مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
اقوام متحدہ ایک متعصب اور جانبدار ادارہ ہے: صدر سری لنکا مہیندا راجا پاکسے
کولمبو ... سری لنکا کے صدر مہیندا راجا پاکسے نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر ناوی پلے کو بتایا ہے کہ سری لنکن عوام کی رائے میں ایک عالمی تنظیم کے طور پر اقوام متحدہ ایک متعصب اور جانبدار ادارہ ہے۔ کولمبو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق صدر راجا پاکسے نے ناوی پلے کے ساتھ ایک ملاقات میں انہیں یہ بھی کہا کہ انسانی حقوق کی یہ کمشنر خود اگلے مہینے اپنی جو رپورٹ پیش کرنے والی ہیں، اس میں سری لنکا کے بارے میں پہلے ہی سے فیصلہ دیا جا چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر ناوی پلے کی یہ رپورٹ سری لنکا میں 26 سالہ خانہ جنگی، خاص طور پر چار سال پہلے اس کے اختتامی مہینوں کے دوران مبینہ جنگی جرائم کے ارتکاب کے حوالے سے ہو گی۔ سری لنکا میں تامل علیحدگی پسند باغیوں کے خلاف ایک وسیع تر فوجی آپریشن کے نتیجے میں یہ مسلح بغاوت 2009ء میں حتمی طور پر کچل دی گئی تھی۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق ناوی پلے کی صدر راجا پاکسے کے ساتھ یہ ملاقات ان کے سری لنکا کے ایک ہفتے کے دورے کے آخری دنوں کے دوران جمعے کی شام کو ہوئی۔ اس ملاقات کے بعدصدارتی دفتر کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’صدر راجا پاکسے نے ناوی پلے کو بتایا کہ سری لنکا کے لوگ اقوام متحدہ کو ایک جانبدار ادارہ سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ سری لنکا کے عوام یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آپ اپنی جو رپورٹ پیش کریں گی، اس میں سری لنکا کے بارے میں پہلے ہی سے رائے قائم کی جا چکی ہے۔‘‘ اس وقت جنوبی ایشا کی جزیرہ ریاست سری لنکا کا قریب ایک ہفتے دورانیے کا دورہ کرنے والی انسانی حقوق کی کمشنر ناوی پلے اپنے قیام کے دوران وہاں اپنے مشن کے حق میں اور اس کی مخالفت میں بھی عوامی مظاہرے دیکھ چکی ہیں۔ وہ سری لنکا میں اب تک سابقہ جنگی علاقے میں ماہی گیروں، مذہبی شخصیات، سماجی کارکنوں، غیر حکومتی تنظیموں کے نمائندوں، میڈیا کارکنوں اور اپوزیشن کے ارکان کے علاوہ تامل نسل کی اقلیتی آبادی کے افراد سے بھی کئی ملاقاتیں کر چکی ہیں۔