مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
قتل عام
تربت میں بیس مزدوروں کا بہیمانہ قتل اور بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے راہنما محمد قمرالزماں کو دی جانے والی سزائے موت،۱۲۔ اپریل کا دن ، ظلم اور سفاکی پر مبنی ان دو واقعات کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ تربت میں ایک زیر تعمیر پل کی تعمیر میں مصروف ان مزدوروں کا بظاہر صرف یہی قصور تھا کہ یہ سب کے سب پنجاب اور سندھ سے روزی کمانے کی خاطر بلوچستان آئے ہوئے تھے بالکل اسی طرح جیسے بنجاب سے لوگ مزدوری کے لیے سندھ جاتے ہیں اور جیسے خیبر پختونخواہ سے پنجاب آتے ہیں، ان بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والوں نے دوسرے صوبوں سے مزدوری کے لیے بلوچستان آ نے کی خواہش رکھنے والوں کو شاید یہ پیغام دیا ہے کہ آئندہ کوئی بھی بلوچستان آنے کی کوشش نہ کرے، شاید وہ دنیا کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں، ا ور یہ کہ بلوچستان میں پاکستانیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔کچھ ایسا ہی پیغام بنگلہ دیش کی حکومت نے بھی محمد قمر الزمان کی پھانسی کے ذریعے دنیا کو دینے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان سے محبت کی سزا موت ہے۔ ایک مخصوص سوچ کے حامل کچھ تجزیہ کار کافی عرصے سے یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آج بلوچستان کے حالات بھی ویسے ہی ہیں جیسے ۱۹۷۱ سے پہلے بنگلہ دیش یعنی اس وقت کے مشرقی پاکستان کے تھے۔بنگلہ دیش پاکستان سے ٹوٹ گیاتھا،بلوچستان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔تاہم اس خیال کو فروغ دینے والے حضرات لوگوں کو یہ حقیقت بتانے میں ہمیشہ جز رسی سے کام لیتے ہیں کہ مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہوا اس کے پیچھے بھی ہندوستان کا ہاتھ تھا اور بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پس منظر میں بھی ہندوستان کا ہاتھ ہے۔ یہاں مماثلت کا یہ پہلو بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ مشرقی پاکستان کے عوام کے دلوں میں بھی مغربی پاکستان کے لوگوں کے لیے کوئی نفرت نہیں تھی اور بلوچستان کے لوگوں میں بھی دیگر صوبوں کے لیے کوئی نفرت نہیں، وہاں مکتی باہنی تھی اور یہاںبی ایل ایف قسم کی تنظیمیں۔ مکتی باہنی کو جس انداز میں بھارتی سپورٹ حاصل تھی، اس سے بھی ہر شخص آشنا ہے اور بلوچستان میں بی ایل یف کو جو بھارتی مدد حاصل ہے، وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔بلوچستان محب وطن پاکستانیوں کی سرزمین ہے، وہاں ہر لحاظ سے مکمل اور متحرک پارلیمانی نظام اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان کے عوام اپنے ملک سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنی کوئی بھی دوسرا پاکستانی کر سکتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ماضی میں کچھ مفاد پرست عناصر کی وجہ سے بلوچ عوام کو ان کے حقوق اور مفادات کی ترسیل مناسب انداز میں نہیں ہوسکی جس سے بلوچ عوام میں احساس محرومی بڑھا اور ان کی وفاقی حکومت سے شکایتوں میں اضافہ ہوا تاہم اس سب کے باوجود کسی بھی قسم کی علیحدگی پسندی کی خواہش کبھی مقبول نہیں ہو سکی۔ اور پھر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ چند سو روپے روز کے دہاڑ ی دار مزدور کہ جو رات بھی خیموں میں گزارنے پر مجبور ہوں، ان کا خون بہانا کسی طور بھی غیور اور بہادر بلوچوں کی روایتوں کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ تربت میں جو بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی اس کے خلاف درج شدہ ایف آئی آر میں بلوچ لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر نذر بلوچ کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ معلوم نہیں یہ صاحب کس طرح کے ڈاکٹر ہیں، ڈاکٹروں کو تو آج تک انسانی جان بچاتے دیکھا گیا ہے، یہ کیسے ڈاکٹر ہیں کہ جنہوں نے مبینہ طور پر محنت مزدوری کے بعد تھک ہار کر سونے والے بے بس بے گناہوں کو ہمیشہ کی نیند سلا دیا۔ نذر بلوچ کی کہانی بھی عجیب ہے، تفصیلات کے مطابق یہ صاحب خود کو بلوچ لبریشن فرنٹ کا کمانڈر کہتے ہیں، گزشتہ دنوں بھارتی خفیہ ایجنسی راء کے زیر انتظام چلنے والی ایک ویب سائٹ ون انڈیا ڈاٹ کام نے ان کا ایک انٹرویو اپ لوڈ کیا ہے۔ اس انٹرویو میں ان صاحب نے جی بھر کر پاکستان ، پاکستان کے لوگوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ چین کو بھی بھر پور لعن طعن کا نشانہ بنایا۔ ڈاکٹر نذر کے حوالے سے یہ بات بھی قابل تذکرہ ہے کہ۲۰۰۴ میں گوادر میں چینی انجینئرز پر ہونے والے خوفناک حملے کی ذمے داری بھی ان کی قیادت میں دہشت گرد کاروائیاں کرنے والی بلوچ لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی۔ ون انڈیا ڈاٹ کام کوانٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر نذر نے کہا تھا کہ آئی ایس آئی بلوچستان میں علیحدگی اور آزادی کی جنگ لڑنے والوں کو بے رحمی سے کچل رہی ہے۔ چین بلوچستان میں ایک سامراجی کردار ادا کر رہا ہے، چین پاکستان آرمی کے ساتھ مل کر بلوچوں کی نسل کشی میں مصروف ہے لیکن بلوچستان کے علیحدگی پسند چین کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔پاکستان کے خلاف مزید زہر اگلتے ہوئے بلوچ لبریشن فرنٹ کے اس ’ گوریلا کمانڈر‘ نے یہ بھی کہا کہ طالبان، لشکر جھنگوی اور لشکر طیبہ سب کے سب پاکستان کے ہی پروردہ ہیں اور میاں نواز شریف حکومت کا نیشنل ایکشن پلان اور فوجی عدالتیں صرف اور صرف بلوچستان میں آزادی کی جنگ لڑنے والوں کو کچلنے کے لیے استعمال ہورہی ہیں۔ اس انٹرویو میں نذر بلوچ نے یہ بھی کہا کہ بھارت اس وقت تک پاکستان کے پانی پر قابض نہیں ہو سکتا جب تک وہ بلوچستان کی آزادی کی جنگ لڑنے والوںکی کھل کر بہ بانگ دہل وکالت اور حمایت نہیں کرتا۔ڈاکٹر نذر بلوچ کا یہ انٹرویو پڑھ کر ذہن میں یہ خیال نہایت شدت سے سر اٹھاتا ہے کہ نذر بلوچ نہ صرف پاکستان کو غاصب سمجھتے ہیں بلکہ چین کو بھی اس جرم میں برابر کا حصے دار شمار کرتے ہیں اور بھارت کو معاون و مددگار جانتے ہیں۔معلوم نہیں مذکورہ گوریلا کمانڈر پر لگائے جانے والے الزامات کہاں تک مبنی برحق ہیں، اور یہ کہ ان کے نام سے بھارتی ویب سائٹ پر شائع ہونے والا انٹرویو واقعی ان ہی کا ہے یا یہ بھی کسی سازش کا حصہ ہے، یقینا تحقیقات سے ہی صورت حال واضح ہو سکے گی۔لیکن یہ بات ہر صورت طے شدہ ہے کہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کی طرف سے ہر اس گروہ، فرد اور ہر اس تھنک ٹینک کو مکمل طور پر دامادی میں لے لیا جاتا ہے جو پاکستان میں انتشار اور علیحدگی پسندی کا رجحان رکھتا ہو۔ تاہم بھارتی عوام کی سوچ اس معاملے میں اکثر اپنی حکومت کے برعکس ہوتی ہے۔ بالکل ایسی ہی صورت حال بنگلہ دیش میں بھی نظر آتی ہے، شیخ حسینہ ہر اس طاقت کی ہمنوا ہوتی ہیں جو پاکستان کی بربادی کا خواب دیکھے لیکن بنگلہ دیشی عوام آج بھی پاکستان کو اپنے وجود کا حصہ سمجھتے ہیں۔ شیخ حسینہ کے تعصب اور تنگ نظری کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوگی کہ آج نصف صدی گزرنے کو ہے اور شیخ حسینہ راکھ سے چنگاریاں ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ۱۹۷۱ سے پہلے اگر کسی نے اپنے ملک پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے لیے کسی جدوجہد میں حصہ لیا تھا تو کیا غلط کیا تھا، اس وقت تو بنگلہ دیش کا وجود ہی نہیں تھا، آج کے بنگلہ دیش میں آباد تمام لوگ اس وقت پاکستان سے علیحدگی کے خواہشمند نہیں تھے،شیخ حسینہ پینتالیس پچاس سال پہلے کے’ جنگی جرائم‘ کے نام پر شاید کسی ذاتی رنجش کی تسکین میں مصروف ہیں، لیکن تاریخ ایسے معاملات میں خود منصف بن جاتی ہے۔