مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نلترائر کریش
۹ مئی کو گلگت کے علاقے نلتر میں ہونے والے ہیلی کاپٹر حادثے پر ساری قوم رنجیدہ بھی ہے اور سوگوار بھی۔اس حادثے میں ۷ افراد جان سے گئے اور باقی سترہ افراد شدید زخمی ہوئے۔اس حادثے میں پاکستانی قوم اپنے دو انتہائی مشاق ہوابازوں سے بھی محروم ہوئی اور ایک انتہائی جان نثار سپاہی سے بھی لیکن اس سے بھی بڑھ نقصان یہ ہوا کہ پاکستان میں اپنی سفارتی ذمے داریاں نبھانے والے ناروے اور فلپائن کے سفیر صاحبان کے علاوہ ملائیشیا اور انڈونیشیا کے سفیر صاحبان کی بیگمات محترم بھی اس فضائی حادثے میں زندگی سے محروم ہوگئیں۔ حادثات زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔بعض صورتوں میں غیر معمولی احتیاط کے ذریعے حادثات سے بچا جا سکتا ہے لیکن اکثر و بیشتر غیر معمولی احتیاط بھی حادثات کو وقوع پذیر ہونے سے روک نہیں پاتی۔ زمین کی نسبت پانی اور فضاء میں انسان مقابلتاّ زیادہ غیر محفوظ ہوتا ہے۔ اسی لیے سمندر اور فضاء میں ہونے والے حادثات میں بچنے والوں کی شرح زمینی حادثات میں بچ جانے والوں کے مقابلے میں نہ ہو نے کے برابر ہوتی ہے۔صرف 2014 میں دنیا بھر میں ہونے والے فضائی حادثوں میں ایک ہزار کے لگ بھگ افراد جان سے گئے اور بہت سے ایسے ہیں جن کے زندہ ہونے کا کوئی ثبوت ملا نہ ہی ان کی ڈیڈ باڈی۔UNHCR کی ایک رپورٹ کے مطابق 2014 میں ڈھائی ہزار سے زائد افراد کو سمندر کی لہروں نے نگل لیا۔حادثات و آفات کی سنگینی اور د الخراشی کو پل بھر کو ایک طرف رکھ کر دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ حادثات و آفات انسانوں کو انفرادی سطح پر اور ملکوں اور قوموں کو اجتماعی سطح پر ایک دوسرے کے قریب لانے کا باعث بنتے ہیں۔ زلزلے، سیلاب طوفان اور قحط کی صورت میں بین الاقوامی سطح پر ایک دوسرے کی مدد کرناایک اچھی روایت بھی ہے اور ایک روشن مثال بھی۔ کسی بڑے سانحے کی صورت میں ایک دوسرے سے اظہار افسوس اور تعزیت بھی اسی روشن روایت کا حصہ ہے۔ لیکن نلتر کے علاقے میں ہونے والے حالیہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد بھارتی میڈیا نے جس قابل مذمت رویے کا مظاہرہ کیا، اس کی مثال بھی ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ حادثے کے فوری بعد سے بھارتی میڈیا نے ایک باقائدہ مہم کی صورت شور مچانا شروع کر دیا کہ یہ واقعہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ دہشت گردی کی کارروائی تھی۔ اس مذموم مہم میں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی راء کی براہ راست آشیر باد اور سرپرستی میں کام کرنے والی ویب سائٹس اور ای۔پیپرز اور اخبارات پیش پیش رہے۔ مقصد صرف یہ تھا کہ دنیا کو یہ تائثر دیا جائے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف جدوجہد میں جس کامیابی کا دعوے دار ہے، اس کامیابی کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔ حادثے کو دہشت گردی قرار دینے کی کوششوں کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ دنیا کو باور کرایا جاسکے کہ پاکستان اپنے ملک میں فرائض سر انجام دینے والے غیر ملکی سفیروں کی بھی حفاظت نہیں کر سکتا، لہذا تمام ممالک کو اپنے سفیر پاکستان بھیجتے ہوئے احتیاط سے کام لینا چاہیے کیونکہ پاکستان اب کسی کے لیے بھی محفوظ جگہ نہیں رہی۔ بھارتی میڈیا کی طرف سے اس طرح کا رویہ تکلیف دہ ضرور ہے لیکن کچھ نیا نہیں۔پاکستان مخالف پراپگینڈے میں ٹائیمز آف انڈیا نامی ایک اخبار ہمیشہ پیش پیش نظر آتا ہے۔ نلتر حادثے میں بھی سب سے پہلے اسی اخبار نے اپنی ویب سائٹ پر تخریب کاری اور دہشت گردی کے امکانات کا شوشہ چھوڑا تھا۔ اس سے پہلے ،سال 2015کے بالکل آغاز میں بھارتی ساحلوں کے نزدیک ایک پاکستانی کشتی کو خود کش بمباروں کی کشتی قرار دیتے ہوئے، اس کے پھٹنے کی اطلاع اور اس ساری کاروائی کو آئی ایس آئی کی سازش قرار دینے کا بھارتی فریضہ بھی اسی اخبار نے سر انجام دیا تھا۔ اسی اخبار کی ویب سائٹ کی خبر کو بنیاد بنا کر بھارتی میڈیا کے ایک مخصوص سیکشن نے پاکستان کو بدنام کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ بعد میں ایک سینئیر ساحلی محافظ بی۔کے۔لوشالی نے ایک بیان میں اس ساری پراپگینڈہ مہم کی قلعی کھول کے رکھ دی تھی۔لوشالی کا کہنا تھا کہ وہ کشتی ملاحوں کی کشتی تھی، ہم نے اسے اپنے ساحلوں کے قریب دیکھ کر وارننگ دی لیکن کشتی رکنے کی بجائے اور تیز ہوگئی، جس پر ہم نے اس کشتی پر بارودی حملہ کردیا، نتیجے میں کشتی کے پرخچے اڑ گئے۔یہاں قارئین کی معلومات کے لیے یہ بھی عرض ہے کہ ٹائمز آف انڈیا نامی یہ اخبار بھارت کے دوسرے اخبارات سے اپنے نام کی مماثلت کا اکثر فائدہ اٹھاتا ہے۔ لوگ غلط فہمی میں اس اخبار کو انڈین ایکسپریس، انڈیا ٹائمز۔ انڈیا ٹوڈے اور ایسے ہی دوسرے بڑے اخبارات کا ہم پلہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔مذکورہ اخبار مبینہ طور پر ایک پاکستانی میڈیا گروپ کے بزنس پارٹنر کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ فضائی حادثے بلاشبہ زندگی کا حصہ ہوتے ہیں ، ان سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے، لیکن ہر حادثے کو تخریب کاری قرار دینا حماقت بھی ہے اور زیادتی بھی۔ نلتر میں فوجی ہیلی کاپٹر کو جو حادثہ پیش آیا، اس کے محرکات اور اسباب پر پاکستان آرمی ہر ممکن حد تک تحقیقات کر رہی ہے۔تاہم نلتر حادثے کو تخریب کاری قرار دینے والوں کو اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ پاکستان آرمی کا شمار آج بھی دنیا کی چند بہترین افواج میں ہوتا ہے اور آئی ایس آئی دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسی سمجھی جاتی ہے۔ ہماری فوج سے تو مشکل وقت میں انتہائی طاقت ور اور زور آور ممالک بھی مدد کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں یہ بات کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہو سکتی کہ ایک ہیلی کاپٹر جس میں انتہائی اہم لوگ سوار ہوں، اتنی آسانی سے تخریب کاری کی بھینٹ چڑہایا جا سکتا ہے۔حکومت پاکستان اور پاکستان آرمی کے کسی بھی ذمے دار نے کبھی بھی یہ دعوی نہیں کیاکہ پاکستان نے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کردیا ہے البتہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی کامیابی سے آگے بڑھنے کی بات ضرور کی جاتی ہے۔ ہماری فوج دہشت گردوں کے خلاف سینہ سپر ہے، ہمارے سیاسی اور مذہبی قائدین یک جان ہیں، ہماری حکومت ہمارے عوام متحد ہیں، ہمیں دنیا کے طاقت ور ترین ممالک کی مکمل سپورٹ حاصل ہے ۔ اپنے جذبوں اور اپنی ہمت کے زور پر، اللہ کی رضا سے ہم دہشت گردوں کے خلاف اپنی جنگ میں بہت جلد کامیاب ہوجائیں گے۔ ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ پاکستان بھی کینیڈا، آسٹریلیا،امریکا اور برطانیہ کی طرح ایک انتہائی خوشحال اور پرسکون ملک بن جائے گا۔ کسی بھی قسم کا منفی پراپگینڈہ ہمیں کامیابی کی منزلوں تک پہنچنے سے نہیں روک سکتا۔