مقبول خبریں
lets talk گروپ کے زیر اہتمام کمیونٹی کو ذہنی امراض کی آگاہی کے لیے ورکشاپ کا انعقاد
صادق خان رسوائی کا باعث اور برطانیہ کے دارالحکومت لندن کو تباہ کررہے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
سابق صدر پی ٹی آئی یارکشائر اینڈ ہمبر ریجن طاہر ایوب خواجہ کا اپنی رہائش گاہ پر محفل کا انعقاد
رنگ خوشبو سے جو ٹکرائیں تو منظر مہکے!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
روس اور برطانیہ کا اثر کام کر گیا، شام پرحملے کیلئے امریکہ کی پسپائی ..!!
لندن .. بہت سے لوگ توقع کرتے تھے کہ اب تک شام پر حملے کے لیے میزائل ہوا میں ہوں گے لیکن امریکی صدر براک اوباما کے شام کے خلاف کارروائی پر کانگریس سے رائے لینے کے اعلان نےدنیا کو حیران کر دیا ہے۔ جسکا بظاہر مطلب یہ نکلتا ہے کہ ممکنہ حملہ کم از کم ایک ہفتہ کیلئے موخر ہو گیا ہے ..براک اوباما کا یہ فیصلہ شاید ان لوگوں کو متاثر نہ کر سکے جو ان پر عملی اقدام اٹھانے میں تذبذب کا شکار ہونے کا الزام لگاتے ہیں لیکن کم از کم شاید اس دفعہ کانگریس کے اراکین شکایت نہیں کریں گے۔ گذشتہ چند دنوں میں کانگریس کے اراکین کی طرف سے سامنے آنے والی آراء سے امکان پیدا ہوا ہے کہ براک اوباما کے فیصلے کو کانگریس سے منظوری مل جائے گی۔ روس کے صدر ولادی میر پوتن نے امریکہ کو چیلنج کیا تھا کہ وہ شام کی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کرے۔جسکے جواب میں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس ایسے شہادتیں موجود ہیں کہ شام میں کیمیکل ہتھیار سیرِن کا استعمال ہوا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کچھ برطانوی وزیرِاعظم کو ہونے والی شرمندگی نے صدر براک اوباما کے فیصلے پر براہ راست اثر کیا۔ برطانوی پارلیمنٹ نے ملک کی حکومت کی مرضی کے برعکس شام پر حملے کے خلاف ووٹ دیا تھا جس کی وجہ سے براک اوباما کے مشیر شام کے معاملے پر کانگریس کی رائے لینے کے فیصلے کے مزید مخالف ہوگئے۔ ماضی میں برطانیہ پر امریکہ کا پٹھو ہونے کا الزام لگتا رہا ہے۔ اس دفعہ برطانیہ کے دارالعوام کے اراکین نے براک اوباما کو دانت دکھاتے ہوئے ان کا شام پر حملے کے جواز کو رد کر دیا۔