مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اسلام اور دیگر مذاہب کو تحفظ دیا جائے اور دنیا میں عالمی امن کیلئے کوششیں کی جائیں، پیر علائو الدین صدیقی
برمنگھم :حکومت برطانیہ اور یورپین پارلیمنٹ اور دیگر عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ پیغمبر اسلام نبی آخروزماں حضرت محمد مصطفیؐ سمیت دیگر انبیاء کے ناموس کیلئے قانون سازی کے ذریعے برطانیہ اور یورپ میں بسنے والے مسلمانوں کے تحفظات دور کئے جائیں اور آزادی رائے کے حدود کو یقین کیا جائے تا کہ مسلمانوں میں پھیلی بے چینی اور اضطراب کو ختم کیا جائے ۔ ان خیالات کا اظہار عالمی تحفظ ناموس رسالت کانفرنس سے ہزاروں کے مجمع میں قائد تحریک تحفظ ناموس رسالت اور عالمی مبلغ اسلام سجادہ نشین نیریاں شریف پیر علائو الدین صدیقی نے کیا ۔ انہوں نے کہا موجودہ حالات اس بات کے متقاض ہیں کہ ایک بین الاقوامی سطح پر ایسی قانون سازی کے فریم ورک کو متعارف کروایا جائے اور آزادی رائے کے حدود میں اسلام اور دیگر مذاہب کو تحفظ دیا جائے اور دنیا میں عالمی امن کیلئے کوششیں کی جائیں ۔ انہوں نے کہا اسلام نے ہمیشہ انسانیت کی خدمت میں بھائی چارے اور سلامتی کا پیغام دیا ہے اور جو اسلام کے لبادے میں اسلام کو بدنام کرنے کی سازش کر رہے ہیں ایسے لوگ کسی بھی مذہب سے تعلق نہیں رکھتے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی قسم کی دہشتگردی یا انتہا پسندی کی سخت مذمت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا برطانیہ میں تحفظ ناموس رسالت کیلئے برطانیہ میں مسلمان یکجاں اور متحدہ پلیٹ فورم کے ذریعے اس تحریک کو مضبوط کریں تا کہ موجودہ انتخابات میں امیدوار جو پارلیمنٹ اور کونسل ہائوس کے لئے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ان کے لئے ایک ایسا اینڈا دیا جہ اس تحریک تحفظ ناموس رسالت کیلئے بھر پور آواز اٹھائیں ۔ سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد نے کہا پیر علائوالدین صدیقی کی عالمی کاوشیں اور دینی خدمات قابل تحسین ہیں ۔ انہوں نے کہا رسول عربی حضرت محمد مصطفیؐ کے آخری خطبہ کو اقوام متحدہ کے منشور میں شامل کیا جائے جو انسانیت کیلئے بہترین راہ ہدایت ہے ۔ انہوں نے تمام آسمانی اور الہامی مذاہب کو مشترکہ حکومت عملی اختیار کرنا اخلاقی اقدار اسلامی عقائد کا حصہ ہیں ۔ انہوں نے کہا مسلم ممالک کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہو گا اور امن و محبت کا منظم اجتماعی پیغام عام کرنے کیلئے حکمت عملی اپنانے کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے قائد تحریک تحفظ ناموس رسالت محی الدین ٹرسٹ کے چیئرمین پیر علائوالدین صدیقی نے تحفظ ناموس رسالت کی انٹرنیشنل کانفرنس کے انعقاد سے مسلم امہ کو ایک دوسرے کے قریب آنے کیلئے عملی دعوت فکر دی ہے جس کیلئے تمام مسلمانوں کو متحدہ پلیٹ فارم پر جمع ہونا وقت کی عین ضرورت ہے اور اس پر پیر علائوالدین صدیق یکا ایک عظیم کارنامہ قرار دیا ۔ دیگر مقررین سے پیر صاحبزادہ نور العارفین صدیقی ، ایم پی مرزا خالد محمود ، ایم پی جان سپلیر ، ایم پی لیم برن ، ایم ای پی (سابق ) فل بینین ، ایم پی شبانہ محمود ، جان ویل ، کونسلر افتخار احمد ، کونسلر اخلاق، کونسلر عنصر علی خان ، ڈاکٹر محمد ضیاء الحق وائس چانسلر محی الدین یونیورسٹی ، مولانا محمد ضمیر احمد ، برٹش مسلم الائنس کے ناظم اعلیٰ ، علامہ غلام ربانی افغانی ، علامہ نصیر اللہ نقشبندی ، علامہ فضل احمد قادری (ڈربی ) راجہ آفتاب شریف ، مولانا بوستان قادری ، راجہ محمد اشتیاق ، راجہ حق نواز جانباز ، مفتی یار احمد قادری ، کونسلر مریم خان ، لارڈ میئر برمنگھم سید شفیق شاہ ، علامہ سید فاروق شاہ سیالوی ، ایم پی سٹیو بیکر ، کونسلر محبوب بھٹی (ہائی ویکمب ) کونسلر ندیم (پیٹر پرا) چیئرمین حاجی محمد رمضان ، ایم پی جان ہیمنگ ، شہزاد اقبال مغل ، نائب حسین مغل ، کونسلر ذاکر اللہ ، کونسلر عبدالرشید جے پی ، مولانا محمد الطاف ، ایم ای پی جیمز ایلیس ، شون سائمن ایم ای پی ، اینڈرئو میچل امیدوار ، پیر محمد طیب الرحمن ، علامہ سعیدی ، علامہ نیاز احمد صدیقی ، قاری محمد امین صدیقی ، علامہ اعجاز قادری ، علامہ ریاض ہمدانی ، احمد نقشبندی ، مولانا ضیاء الاسلام ، علامہ قمر ہاشمی ، علامہ حافظ عنایت علی ، علامہ قاری انور ، علامہ پیر عتیق الرحمن ، علامہ پروفیسر اعجاز محمود قادری ، راجہ اسحاق صابر ، کونسلر چوہدری محمد فاضل ، علامہ مصباح المالک لقمانوی اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔