مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بیس روپے کی جرسی
تھوڑی دیر کو سہی ، قسور کی دنیا تو بدلی۔ بازار سے بیس روپے کی پرانی جرسی خریدی ، نہ جانے کس امید پر اس کی جیب میں ہاتھ ڈالا تو ایک کونے میں کھڑکھڑاہٹ سی محسوس ہوئی ، چند ہی لمحوں میں ایک بڑا سا غیر ملکی نوٹ نظروں کے سامنے تھا۔ قسور کو معلوم نہیں تھا وہ نوٹ ڈالر ہے یا پائونڈ لیکن اسے نوٹ کے اطراف میں لکھا 1000کا ہندسہ ضرور سمجھ میں آگیا۔ اسے یوں لگا جیسے اوپر والے نے کسی نیکی کو قبول کرتے ہوئے اپنے خزانوں کے منہ کھول دئیے ہوں۔ اگلے روز سارے دفتر میں شور مچ گیا ، قسور کو لنڈے کی جرسی سے ایک ہزار ڈالر ملے ہیں۔ کچھ ماہرین کا کہنا تھا کہ ڈالر نہیں پائونڈ ملے ہیں ۔ کسی نے ہزار کو پچانوے سے ضرب کیا تو کسی نے ایک سو چالیس سے ۔خیال ہی خیال میں ہزاروں روپے بن گئے ۔ قسور مٹھائی کھلائو، قسور چائے منگائو، قسور بھائی ٹریٹ دو، ہر طرف یہی شور تھا ۔ مٹھائی، چائے ، چاول بسکٹ، کینٹین سے سب کچھ ادھار آنے لگا۔ شام تک کوئی ہزار روپے کا بل بن گیا ۔ مہینے کا آغاز تھا ، نئی نئی تنخواہ ملی تھی ، محسوس نہیں ہوا، یہی خیال تھا کہ ڈالر کیش ہو گا تو سب مسئلے حل ہو جائیں گے۔ یہ واقعہ جمعے کے دن کا ہے۔ اگلے دو دن بینک بند تھے۔ طے یہی ہوا کہ سوموار کو کسی فارن کرنسی والے بینک سے رابطہ کیا جائے ۔ شام تک یہ خبر آس پاس کے گھروں میں بھی پہنچ گئی ، کسی خیر خوا ہ نے اسی ریڑھی والے کو بھی اطلاع کر دی جس سے جرسی خریدی گئی تھی۔ اطلاع ملتے ہی اس نے فوراً اپنا سامان سمیٹا اور ریڑھی لے کر گھر چلا گیا۔ گھر کے ایک کمرے میں بہت سے کوٹ اور جرسیاں اس خیال سے ذخیرہ تھے کہ موسم سخت ہونے پر انہیں فروخت کیلئے نکالا جائے۔ رات کوئی دو بجے تک وہ ریڑھی والا اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ایک ایک کوٹ ایک ایک جرسی کی جیبیں کھنگالتا رہا ، مگر افسوس محنت ضائع ہوئی کچھ برآمد نہیں ہوا۔ ادھر قسور کے گھر میں بھی رات دیر تک عجیب سی ہلچل رہی، اس کے ماں باپ ، دوبھائی اور متوقع سسر صاحب کوئلے کی انگیٹھی کے گرد بیٹھے ، مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے رہے ۔ اگر یہ امریکہ کی کرنسی ہے تو کم از کم نوے ہزار اور اگر انگلستان کا پاونڈ ہے تو ایک لاکھ چالیس ہزار ۔ باپ کا کہنا تھا قسطوں پر کوئی پلاٹ لے لو، ماں کی خواہش تھی کہ کچھ زیور بنا کر رکھ لیا جائے، بھائی موٹر سائیکل کے لیے آرزومند تھے جبکہ سسر صاحب اوپر والی منزل پر ایک علیحدہ کمر ہ اور کچن بنوانے کے حق میں دلائل دے رہے تھے۔ لیکن قسورکا خیال تھا کہ پانچ ہزار روپے صدقہ خیرات کرکے باقی رقم سے پرائز بانڈ خرید لیے جائیں۔ ممکن ہے کوئی انعام لگ جائے۔ کوئی فیصلہ نہ ہوسکا، نوٹ کو احتیاط سے شاپر میں لپیٹ کر کلام پاک میں رکھ دیا گیا ، حفاظت بھی ضروری تھی ، نوٹ کہیں ادھر ادھر ہو جاتا تو سارے خواب پانی کے ہو جاتے۔ اگلے روز صبح سویرے دروازے پر دستک ہوئی ، قسور کو حیرت ہوئی کہ اتنی صبح کون آگیا۔ اندیشہ تھا کہیں وہی ریڑھی والا نہ ہو، بہانے سے نوٹ واپس لینے آیا ہو، دروازہ کھولا تو بڑی حیرت ہوئی اس کے دفتر کا ایک ساتھی اپنے پانچ سالہ بیٹے کے ساتھ سردی میں ٹھٹھر رہا تھا۔ ’’آو غلام رسول اندر آجاو، خیرت تو ہے ۔ اتنی ٹھنڈ میں کیسے آنا ہوا؟‘‘ یار رات میرے ماموں کا انتقال ہو گیا ہے سرگودھا جانا ہے ۔ تھوڑے پیسے چاہئیں ‘‘۔ قسور نے پل بھر کو سوچا پھر پوچھا کتنے پیسے؟ تین ہزارروپے دے دو پہلی پر واپس کر دوں گا۔ قسور اب بڑا آدمی بن گیا تھا ، اگر غلام رسول پہلی پر پیسے واپس نہ بھی کرتا تو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ ڈالر کیش ہوجانے کے بعد ان تین ہزار روپوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی۔ اندر گیا اور ماں سے تین ہزار روپے لا کر غلام رسول کو دے دئیے۔ ہفتے کا سارا دن مبارک بادیں وصول کرتے اور منہ میٹھا کراتے گزر گیا ۔ لیکن ایک بات اچھی ہوئی کہ قسور نے نوٹ ملنے کے بعد سے کوئی ایک نماز بھی قضا نہیں کی۔ شکرانے کے نفل علیحدہ ۔ دو دن میں ماتھے پر محراب سی نمایاں ہونے لگی۔ یہ سب اوپر والے کا کرم تھا ، جسے چاہے جب چاہے جیسے چاہے نواز دے۔ پیسہ تو آنی جانی چیز ہے ، اصل چیز تو عزت اور اعتبارہے ، قسور کو بہت اچھا لگا جب ہفتے کی شام محلے کی اصلاحی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسے خصوصی طور پر پیغام بھجوایا گیا ۔ یہ اصلاحی کمیٹی پچھلے پانچ سال سے کام کر رہی تھی ، لیکن اس سے پہلے قسور کو کبھی اس کے اجلاس کی خبر تک نہ ہوئی۔ اتوار کے رو ز ساتھ والی مسجد میں ختم القرآن کی محفل کا اہتمام تھا۔ رات گئے لنگر کی تقسیم کا پروگرام بھی تھا ۔ امام صاحب خود قسور کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اپنی نیک کمائی میں سے کچھ نہ کچھ حصہ اس نیک کام میں بھی ڈالیے ۔ قسور نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے استطاعت دی اور پانچ سو روپے امام صاحب کے حوالے کر دئیے۔ زندگی دھیرے دھیرے اپنا روپ بدلے تو کوئی نئی بات نہیں ، سب کچھ اچانک سے ایک دم سے بدل جائے تو حیرت بھی ہوتی ہے اور تھوڑی تھوڑی پریشانی بھی، قسور کے لیے بھی یہ سب کچھ ایسا ہی تھا ایک سرکاری دفتر میں نائب قاصد کی معمولی سی ملازمت ، نپے تلے پیسے ، شتر بے مہار ضرورتیں۔ کبھی دوا نہیں تو کبھی غذا نہیں۔ بجلی کا بل سوروپے زیادہ آجائے تو گیس کا بل کہاں سے دیں ، دور پاس کے تمام عزیز واقارب کی درازی عمر کے لیے ہر نماز میں خلوص کے ساتھ دعا کہ کہیں کوئی مر گیا تو سفر کرکے جانا پڑ ے گا ۔ لیکن اب یہ مسائل نہیں رہے ۔ بیس روپے کی جرسی نے اس کی کلاس ہی بدل دی۔ سب کچھ مقدر کی کرامات ، بزرگوں کی دعائیں۔ سوموار کو صبح قسور نے کاٹن کا دھلا ہوا سفید شلوار قمیض زیب تن کیا، والد صاحب سے واسکٹ لی اور نوبجے سے پہلے ہی بینک پہنچ گیا ۔ اندیشہ تھا دیر ہوگئی تو قطار میں کھڑا ہونا پڑیگا ۔ نہایت اعتماد کے ساتھ فارن کرنسی کیشن کاونٹر پہنچا اور اپنا نوٹ کیشئر کو دیتے ہوئے کہا اسے پاکستانی کرنسی میں بدل دیں ۔ کیشئر نے شناختی کارڈ کی کاپی مانگی ، نوٹ کو ایک مشین سے گزارا اور قسور کو 800روپے تھما دئیے ۔ یہ کیا؟ ؟ قسور نے حیرت سے کیشئر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ کیشئر نے بن بتائے صورتحال جان لی تھی، کہنے لگا، بھائی یہ جاپانی ین کا نوٹ ہے، پہلے تو ایک ین (Yen)پاکستانی روپے سے بھی کم ہوتا تھا اب تھوڑا بڑھ گیا ہے ۔ کمیشن کاٹ کر یہی پیسے بنتے ہیں ۔ بے چارہ قسور ، سارے خواب چکنا چور ہوگئے ، چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات ، نہایت بجھے دل کے ساتھ وہ آٹھ سو روپے واسکٹ کی اندرونی جیب میں رکھے اور بوجھل قدموں سے سائیکل سٹینڈ کی طرف چل دیا ۔ ایک بار پھر وہی دنیا ، وہی راستے اور وہی کٹھن سی انجانی منزلیں ، غریبوں کی خوشیا ں کتنی عارضی ہوتی ہیں، گرم موسم میں سرد ہوا کے جھونکے جیسی ، لیکن اس ساری مایوسی ،پژمردگی اور تاریکی میں ایک بات بہت اچھی تھی ، قسور نے ان تین چار روز میں عزت ، اعتبار اور قدرومنزلت جیسی نعمتوں کا جو لطف اٹھایا، شاید وہ اسے زندگی بھر کبھی دوبارہ نہیں مل سکتا۔ بیس روپے کی جرسی نے اس کی دنیا ہی بدل دی۔ گھسی پٹی پرانی بے جان سی جرسی، ان طاقت ور صاحبان اختیار سے تو اچھی جن کے لیے خوشی دینا تو درکنار ان بھوکے ننگے لوگوں کو خواب دکھانا بھی ممکن نہیں۔