مقبول خبریں
پاکستان کا دورہ انتہائی کامیاب رہا ،ممبر برطانوی پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ و دیگر کی پریس کانفرنس
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اوبامہ کو علم ہونا چا ہئے کہ ممکنہ حملے کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ ولادیمیر پوٹن
ماسکو ...روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے دمشق حکومت پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام کو ’احمقانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا ان الزامات کا ثبوت فراہم کرے۔ ولادیمیر پوٹن کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب شام پر ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ دمشق میں 21 اگست کے مبینہ کیمیائی حملے کے بعد ان کی جانب سے یہ پہلا بیان ہے۔ قبل ازیں امریکا نے کہا تھا کہ ایسے خفیہ پیغامات ہاتھ لگے ہیں جن سے دمشق کے حملے میں حکومت کے ملوث ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ تاہم پوٹن نے ان پیغامات کو ثبوت کے طور پر ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں شام میں عسکری کارروائی جیسے ’بنیادی فیصلوں‘ کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ہفتے کو ولادی ووسٹوک میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا: ’’شام کے حکومتی فوجی لڑائی میں مصروف ہیں اور انہوں نے متعدد علاقوں میں اپوزیشن کو گھیر رکھا ہے۔ اِن حالات میں عسکری مداخلت کا مطالبہ کرنے والوں کے ہاتھوں میں ترپ کا پتّہ دینا انتہائی احمقامہ بات ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’ہمارے امریکی ساتھی اور دوست کہتے ہیں کہ حکومتی فوجیوں نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار استعمال کیے اور يہ کیمیائی ہتھیار تھے۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس اس بات کا ثبوت ہے، تو پھر انہیں وہ ثبوت اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں اور سلامتی کونسل کے سامنے پیش کرنے چاہیيں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا ثبوت پیش نہیں کرتا تو پھر کوئی ثبوت دستیاب ہی نہیں ہے۔ امکان ہے کہ امریکا فرانس کے ساتھ مل کر شام پر حملہ کر سکتا ہے۔ برطانیہ بھی بشار الاسد کے خلاف کارروائی کا حامی ہے تاہم اسے اپنے پارلیمنٹ سے ایسی کارروائی میں شریک بننے کی منظوری نہیں ملی۔ صدر پیوٹن کے الفاظ تھے ، مجھے یقین ہے کہ مبینہ کیمیاوی حملہ اُن ممالک کے لیے محض اشتعال پھیلانے کے سوا کچھ نہیں جو دوسرے ممالک کو شام کے تنازعے میں گھسیٹنا چاہتے ہیں اور جو عالمی منظرنامے میں طاقت اور اثرورسوخ رکھنے والے ممالک بالخصوص امریکہ کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ روسی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر اوباما کو جنہیں امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا، یاد رکھنا چاہیئے کہ شام پر امریکہ کے ممکنہ حملے کے شام کے شہریوں پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟