مقبول خبریں
نائجیریا کمیونٹی ایسوسی ایشن کا میئر چیئرٹی فنڈریزنگ ڈنر کا اہتمام ،مئیر کونسلر محمد زمان کی خصوصی شرکت
بریگزیٹ بحران :کنزرویٹو پارٹی کی تین خواتین ممبر کی آزاد گروپ میں شمولیت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی حکومت سستے نشے کی فروخت پرقابو پانے میں ناکام، اموات بڑھنے لگیں
لندن... ایک برطانوی تھنک ٹینک نے خبردار کیا ہے کہ نامناسب سہولیات کی بدولت سرزمین انگلستان نشے کا گڑھ بنتی جا رہی ہے سنٹر فار سوشل جسٹس کی رپورٹ "نو کویک فکس" کے مطابق منشیات اور شراب سے برطانیہ کو ہر سال 36 ارب پاؤنڈ کا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ برطانیہ ایسی ویب سائٹوں کا مرکز ہے جہاں ممکنہ خطرناک نشہ آور ادویات قانونی طور پر فروخت کی جاتی ہے۔ اس میں برطانوی حکومت پر تنقید بھی کی گئی ہے کہ وہ ہیروئن کے نشے اور سستی شراب کی فروخت پر قابو پانے میں بھی ناکام رہی ہے۔ اس رپورٹ سے معلوم ہوا کہ گذشتہ برس برطانیہ اور ویلز میں 52 افراد قانونی طور پر دستیاب نشہ آور ادویات استعمال کرنے سے ہلاک ہوئے۔ 2011 میں یہ تعداد 28 تھی۔ ان ادویات میں سلویا اور گرین رولیکس شامل ہیں، اور انھیں اکثر اوقات نہانے والے نمکیات یا تحقیقی کیمیائی مادوں کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے۔ ان کو اس وقت تک قانونی طور پر فروخت کیا جا سکتا ہے جب تک ان پر واضح الفاظ میں ’انسانوں کے کھانے کے لیے نہیں‘ لکھا ہو۔ ان کے استعمال سے مثانے کی مستقل خرابی، خون کی زہرآلودگی اور موت واقع ہو سکتی ہے۔ سی ایس جے کے مطابق برطانیہ میں 130 سے زائد ویب سائٹیں ہیں جو ان کیمیائی اجزا کو ڈاک کے ذریعے بیچتی ہیں۔ تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ہر 12 میں سے ایک شخص نے اس قسم کی ادویات استعمال کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ یہ یورپ بھر میں سے سب سے بلند شرح ہے۔