مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
حد ادب
میز پر چائے کی پیالی ، انگلیوں میں سلگتا سگریٹ، بکھرے بال اور ماتھے پر دانشوری کی خود ساختہ لکیریں، ، یہ سب کچھ ہو اور موضوع گفتگو فوج کا تقدس نہ ہو تو منظر مکمل نہیں ہوتا۔ویسے بھی بلند وبالا عمارتوں پر پتھر پھینکنا، سمندر کو خالی بوتلوں اور ڈسپوزیبل گلاسوں سے پراگندہ کرنا اور قومی اہمیت کی عمارتوں پر پکی روشنائی سے اپنا نام لکھ کر ان کے حسن کو داغدار کرنا، شاید ہمارے کچھ لوگوں کی جبلت کا حصہ بن چکا ہے۔ایک زمانہ تھا، ہمارے ہاں عدالتوں، افوج پاکستان، مذہبی اکابرین اور اپنے گھر کے بڑوں پر منفی انداز میں گفتگو کرنے کو ناشائستگی شمار کیا جاتا تھا، ایسے موضوعات پرمنفی گفتگو اعلی ترین اخلاقی اقدار کے منافی سمجھی جاتی تھی مگر گذشتہ دو تین دہائیوں میں جہاں ہمارے ہاں اور بہت کچھ بدلا وہیں ایسے حساس موضوعات کا تقدس بھی ایک نیا روپ اختیار کر گیا۔چند پیشہ ور دانشوروں نے حساس موضوعات کو مقدس گائے سے تشبیہ دے کر ایسے موضوعات کا تمسخر اڑانا شروع کردیا۔کلچر، روایات، تہذیب ، ثقافت،مذہب غرض کسی بھی حوالے کو مقدس نہیں رہنے دیا۔مجھے گذشتہ دنوں اخبارات میں ایک بیٹے کی طرف سے شائع ہونے والا ایک اشتہار یاد ہے جس میں بیٹے نے اپنے ماں باپ سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ اس اشتہار کو پڑھ میں بہت دیر تک سوچتا رہا کہ آخر کوئی بیٹا اپنے ماں باپ سے لاتعلقی کیونکر اختیار کر سکتا ہے، کیا وہ بیٹا اپنی رگوں میں دوڑنے والے خون سے بھی لاتعلقی کا اعلان کرسکے گا، اور جب میدان حشر میں لوگوں کو ان کی مائوں کے نام سے پکارا جائے گا تب بھی وہ بیٹااپنی ماں کو اجنبی قرار دے سکے گا؟؟؟ہمارے معاشرے میں مغربی دنیا کی دیانتداری، ایمانداری، کمزوروں کی خیال داری، وطن سے محبت اور قانون کی پاسداری جیسی اعلی خصوصیات تو جگہ نہ بنا سکیں لیکن نام نہاد آزادی اظہار نے ہمیں اپنی لپیٹ میں ضرور لے لیا۔ایک عدد مائک اور ایک کیمرے کے زور پر ہر موضوع ہماری رسائی میں آگیا۔شاید ہمارے بدخواہوں کی خواہش اولین بھی یہی تھی کہ ہم اتنا بولیں اتنا بولیں کہ خود ہمارے اپنے کان پکنے لگ جائیں۔ یقین کیجیے کہ آزادی اظہار کے نام پر جو مکروہ کھیل ہمارے ملک میں کھیلا جارہا ہے، کسی اور ملک میں نظر نہیں آتا۔ آزادی اظہار کی بات کی جائے تو ہم سب کے بھائی الطاف حسین کا فوج اور دیگر قومی اداروں کے بارے میں حالیہ بیان سماعتوں سے ٹکرانے لگتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب الطاف بھائی بار بار فوج کو کراچی میں مداخلت کی دعوت دیتے تھے، کراچی میں بدامنی کے خاتمے کے لیے فوج کو پکارتے تھے، وہ ایک بہت بڑی اور نہایت ہی منظم جماعت کے سربراہ ہیں، ان کی ہر بات اپنی جگہ ایک خاص اہمیت رکھتی ہے، انہی کے مطالبے پر فوج نے رینجرز کی مدد سے کراچی میں بدامنی کے خاتمے کے لیے ایک نہایت منظم آپریشن کا آغاز کیا۔یہ آپریشن نہ تو کسی سیاسی پارٹی کے خلاف تھا نہ ہی کسی لسانی و مذہبی گروہ کے خلاف۔ اس آپریشن کا نشانہ صرف اور صرف جرائم پیشہ افراد تھے۔ جرائم پیشہ افراد کا نہ تو کوئی مسلک ہوتا ہے نہ عقیدہ، کوئی زبان نہ کوئی علاقہ، ان کا دھرم تو صرف اور صرف جرم ہوتا ہے۔ڈاکو، چور، ٹارگٹ کلر، بھتہ خور، اغواء برائے تاوان کے مجرمان جن گروہوں کی شکل میں کام کرتے ہیں، ان گروہوں میں ہر زبان ہر عقیدے اور ہر رنگ و نسل کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔اور پھر یہ بھی ہے کہ یہ گروہ جب اپنی مجرمانہ کاروائیوں میں مصروف ہوتے ہیں تب ان کے پیش نظر یہ کبھی بھی نہیں ہوتا کہ ان کا نشانہ بننے والا کون سی زبان بولتا ہے، کس علاقے میں رہتا ہے، اور نماز کیسے پڑھتا ہے ۔جرائم کی دنیا میںصرف بے رحمی کا راج ہوتا ہے، ایک ماہ کے بچے کو اس کی ماں کی گود سے چھیننا ہو یا اٹھارہ بیس سال کے جوان کو ذبح کر کے بوری میں بند کرنا ہو،جرائم کی دنیا میںپیسے لے کر ہر کام کیا جاسکتا ہے۔کراچی میں الطاف بھائی کی بار بار کی درخواست پر رینجرز نے ایسے ہی ظالم بھیڑیوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا۔ان گنت لوگ پکڑے گئے،بہت سے غیر ملکی، بہت سے پاکستانی، سندھی بلوچ پختون، پنجابی اور اردو بولنے والے بھی، رینجرز نے کسی کبھی مجرم کو معاف نہیں کیا۔ ویسے بھی سیکیورٹی ادارے کسی بھی مذہبی لسانی یا پھر علاقائی تقسیم سے بالاتر ہوتے ہیں۔ فوج یا قومی سیکیورٹی کے ذ مے دار کسی بھی ادارے پر تعصب کا الزام لگانا بدترین ملک دشمنی ہے۔ملک کے تحفظ کے لیے جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلنے والوں نے تو کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ وہ جن لوگوں کی حفاظت کے لیے برف پوش پہاڑوں پر سرد راتیں کھلے آسمان کے نیچے گزار رہے ہیں یا پھر بدترین گرم موسم میں، سلگتے ریگستانوں میں اڑتے ریت کے بگولوں کا سامنا کر رہے ہیں، وہ لوگ کون سی زبان بولتے ہیں، کس علاقے میں رہتے ہیں اور کس مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو اس افراتفری کے دور میں فوج واحد ادارہ ہے جو قومی یکجہتی اور اتحاد کی علامت ہے۔اس ادارے کو متنازعہ بنانے کا عمل کسی طور بھی وطن دوستی کا حوالہ نہیں کہلاسکتا۔یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ ماضی میں پاکستان دشمن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے گنتی کے چند ٹی وی اینکرز اور تجزیہ کاروں نے فوج کے امیج کو برباد کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، یقینا ایسے بدنصیب کسی نہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے لیکن جلد ہی قوم نے سچائی کو پہچان لیا کہ کون کس کے مفاد میں بول رہا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے فوج کی قیادت سنبھالی تو انہیں جن بے شمار چیلنجز کا سامنا تھا ان میں ایک بڑا چیلنج یہ بھی تھا کہ عوام اور فوج کے پیچ غلط فہمیوں کی جو کانٹوں بھری فصل بوئی گئی تھی اس فصل کو جلد از جلد صاف کیا جائے۔ وہ جانتے تھے جب تک عوام اور فوج یک جان دو قالب نہیں ہوں گے، دہشت گردوں کے خلاف کوئی آپریشن کامیاب نہیں ہو سکتا۔ آج میاں نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کی شبانہ روز کوششوں کے نتیجے میں معاملات مکمل طور پر اپنے اصل کی طرف لوٹ چکے ہیں۔ قوم ان مکروہ چہروں کو بھی پہچان چکی ہے جو انہیں فوج سے بدظن کرتے رہے اور ان کے ناپاک مقاصد سے بھی آشنا ہوچکی ہے۔محض سال دو سال پہلے فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف سٹوڈیو میں بیٹھ کر دہاڑنے والیـ’ پلاسٹک کے ٹارزن ‘اور اپنی زرد صحافت کے زور پر حکومتیں بدلنے کے زعم میں مبتلا ’ریت کے پتلے‘ اب سوشل میڈیا پر اس پراپگینڈے میں مصروف ہیں کہ ’نادیدہ‘ طاقتیں انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہیں۔بحرحال الطاف بھائی نے دانستہ یا پھر نادانستہ طور پرفوج کے خلاف جو کلمات استعمال کیے ان کے ردعمل میں بلوچستان سے لے کر گلگت بلتستان تک سیاستدانوں، عوام،دینی جماعتوں اور سماجی حلقوں نے جس غم و غصے کا اظہار کیا اس نے یہ بات تو ثابت کر دی کہ قوم اپنی فوج کے خلاف کی جانے والی ہر بات کو گستاخی اور توہین کا درجہ دیتی ہے۔ تاہم الطاف بھائی کی یہ بات بہت اچھی ہے کہ وہ اپنی غلطی کو بہت جلد تسلیم بھی کر لیتے ہیں اور اس پر تاسف کا اظہار کرنے سے ہچکچاتے بھی نہیں۔امید ہے آئندہ اس قسم کی کسی بھی گفتگو سے پہلے انہیں وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کی یہ بات ضرور یاد رہے گی کہ کہ قومی اداروں پر متنازعہ گفتگو عوامی جذبات و احساسات کو ٹھیس پہنچانے کا باعث ہوتی ہے۔