مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مذاکرات کے حوالے سے پاک حکومت اور طالبان ميں کوئی رابطہ نہيں ہوا: طالبان ترجمان
اسلام آباد ...پاکستانی طالبان کے ايک ترجمان نے اپنے ايک بيان ميں مقامی ذرائع ابلاغ پر نشر کی جانے والی ايسی خبروں کی ترديد کی ہے کہ طالبان اور اسلام آباد انتظاميہ کے درميان امن مذاکرات کا عمل جاری ہے۔ تحريک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے نيوز ايجنسی اے ايف پی کو بتايا کہ امن مذاکرات کے حوالے سے پاکستانی حکومت اور طالبان کے درميان تاحال کوئی رابطہ قائم نہيں ہوا ہے۔ ايک نامعلوم مقام سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتايا کہ پاکستانی حکومت اور طالبان کے درميان کسی بھی سطح پر امن مذاکرات نہيں ہوئے ہيں۔ اس سلسلے ميں ہمارے درميان کوئی رابطہ نہيں ہوا اور نہ ہی ہميں کوئی پيشکش کی گئی ہے۔ قبل ازيں پاکستان ميں ذرائع ابلاغ کے بيشتر اداروں نے ايسی خبريں نشر کی تھيں کہ حکومت اور طالبان کے درميان امن مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے، حتیٰ کہ چند اداروں نے تو يہ بھی کہہ ديا تھا کہ اس بارے ميں شدت پسندوں کے ساتھ رابطہ قائم ہو چکا ہے۔ اس سلسلے ميں ملک کے ايک بڑےنجی اخبار نے وزير اطلاعات پرويز رشيد کے حوالے سے لکھا، ’فريقين کے مابين غير سرکاری مذاکرات جاری ہيں۔‘ اخبار کے مطابق وزير اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت کا بنيادی مقصد امن قائم کرنا ہے اور وہ اس سلسلے ميں ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ رشيد نے مزيد کہا کہ ملک ميں دہشت گردی کا خاتمہ لازمی ہے اور اس کے ليے تمام تر آپشنز استعمال ميں لائے جا سکتے ہيں۔ اسلام آباد انتظاميہ اور طالبان شدت پسندوں کے مابين بات چيت کی يہ خبريں اس وقت سامنے آئی ہيں جب ابھی قريب دو ہفتے قبل ہی نواز شريف نے وزارتِ عظمٰی کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنی قوم سے پہلے ٹيلی وژن خطاب کے دوران ملک ميں پچھلی ايک دہائی سے زائد عرصے سے جاری خونريزی کے خاتمے کے ليے انتہا پسندوں کو بات چيت کی دعوت دی تھی۔ پاکستانی وزير اعظم کی قريب ايک گھنٹہ طويل یہ تقرير 19 اگست کو ملکی ٹيلی وژن چينلز پر نشر کی گئی تھی۔ بعد ازاں طالبان کے ايک کمانڈر عصمت اللہ معاويہ نے کچھ روز بعد اس پيشکش کا خير مقدم بھی کيا ليکن طالبان نے ان کو ان کے اس اقدام پر برطرف کر ديا..