مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اینی میٹیڈ کارٹونز دیکھنا اسلام کے منافی : دارالعلوم دیوبند کا فتوہ ..!!
لندن... مسلمانوں کے ایک مذہبی ادارے دارالعلوم دیوبند نے اپنے ایک فتوے میں اینی میٹیڈ کارٹونز دیکھنے کو اسلام کے منافی قرار دیا ہے۔ اس سے متعلق خبر بھارتی اخبار دکن کرونیکل میں شائع ہوئی ہے۔ اخبار نے اس بارے سے دیوبند کے ایک سرکردہ عالم مفتی عارف قاسمی کا بیان شائع کیا ہے۔ اخبار کے مطابق عارف قاسمی نے کہا: ’ کارٹون تصویر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بچوں کے لیے تو ہوتی نہیں۔ اسے نہیں دیکھنا چاہیے۔‘ ادھر مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک رکن نے دارالعلوم دیوبند کے اس فتوے پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی ہے کہ اس طرح کے فتوے اسلام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہیں۔‘ ممبئی میں مسجد کے ایک امام نے انگریزی اخبار ڈی این اے کو بتایا: ’مجھے نہیں لگتا کہ جس مفتی نے یہ فتویٰ جاری کیا ہے انہیں اس موضوع سے متعلق کوئی سوجھ بوجھ ہے یا پھر انہوں نے کارٹون کے فن کو سمجھنے کی کوشش کی ہوگی۔ اینی میٹیڈ تصاویر سے متعلق مختلف اسلامی مکتب فکر کی جانب سے طرح طرح کے معانی و مطالب نکالے جاتے رہے ہیں۔ اس میں سے سخت گیر موقف یہ ہے کہ چونکہ کارٹون کی اینی میشن میں خدا جیسی تخلیقی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اس لیے اس پر پوری طرح سے پابندی لگانا درست ہے۔ البتہ بہت سے دیگر علما فوٹوگرافی اور ویڈیو کی اجازت دیتے ہیں۔ دارالعوم دیوبند نے اس طرح کا فتویٰ پہلی بار جاری نہیں کیا ہے بلکہ ماضی میں بھی اس کےفتوے موضوعِ بحث بنتے رہے ہیں۔