونسل اورحکومت پاکستان سے کھل کر بات کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار برطانیہ کے دورے پر آئے صدر پاکستان سردار یعقوب خان نے راجہ شیراز اختر کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے ایک بڑے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حافظ محمد جمشید کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہونے والی اس تقریب میں نظامت کے فرائض شرجیل ملک نے ادا کئے۔ اس سے قبل جب صدر آزادکشمیر جلسہ گاہ پہنچے تو عمائدین شہر نے ان کا پرتپاک استقبال کیا جبکہ صدر آزادکشمیر نے بھی شرکائے استقبالیہ سے ان کے میزوں پر جاکر مصافحہ کیا۔ استقبالیہ سے سابق لارڈ میئر محمد عجیب، غضنفر خالق، کونسلر جاوید اختر لیڈز گوہر الماس خان، عشرت مرزا، راجہ شیراز اختر، راجہ اے ڈی خان اور پاک کشمیر فورم کے آصف خان نے خطاب کیا۔ مقررین نے پاکستان اور آزادکشمیر کی اندرونی سیاست کو نظر انداز کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر اور اس سلسلہ میں بیرون ملک ہونے والے کام کو اپنا موضوع بنایا انہوں نے برطانیہ میں اس سلسلے میں ہونے والے کام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے برطانیہ میں آباد کشمیریوں اور پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ فلسطین اور برما کی طرح مقبوضہ کشمیر میں کی جانے والی زیادتیوں اور جبر استبداد کو بھی اجاگر کریں۔مقررین نے کہا کہ برطانیہ کے کشمیریوں کو اس سلسلے میں برطانوی مزدور تنظیموں کو بھی اپنے ساتھ ملانا ہوگا اور اس مسئلہ کو وہی شکل دینا ہوگی جو فلسطین کے مسئلہ کو حاصل ہے۔ انہوں نے برطانیہ میں بسنے والے کشمیریوں کو کشمیر کا سفیر قراردیا۔ انہوں نے برطانیہ کے پڑھے لکھے جوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ آرمی، نیوی اور دوسری افواج میں شامل ہوکر اپنا مستقبل روشن کریں۔ انہوں نے وزیر صحت کی حیثیت سے آزادکشمیر میں کئے جانے والے کام میں بریڈفورڈ کے تعاون کو خاص طور پر یاد کرتے ہوئے بریڈ فورڈ کے شہریوں کا شکریہ ادا کیا اور انہیں تاکید کی کہ اگر انہیں آزادکشمیر میں کسی بھی قسم کا کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ آزادکشمیر کے محتسب کو اس بارے میں خط لکھیں جسکی ایک کاپی انہیں بھیجیں۔ صدر آزادکشمیر کو استقبالیہ پی ٹی آئی کے رہنما راجہ شیراز اختر نے ذاتی حیثیت سے دیا تھا تاہم استقبالیہ کے تمام انتظامات پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ہاتھوں میں تھے۔ استقبالیہ کمیٹی سے لیکر استقبالیہ کی نظامت تک تمام امور پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ہی انجام دیئے جبکہ ہال میں اکثریت بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں کی تھی جس کے باعث استقبالیہ کے دوران یہ چے میگوئیاں بھی تقریب کا حصہ رہیں کہ کہیں صدر آزادکشمیر بھی تو تحریک انصاف میں شامل نہیں ہو رہے۔