مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جموں و کشمیر کے 15 ملین عوام کو بھی برصغیر کے دیگر عوام کی طرح بنیادی حقوق ملنے چا ہیئں: وکٹوریہ سکو فیلڈ
بریڈ فورڈ : ریاست جموں و کشمیر کے تمام عوام کو حق خودارادیت ملنا چاہئے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا تدارک کیا جائے ۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں ترمیم کرکے کشمیریوں کو تیسرا آپریشن خود مختاری بھی ملنا چاہئے ۔ برٹش کشمیری عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول میں معاونت کریں نو منتخب کشمیری نژاد برطانوی ممبر پارلیمنٹ عمران حسین کی طرف سے پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر کو بھر پور انداز میں اٹھانے کے عزم کا اظہار جبکہ بریڈ فورڈ لٹریچر فیسٹیول کے زیراہتمام کشمیر سیمینار سے ممتازدانشور اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی ترجمان وکٹوریہ سکو فیلڈ کی زیر صدارت دانشوروں کے پینل میں سردار عبدالرحمن خان ، اینڈرویو وائٹ ہیڈ ، فہید شاہ ، دلیپ ہیرو کا اظہارخیال اور مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر میں مکالمہ ہوا ۔ اس موقع پر بریڈف ورڈ ایسٹ سے سابق ممبر پارلیمنٹ اور کشمیریوں کے دوست ڈوڈ وارڈ اور کیتھلے سے لیبر پارٹی کے پارلیمانی امیدوار سابق ممبرپارلیمنٹ جان گروگن کے علاوہ بریڈفورڈ کے سابق لارڈ میئرز محمد عجیب سی بی جی ، چوہدری رنگ زیب ، راجہ غضنفر خالق، جموں و کشمیر تحریک خوادارادیت یورپ کے چیئرمین راجہ نجابت حسین ، خواتین رہنمائوں کونسلر یاسمین ڈار ، سابق کونسلر کنیز اختر ، صبیحہ خان ، نویدہ خان ، کلثوم اختر ، غزالہ کاظمی ، فیروزہ ضمیر ، شبانہ عباسی ایم بی ای ، صبیحہ محبوب ، ڈاکٹر نشاط چوہدری ، صائمہ اسلم ، سابق کونسلر چوہدری الطاف حسین پوٹھی ، شاہ محمد کھوکھر ، چوہدری مطلوب حسین ، راجہ اشتیاق احمد ، چوہدری کرامت حسین ، ابرار احمد ، الحاج شفیق چوہان ، چوہدری خالد محمود ، چوہدری اکبر علی ، چوہدری غالب حسین ، تحریک آزادی کشمیر کے رہنما قاصی واحد ، بریڈ فورڈ کونسلر کے سابق لیڈر آئین گرین وڈ ، سابق کونسلر چوہدری امداد حسین کے علاوہ خواتین و حضرات کی کثیر تعداد نے شرکت کرکے جہاں پینل کو سنا وہاں نو منتخب ممبر پارلیمنٹ عمران حسین اور دیگر رہنمائوں کے سوالات اور جذبات سے بھی آگاہی حاصل کرتے ہوئے بریڈ فورڈ تشریف لائے ۔ فیسٹیول کی آرگنائزرز صابمہ اسلم اور ارفا قریشی کے علاوہ انکے معاون راجہ نجابت حسین کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے اس ثقافتی اور تعلیمی میلے میں مسئلہ کشمیر جیسے تاریخی مسئلہ پر دانشوروں اور عوامی خیالات سے آگاہی کا اہتمام کیا ۔ ممبر پارلیمنٹ عمران حسین نے کہا کہ وہ ریاست جموں و کشمیر کے سپوت ہونے کی حیثیت سے اپنی قوم کا کہیں نہ صرف برطانوی پارلیمنٹ میں لڑیں گے بلکہ اس فورم کے ذریعے برطانوی حکومت کو بھی برٹش کشمیریوں کے حقیقی جذبات سے آگاہ کرینگے جبکہ کشمیری قوم سے اپیل کرینگے کہ وہ آپس میں نظریات کے نام پر تقسیم ہونے کی بجائے حق خوددارایت کے مرکزی نکتے پر مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کریں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پہلے مرحلے میں پینل کی رائے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے اور عالمی برادری کو ان خلاف ورزیوں کانوٹس لیکر ہندوستان پر اپنا دبائو ڈالنا چاہئے ۔ عمران حسین نے بریڈ فورڈ کی ان دونوں خواتین کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوںنے بریڈ فورڈ کے تمام اداروں کے ساتھ ملکر شہر میں تعلیم اور ثقافت کی بہتری کیلئے اتنے بڑے پروگراموں کا انعقاد کروایا کشمیر سیمینار کی چیئرپرسن وکٹوریہ سکو فیلڈ نے اپنے ابتدایہ میں بتایا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر گزشتہ پچیس سال سے کام کر رہی ہیں اور انہوں نے اس مسئلہ پر چار کتابیں بھی لکھی ہیں اور انکی خواہش ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے 15 ملین عوام کو بھی دیگر برصغیر کے عوام کی طرح بنیادی حقوق ملنے چاہیں ۔ انہوں نے پینل کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ اس پینل میں لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کے نمائندوں سردار عبدالرحمن اور فہد شاہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیلئے اپنے اپنے طریقوں سے جدوجہد کر رہے ہیں ۔ سردار عبدالرحمن خان جموں و کشمیر تحریک حق خوادارایت یورپ کے سرپرست اور آزاد کشمیر کے بانی صدر سردار محمد ابراہیم کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ فہد شاہ سری نگر سے تعلق رکھنے والے خود مختیار کشمیر کے حمایتی نوجوان ہیں جنہوں نے مقبول بٹ شہید کی والدہ پر ایک دستاویزی فلم بنائی ہے جس میں مقبول بٹ کے فلسفے اور زندگی پر بھی عکس بندی کی گئی ۔ اینڈریو وائٹ ہیڈ اور دلیپ ہیرو دونوں برصغیر کی تقسیم اور کشمیر کے حالات پر مکمل عبور رکھتے ہیں اور سری نگر کا دورہ بھی کرتے رہتے ہیں ۔ ممتاز سکالر اینڈریو وائٹ ہیڈ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کی ابتدا 1947ء میں ڈوگرہ حکمران کے خلاف قبائلی لشکر کے ریاست میں داخلے سے شروع ہوئی جس سے مجبور ہو کر مہنداجہ نے ہندوستان سے الحق کیا اور اقوام متحدہ میں کشمیر پرقراردادیں پاس ہوئیں مگراس دن سے لیکر اب تک حالات اتنے بدل گئے ہیں اور بھارت کیلئے کشمیر پر قبضہ جاری رکھنا اور اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دینا سیاسی اور دفاعی نکتہ نظر سے ضروری ہے حالانکہ تقسیم ہند کے فارمولے کے مطابق ریاست کی مسلمان آبادی کے پیش نظر اور تجارتی ، مذہبی اور ثقافتی روابط کی وجہ سے کشمیر کی ریاست پاکستان کی طرف جانی چاہئے تھی مگر بھارت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی کی وجہ سے مقامی برادری برطانیہ سمیت کشمیر میں رائے شماری کیلئے دبائو نہیں ڈال رہے ۔ تحریک کے سرپرست سردار عبدالرحمن خان نے تاریخی حوالوں سے ثابت کیا کہ ڈوگرہ مہاراجہ قبائلی لشکر کی وجہ سے نہیں بلکہ 70 ہزار سے زائد ریاست کے ان ریٹائرڈ فوجیوں کی بھارت سے بھاگ نکلا اور بھارت کے پندرہ سے زائد سرکردہ سیاستداوں نے دبائو ڈال کر اس سے جموں میں لارڈ مائونٹ بیٹن کو خطوط لکھوائے مگر آج تک الحاق کی کسی دستاویز کا ثبوت نہیں ملا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی قوانین بلکہ وحدہ کی پاسداری کی مگر بھارت خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گیا تھا اس نے آج تک عالمی ادارے کی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی پاکستان کی آزادی سے بھی قبل شروع ہوئی تھی اور آج بھی ریاستی عوام دیا بھر میں اپنے وطن کی آزادی کیلئے اندرون ریاست اور بیرون ملک جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور پوری ریاست کے عوام کے حقوق کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں رہنے والے کشمیری بھی اس تحریک کا سفارتی ونگ ہیں اور حق خودارادیت کیلئے ہر پلیٹ فارم پر کوششیں کریں گے ۔ سری نگر سے آئے ہوئے کشمیری نوجوان فہد شاہ نے جہاں بھارت کی طرف مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ سڑسٹھ سال کے مظالم کاذکر کرتے ہوئے وادی کے کشمیریوں کی طرف سے الحاق بھارتکو نا ممکن قرار دیا اور کہا کہ وادی کشمیر میں ہر گھر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متاثر ہے اور ان کے دن میں بھارت کیخلاف نفرت ہے مگر انکے اپنے حالات اور بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں خواہش ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے خود مختاری کا آپشن بھی لوگوں کو ملنا چاہئے تا کہ وہ کسی دبائو یا حرف الحاق کے نام پر ووٹ نہ دیں بلکہ اگر اکثریت خود مختار کے حق میں بھی فیصلہ دے تو دونوں ممالک کو قابل قبول ہو ۔ ممتاز بھارتی دانشور دلیپ ہیرو نے اپنی کتاب اور شیخ عبداللہ کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بے شک نہرو نے کشمیری عوام سے حق خوادرادیت کا وعدہ کیا تھا مگر اسے 1953ء میں پتہ چلا کہ اگر مقبوضہ وادی میں رائے شماری کرائی تو وہ ہار جائیں گے اور شیخ عبداللہ کو گرفتار کرکے بخشی غلام محمد کو اقتدار دیکر اس نے بڑی سیاسی غلطی کی ۔ دلیپ ہیرو نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں بھارت اور پاکستان دونوں سنجیدہ نہیں اور دونوں حکومتوں کے سربراہوں کو ایک دوسرے پر اعتبار نہیں جبکہ دونوں ممالک کے فوج بھی اس مسئلہ کا مکمل حل نہیں چاہئے ۔ انہوں نے کشمیریوں کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کا کلچر کاروبار اور دیگر مسائل کے حل میں مسئلہ کشمیر کو رکاوٹ نہیں بنانا چاہئے تا کہ اچھے حالات اور بہتری باہمی تعلقات کی روشنی میں دونوں ممالک کے عوام ترقی کر سکیں اور شائد اچھے تعلقات کی روشنی میں مسئلہ کشمیر بھی حل ہو سکے ۔ اس موقع پر سابق لارڈ میئر محمد عجیب سی بی جی ، شاہ محمد کھوکھر اور صبیحہ خان نے پینل سے سوالات بھی کیئے جبکہ صائمہ اسلم ، راجہ نجابت حسین نے پینل سمیت حاضرین کا بھی شکریہ ادا کیا ۔بیورو رپورٹ:فیاض بشیر