مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی حکومت سستے نشے کی فروخت پرقابو پانے میں ناکام، اموات بڑھنے لگیں
لندن... ایک برطانوی تھنک ٹینک نے خبردار کیا ہے کہ نامناسب سہولیات کی بدولت سرزمین انگلستان نشے کا گڑھ بنتی جا رہی ہے سنٹر فار سوشل جسٹس کی رپورٹ "نو کویک فکس" کے مطابق منشیات اور شراب سے برطانیہ کو ہر سال 36 ارب پاؤنڈ کا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ برطانیہ ایسی ویب سائٹوں کا مرکز ہے جہاں ممکنہ خطرناک نشہ آور ادویات قانونی طور پر فروخت کی جاتی ہے۔ اس میں برطانوی حکومت پر تنقید بھی کی گئی ہے کہ وہ ہیروئن کے نشے اور سستی شراب کی فروخت پر قابو پانے میں بھی ناکام رہی ہے۔ اس رپورٹ سے معلوم ہوا کہ گذشتہ برس برطانیہ اور ویلز میں 52 افراد قانونی طور پر دستیاب نشہ آور ادویات استعمال کرنے سے ہلاک ہوئے۔ 2011 میں یہ تعداد 28 تھی۔ ان ادویات میں سلویا اور گرین رولیکس شامل ہیں، اور انھیں اکثر اوقات نہانے والے نمکیات یا تحقیقی کیمیائی مادوں کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے۔ ان کو اس وقت تک قانونی طور پر فروخت کیا جا سکتا ہے جب تک ان پر واضح الفاظ میں ’انسانوں کے کھانے کے لیے نہیں‘ لکھا ہو۔ ان کے استعمال سے مثانے کی مستقل خرابی، خون کی زہرآلودگی اور موت واقع ہو سکتی ہے۔ سی ایس جے کے مطابق برطانیہ میں 130 سے زائد ویب سائٹیں ہیں جو ان کیمیائی اجزا کو ڈاک کے ذریعے بیچتی ہیں۔ تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ہر 12 میں سے ایک شخص نے اس قسم کی ادویات استعمال کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ یہ یورپ بھر میں سے سب سے بلند شرح ہے۔