مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
روس اور برطانیہ کا اثر کام کر گیا، شام پرحملے کیلئے امریکہ کی پسپائی ..!!
لندن .. بہت سے لوگ توقع کرتے تھے کہ اب تک شام پر حملے کے لیے میزائل ہوا میں ہوں گے لیکن امریکی صدر براک اوباما کے شام کے خلاف کارروائی پر کانگریس سے رائے لینے کے اعلان نےدنیا کو حیران کر دیا ہے۔ جسکا بظاہر مطلب یہ نکلتا ہے کہ ممکنہ حملہ کم از کم ایک ہفتہ کیلئے موخر ہو گیا ہے ..براک اوباما کا یہ فیصلہ شاید ان لوگوں کو متاثر نہ کر سکے جو ان پر عملی اقدام اٹھانے میں تذبذب کا شکار ہونے کا الزام لگاتے ہیں لیکن کم از کم شاید اس دفعہ کانگریس کے اراکین شکایت نہیں کریں گے۔ گذشتہ چند دنوں میں کانگریس کے اراکین کی طرف سے سامنے آنے والی آراء سے امکان پیدا ہوا ہے کہ براک اوباما کے فیصلے کو کانگریس سے منظوری مل جائے گی۔ روس کے صدر ولادی میر پوتن نے امریکہ کو چیلنج کیا تھا کہ وہ شام کی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کرے۔جسکے جواب میں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس ایسے شہادتیں موجود ہیں کہ شام میں کیمیکل ہتھیار سیرِن کا استعمال ہوا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کچھ برطانوی وزیرِاعظم کو ہونے والی شرمندگی نے صدر براک اوباما کے فیصلے پر براہ راست اثر کیا۔ برطانوی پارلیمنٹ نے ملک کی حکومت کی مرضی کے برعکس شام پر حملے کے خلاف ووٹ دیا تھا جس کی وجہ سے براک اوباما کے مشیر شام کے معاملے پر کانگریس کی رائے لینے کے فیصلے کے مزید مخالف ہوگئے۔ ماضی میں برطانیہ پر امریکہ کا پٹھو ہونے کا الزام لگتا رہا ہے۔ اس دفعہ برطانیہ کے دارالعوام کے اراکین نے براک اوباما کو دانت دکھاتے ہوئے ان کا شام پر حملے کے جواز کو رد کر دیا۔