مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی حکومت سستے نشے کی فروخت پرقابو پانے میں ناکام، اموات بڑھنے لگیں
لندن... ایک برطانوی تھنک ٹینک نے خبردار کیا ہے کہ نامناسب سہولیات کی بدولت سرزمین انگلستان نشے کا گڑھ بنتی جا رہی ہے سنٹر فار سوشل جسٹس کی رپورٹ "نو کویک فکس" کے مطابق منشیات اور شراب سے برطانیہ کو ہر سال 36 ارب پاؤنڈ کا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ برطانیہ ایسی ویب سائٹوں کا مرکز ہے جہاں ممکنہ خطرناک نشہ آور ادویات قانونی طور پر فروخت کی جاتی ہے۔ اس میں برطانوی حکومت پر تنقید بھی کی گئی ہے کہ وہ ہیروئن کے نشے اور سستی شراب کی فروخت پر قابو پانے میں بھی ناکام رہی ہے۔ اس رپورٹ سے معلوم ہوا کہ گذشتہ برس برطانیہ اور ویلز میں 52 افراد قانونی طور پر دستیاب نشہ آور ادویات استعمال کرنے سے ہلاک ہوئے۔ 2011 میں یہ تعداد 28 تھی۔ ان ادویات میں سلویا اور گرین رولیکس شامل ہیں، اور انھیں اکثر اوقات نہانے والے نمکیات یا تحقیقی کیمیائی مادوں کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے۔ ان کو اس وقت تک قانونی طور پر فروخت کیا جا سکتا ہے جب تک ان پر واضح الفاظ میں ’انسانوں کے کھانے کے لیے نہیں‘ لکھا ہو۔ ان کے استعمال سے مثانے کی مستقل خرابی، خون کی زہرآلودگی اور موت واقع ہو سکتی ہے۔ سی ایس جے کے مطابق برطانیہ میں 130 سے زائد ویب سائٹیں ہیں جو ان کیمیائی اجزا کو ڈاک کے ذریعے بیچتی ہیں۔ تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ہر 12 میں سے ایک شخص نے اس قسم کی ادویات استعمال کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ یہ یورپ بھر میں سے سب سے بلند شرح ہے۔