مقبول خبریں
پاکستان کا دورہ انتہائی کامیاب رہا ،ممبر برطانوی پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ و دیگر کی پریس کانفرنس
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دہشت گردی کا تدارک
شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ سرکاری سطح کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی سب ہی نے یک آواز ہوکر پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی پے بہ پے وارداتوں میںبھارتی ایجنسی راء کے ملوث ہونے کو تسلیم کیا۔ نہ صرف تسلیم کیا بلکہ بہ بانگ دہل راء اور حکومت بھارت کی مذمت بھی کی۔ پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں راء کے ایجنٹوں کے ملوث ہونے کے شواہد پہلے بھی کثرت سے ملتے رہے ہیں لیکن اس بار یہ ہوا کہ کراچی آپریشن کے دوران یکے بعد دیگرے بہت سے ایسے افراد سیکیورٹی اداروں کے ہتھے چڑھ گئے کہ جو کسی واردات کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے یا پھر کسی واردات کی کامیابی کا جشن منانے میں مگن تھے۔ ویسے بھی سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد پاکستان آرمی، انٹیلی جنس ادارے ، رینجرز،پولیس اور حکومت پاکستان اور سب سے بڑھ کر عوام، دہشت گردوں کے خلاف کچھ اس انداز سے متحد ہوئے کہ دہشت گردوں کے لیے چھپنا اور بچنا بہت مشکل ہوگیا۔ پھر یہ بھی ہوا کہ افغانستان میں کرزئی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی بھارت کی گود میں پلنے والے اور کرزئی صاحب کے دامن میں پناہ لینے والے دہشت گرد بے آسرا اور یتیم ہوگئے۔وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اورچیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر کی ہمراہی میں کئی بار افغانستان کا دورہ کیا اور جناب اشرف غنی کو یقین دلایا کہ پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعاون کے بغیر دونوں ممالک سے دہشت گردی کا خاتمہ کسی صورت ممکن نہیں ہوگا۔ اس مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں دونوں ممالک میں حالات بڑی حد تک قابو میں آگئے لیکن ظاہر ہے حالات کی یہ پرسکون صورت بھارت کے لیے کچھ زیادہ اطمینان کا باعث نہیں تھی۔ چنانچہ بھارتی ایجنٹوں نے ایک نئی ہمت کے ساتھ کمر باندھ لی اور ملک بھر میںگڑ بڑ اور انتشار پھیلانے کے لیے اپنی مکروہ کاروائیوں کا آغاز کر دیا ۔گذشتہ دنوں کراچی میں اسماعیلی افراد کی ایک بس میں کیا جانے والا قتل عام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہمت اور جذبے کے ساتھ ساتھ عقل اور احتیاط کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ ہمیں مل جل کر ان اسباب و عوامل پر غور کرنا ہوگا جو دہشت گردی کے فروغ کا باعث بنتے ہیں۔دہشت گردی پر بات کرتے ہوئے ہمیں یہ حقیقت بحر حال ذہن میں رکھنی چاہیے کہ دہشت گردی کی کوئی بھی واردات مقامی سہولت کار کی مدد اور تعاو ن کے بغیر کبھی بھی تکمیل تک نہیں پہنچ سکتی۔ مقامی سہولت کار، باہر سے آنے والے دہشت گرد کو نہ صرف رہائش اور خوراک فراہم کرتے ہیں بلکہ ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کے لیے ضروری معلومات بھی فراہم کرتے ہیں۔ واردات میں کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں میں دہشت گرد کو عارضی پناہ بھی سہولت کار ہی کی طرف سے دی جاتی ہے۔آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ عموما دہشت گردی کی ہر و اردات کے بعد قانون نافذ کرنے وا لے ادارے آس پاس کے علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کردیتے ہیں ۔ اس آپریشن کا بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے کہ اگر کوئی دہشت گرد جان بچا کر اپنے سہولت کار تک پہنچ گیا ہے تو اسے پکڑا جاسکے۔کراچی آپریشن میں گرفتار ہونے والے بہت سے مجرمان نے جہاں اپنے ساتھیوں کے بارے میں معلومات فراہم کیں وہیں اپنے سہولت کاروں کا بھی پتہ دیا۔اور پھر ان فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں دہشت گردوں کے کئی نئے نیٹ ورک سامنے آئے۔ سہولت کاروں کا کردار کسی بھی واردات میں نہایت بنیادی نوعیت کا ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ سہولت کار کبھی بھی وہ لوگ نہیں ہوتے جو کسی بھی علاقے میں مدت سے رہ رہے ہوں، جنہیں آس پاس کے لوگ مکمل طور پر جانتے ہوں، جن کے افراد خانہ سے اہل محلہ کی مکمل شناسائی ہو اور جن کی عمومی تفصیلات سے ارد گرد کے لوگ آشنا ہوں۔ سہولت کار بالعموم مرکزی آبادی سے ہٹ کر مضافاتی یا پھر نئی آبادیوں میں کرائے پر مکان لے کر عارضی رہائش اختیار کرتے ہیں۔ مالک مکان سے کرائے کے معاملات میں زیادہ بحث مباحثے سے گریز کرتے ہیں اور عموما مالک مکان کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ عدالت کچہری میں جا کر کرایہ نامہ درج کرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ ایسے لوگ آس پاس کے لوگوں سے نہ تو زیادہ میل جول رکھتے ہیں نہ ہی ہمسایوں کی خوشی غمی میں کسی قسم کی شرکت کرتے ہیں۔ان کی کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں کو ان کے بارے میں زیادہ جانکاری نہ ہو۔سہولت کار عموما ایسے مکانات کرائے پر لینے کی کوشش کرتے ہیں جن میں گیراج کے اندر ایک سے زائد گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش ہو اور ان گھروں کی چار دیواری عام گھروں سے اونچی ہو۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ حکومت کی جانب سے نہایت سخت اور نہایت واضح ہدایات کے باوجود اکثر و بیشتر مالکان مکان نہ تو اپنے کرائے نامے کو عدالت میں رجسٹرڈ کرواتے ہیں نہ ہی متعلقہ تھانے کو اپنے کرائے دار کی معلومات سے آگاہ کرتے ہیں۔ وجہ صرف یہ ہے کہ عدالت میں کرایہ نامہ رجسٹرڈ کروانے سے مکان کا کرائے پر ہونا ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن والوں کی نظر میں آجاتا ہے اور غالبا سال میں دو کرائے کی مالیت لگ بھگ ٹیکس جمع کروانا پڑ جاتا ہے۔ تھانے میں جاکر اپنے کرائے دار کی معلومات درج کرانا بھی بحر حال کوئی بہت خوشگوار تجربہ نہیں ہوتا، لوگ تھانے جاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ اس صورت حال سے بچنے کے لیے محکمہ پولیس کی طرف سے آبادی کے درمیان کسی بارونق جگہ پر ایسا دفتر بنا دیا جانا چاہیے جس کا ماحول تھانے والا نہ ہو۔ ایسے دفتر میں کسی بھی ذمے دار اور باکردار شخص کو کرائے داروں کے کوائف جمع کرنے کی ذمے داری سونپی جاسکتی ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ اس دفتر میں ڈیوٹی دینے والے کا تعلق محکمہ پولیس ہی سے ہو۔ پراپرٹی ٹیکسیشن کے حوالے سے بھی قوانین کو نرم کرنے کی ضرورت ہے۔ماضی میں پولیس کا شعبہ سی آئی ڈی نہایت متحرک ہوا کرتا تھا۔ لوکل نیٹ ورکنگ سسٹم کے تحت ہر گلی ہر محلے میں پولیس کے مخبرمتعلقہ تھانے کو علاقے میں ہونے والی ہر نئی بات یا پھر غیر معمولی موومنٹ کی خبر پہنچادیتے تھے، یہ اس زمانے کی باتیں ہیں جب نہ موبائل فون ہوتے تھے نہ انٹرنیٹ کی سہولت، نہ ہی پولیس کے پاس آج جیسی جدید گاڑیاں اور وسائل ہوا کرتے تھے لیکن پھر بھی جرائم کی شرح آج کے مقابلے میں بہت کم تھی۔اگر دہشت گردی کو روکنا ہے تو پولیس کو اپنے سی آئی ڈی شعبے کو نئے سرے سے منظم اور متحرک کرنا ہوگا۔ تھانوں کے علاقے زیادہ پھیلے ہوئے ہوں تو بھی پولیس کے لیے جرائم کو کنٹرول کرنا نامشکل ہوجاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ تھانوں کی تعداد بھی بڑھائی جائے اور ہر تھانے کی علاقائی حدود کو بھی محدود کیا جائے۔پولیس، فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں سے وابستہ افراد اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر عوام کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ عوام کو ان اداروں کی قربانیوں سے آگاہ کیا جائے، لوگوں کو یہ بھی سمجھانے کی ضرورت ہے کہ پولیس ہو یا پھر فوج، ان اداروں سے وابستہ افراد بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں، ہمارے جیسے گھروں میں ہی رہتے ہیں، ہماری طرح ہی ان کے ماں باپ بھی ہوتے ہیں اور دیگر اہل خانہ بھی، پولیس والے کو گولی لگ جائے تو اسے بھی ہماری طرح ہی تکلیف بھی ہوتی ہے اور اس کے اہل خانہ بھی اس کی موت پر ویسے ہی آنسو بہاتے ہیں جیسے ہم اپنے پیاروں کے بچھڑنے پر روتے ہیں۔ہمیں اپنی قوم کو اپنے سیکیورٹی اداروں سے محبت کرنا سکھانا ہوگی۔ محبت اور قربانی شاید ایک ہی جذبے کے دو نام ہیں۔