مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
انتخابی وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کیلئے بھرپور کردار ادا کرونگی: یاسمین قریشی
بولٹن ... برطانیہ کے عام انتخابات میں بولٹن کی تین پارلیمانی نشستوں سے دو پر لیبر پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی جبکہ تیسری نشست ٹوری پارٹی نے لیبر پارٹی سے چھین لی۔ تفصیلات کے مطابق بولٹن سائوتھ ایسٹ سے لیبر پارٹی کی پاکستان نژاد یاسمین قریشی نے20,555ووٹ لے کر ایک بار پھر سیاسی معرکہ مارنے میں کامیاب ہوگئیں، جبکہ ان کے مدمقابل دوسرے ٹوری پارٹی کے پاکستانی نژاد مدثر دین8,289ووٹ لے کر اپنی نشست کا دفاع کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اسی طرح بولٹن نارتھ ایسٹ سے پارلیمانی امیدوار ڈیوڈ کر سبی 18541ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، جبکہ ان کے مدمقابل ٹوری پارٹی کے جیمز بری نے14164ووٹ حاصل کیے۔ سب سے دلچسپ مقابلہ دو سفیدفام امیدواروں کے درمیان بولٹن ویسٹ میں ہوا جہاں لیبر پارٹی کی سابق رکن پارلیمنٹ جولی ہلنگ اور ٹوری پارٹی کے کرس گرین حصہ لے رہے تھے۔ اس مقابلے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ ووٹوں کی گنتی تین مرتبہ کرائی گئی اور تینوں مرتبہ مختلف نتیجہ آیا اور آخرکار تیسری گنتی کو تسلیم کرلیا گیا اور بالآخر ٹوری پارٹی نے16سال کے بعد لیبر پارٹی کو شکست دے کر اقتدار سے باہر کردیا۔ اس موقع پر لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ یاسمین قریشی نے اپنی کامیابی پرکہا کہ وہ اس تاریخی لمحہ اور فتح کو نہیں بھول سکتیں جو ان کو ایشین کمیونٹی اور خصوصاً پاکستانی اور کشمیری عوام نے دن رات الیکشن کمپین کرکے حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے انتخابی وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گی۔