مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
شرمناک انجام سے بے خبر معصوم مسلمان
جوائنٹ فورسز سٹاف کالج ، امریکہ کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔امریکی فوجی افسروں اور ان سویلینز کے لیے کہ جو فوج کے مختلف شعبوں سے منسلک ہوتے ہیں،اس ادارے کے زیر اہتمام ، نہایت تواتر سے تربیتی کورسز کا انعقاد ہوتا رہتا ہے۔مئی2012 کی بات ہے، پینٹاگون میں امریکی فوجی افسروں کی ایک تربیتی ورکشاپ جاری تھی،اچانک جوائنٹ فورسز سٹاف کالج میں ملازم ایک مقرر لیفٹیننٹ کرنل میتھیو ڈولے نے تمام حاضرین محفل کو ایک عجیب سی بات کر کے ورطہ حیرت میں ڈال دیا،’ اگر امریکا کو محفوظ رکھنا ہے تو ہمیں مسلمانوں کے مقدس شہروں مکہ اور مدینہ کو ہیروشیما کی طرح نشانہ بنانا ہوگا۔دنیا بھر میں امریکا کے لیے خطرہ بننے والے 1.4بلین سے زائد مسلمانوں کا اس کے علاوہ اور کوئی بھی علاج نہیں‘ پینٹاگون کے اعلی حکام نے کرنل میتھیو کی اس تجویز کو بظاہرعالمی امن کے لیے ایک خطرہ قرار دیتے ہوئے مذکورہ تربیتی ورکشاپ کو فوری طور پر ختم کرنے کے احکامات جاری کر دیے لیکن امریکا سے شائع ہونے والے وائرڈ میگزین نے اس واقعے کے کئی ماہ بعد اپنی ایک رپورٹ میں لکھاکہ یہ احکامات دکھاوے کے سوا کچھ نہیں تھے، کرنل میتھیو اپنی اس شر انگیز تجویز کے بعد بھی جوائنٹ فورسز سٹاف کالج میں طویل عرصے تک ملازمت کرتا رہا ۔اس میگزین کا کہنا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ تمام فوجی افسر کہ جو اس تربیتی ورکشاپ میں شامل تھے،مزیداعلی عہدوں پر فائز ہوجائیں گے اور کرنل میتھیو کی تجویز ان کے لیے ہمیشہ راہنمائی کا وسیلہ بنے گی ۔مکہ اور مدینہ کو اپنی خباثت کا نشانہ بنانے کی خواہش، امریکی فوجیوں کی دلوں میں ہمیشہ مچلتی رہے گی۔ مسلمانوں کی وسیع پیمانے پر نسل کشی کی خواہش کوئی نئی خواہش نہیں۔امریکا اور بہت سے مغربی ممالک ایک عرصے سے اس خواہش کو حقیقت کی صورت دینے کے لیے عرصے سے کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق 1987-88میں اس وقت کے امریکی صدر رونالڈ ریگن نے پینٹاگون کی ایک تجزیاتی رپورٹ پر اپنے دستخط ثبت کر کے مسلمانوں کے خلاف مدت سے جاری ایک خاموش تحریک کو دستاویزی حیثیت دی تھی۔ ان دستخطوں کو سرکاری منظوری کا نام بھی دیا جا سکتا ہے کیونکہ صدر ریگن کے دستخطوں کے بعد امریکا کی ہوم لینڈ سیکیورٹی، ایف بی آئی اور میٹروپولیٹن پولیس جیسے اداروں میں اہلکاروں کی مسلمانوں کے خلاف باقائدہ ذہنی تربیت کا اہتمام کیا جانے لگا، بہت سے نئے تھنک ٹینک وجود میں آئے،میڈیا میں سی آئی اے کے پروردہ لکھاریوں کو خاص طور پر پروجیکشن دی گئی اور مسلمان ممالک میں بھی میڈیا سے وابستہ افراد پر خصوصی عنایات کی بارش برسائی گئی تاکہ یہ تمام لوگ مل جل کر مسلمانوں کو انتہا پسند اور دہشت گرد قوم کے طور پر متعارف کروا سکیں اور امریکا اور اس کے حواریوں کو دہشت گردی کے خلاف مصروف عمل انسان دوست قوت کی صورت سامنے لا سکیں۔ 9/11 کے بعد اس مسلمان مخالف تحریک کی شدت میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔2008کے امریکی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند ایک کانگریسی امیدوار ٹام ٹینکریڈو بھی اپنی انتخابی مہم کے ابتدائی دنوں میں مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کی مکروہ اور مذموم خواہش کا اظہار کرتے رہے تھے۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹینکریڈو نے کہا تھا،’ اگر امریکا کو مسلمانوں کے نیوکلیر حملوں سے محفوظ رکھنا ہے تو ہمیں مکہ اور مدینہ کو اپنے نشانے پر رکھنا ہوگا، ایسا کیے بنا امریکا کے لیے مسلمانوں کی دہشت گردی سے بچنا ممکن نہیں ہوگا‘۔مائیکل میڈوڈ ایک معروف امریکی تجزیہ کار اور ایک نہایت ہی مقبول ٹاک شو کے میزبان ہیں، ٹام ٹینکریڈو کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اس طرح کی خوہشات اور تجاویز پر عمل کرنا آسان نہیں ہوتا، امریکا پہلے بھی ایسے معاملات میں شدت سے رسواء ہو چکا ہے کیونکہ جو کچھ بھی کیا جاتا ہے واضح حکمت عملی اور بھرپور قوت کے بغیر کیا جاتا ہے۔ویت نام، بیروت، صومالیہ اور عراق سے امریکی فوجوں کی شرمناک واپسی ہماری ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ان ہی ناکامیوں کی بنیاد پر اسامہ بن لادن نے ہم امریکیوں کو بارہا ’ کاغذی شیر‘ بھی قرار دیا تھا۔ مکہ اور مدینہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اپنے تقدس کے حوالے سے ایک مرکز کی حیثیت رکھتے ہیں۔سارا سال ان مقدس شہروں میں مسلمانوں کی آمدو رفت اورخصوصا حج کے موقعے پر لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کا سعودی عرب میں اجتماع، اسلام دشمن قوتوں کے لیے ہمیشہ باعث تفکر و پریشانی رہا ہے۔دنیا اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہے کہ جب تک مسلمانوں کا یہ مرکز موجود و محفوظ ہے، مسلمانوں کو کچلنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی، لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ اسلام دشمن طاقتوں کے پاس اتنی ہمت نہیں کہ وہ ان متبرک شہروں کو بذات خود نشانہ بنا سکیں، لہذا ایسی منصوبہ بندی کی گئی کہ کسی طرح مسلمان آپس میں ہی الجھ کر ایک ایسی جنگ کا آغاز کر دیں جس کے نتیجے میں سعودی عرب کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوسکے۔یمن اور سعودی عرب کے مابین حالیہ جنگی صورت حال بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اپنے شرمناک انجام سے بے خبر معصوم مسلمان، اس جنگ کو کبھی سعودی عرب اور یمن کی جنگ قرار دے رہے ہیں تو کبھی اسے شیعہ اور سنی مسالک کی جنگ سمجھا جارہا ہے۔ہمیں اس سچائی کو ماننا ہوگا کہ یمن اور سعودی عرب کی جنگ میں چاہے جو بھی جیتے جو بھی ہارے، چاہے ایران اس جنگ کا حصہ بن جائے یا پھر پاکستان اس جنگ میں خاموش رہے، نقصان صرف اور صرف مسلمانوں کا ہی ہوگا، خون بہے گا تو مسلمانوں کا،معاشی اور اقتصادی بربادی ہوگی تو صرف اور صرف مسلمانوں کی۔کاش ہم مسلمان اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کر لیں کہ ہمارا اتحاد اور ہماری یکجہتی ہی اسلام دشمن قوتوں کے خلاف ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہے، ہمارے بدخواہ اس ہتھیار سے بھی خائف ہیں اور ان ہاتھوں سے بھی خوفزدہ کہ جن ہاتھوں میںآکر یہ ہتھیار اسلام دشمن قوتوں کے لیے موت کا پروانہ بن سکتا ہے۔