مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اگر مہمان بقاء اور سلامتی کے لیے خطرہ بن جائے تو . . . .
انجان سرزمینوں کی جانب ہجرت، ہمیشہ سے انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا المیہ رہاہے۔ لوگ اپنے بھرے پرے گھر،سنبھلے ہوئے کاروبار، زمین جائیداد، کھیت کھلیان چھوڑ کر، ایسی منزلوں کی جانب سفر کو مجبور ہوجاتے ہیں کہ جہاں کسی کو بھی ان کے شاندارماضی کی خبر نہیں ہوتی۔زندگی کا ایک نئے سرے سے آغاز کرنا پڑتا ہے۔ ہزار صعوبتیں، ان گنت مشکلات، سانس لینا بھی دوبھر کر دیتی ہیں۔لیکن کیا کریں کہ وقت اور حالات بعض دفعہ انسان کو اس قدر بے آسرا کردیتے ہیں کہ اسے بحرحال ہجرت کی اذیت سے گذرنا ہی پڑتا ہے۔ اگرچہ ہم آج کے مہذب انسان اپنی تہذیب اور روایات پر اکثر نازاں دکھائی دیتے ہیں لیکن پھر بھی ایک تلخ سچائی ہر لمحہ ہمارے ساتھ ساتھ چلتی نظر آتی ہے، ہم جنہیں پسند نہیں کرتے یا پھر جن کے عقائد و نظریات سے متفق نہیں ہوتے، ان کے لیے ہم زندگی کو ایک عذاب بنا دیتے ہیں، اور جب ہمارے ستائے ہوئے لوگوں میں ہمارا ظلم و ستم سہنے کی معمولی سی بھی قوت بھی باقی نہیں رہتی تو ایسے لوگ مذید ظلم سہنے کی بجائے ہجرت کو فوقیت دینے لگتے ہیں۔ہجرت کی بہت سی قسمیں ہوتی ہیں اور ہجرت کرنے والوں کے بہت سے نام۔ لیکن نام کچھ بھی ہو، دنیا بھر میں مہاجرین کے نہ صرف اپنے مسائل یکساں ہوتے ہیں بلکہ ان کی وجہ سے میزبان ممالک کو پیش آنے والے مسائل بھی ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ پاکستان بھی گذشتہ تیس برس سے افغان مہاجرین کے حوالے سے کچھ ایسے ہی مسائل کا شکار ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت تیس لاکھ کے قریب افغان مہاجرین قیام پذیر ہیں ۔ ان میں سے سولہ لاکھ کے لگ بھگ حکومت پاکستان کے پاس رجسٹرڈ ہیں اور چودہ لاکھ کے قریب ایسے ہیں جن کا کسی بھی حکومتی ریکارڈ میں اندراج نہیں۔سرحدی امور کے وزیر مملکت لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ نے چند روز قبل ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت پاکستان اس سال جولائی تک ان چودہ لاکھ کے قریب غیر قانونی طور پر پاکستان میں پناہ گزین افغان مہاجرین کو بھی رجسٹریشن نیٹ ورک میں لانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ تفصیلات کے مطابق یہ تمام مہاجرین ۱۹۸۰ سے ۱۹۹۰ کے دوران افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد شروع ہونے والی جنگ سے خوفزدہ ہوکر پاکستان میں پناہ گزین ہوئے تھے لیکن مذکورہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی ان مہاجرین کو واپس افغانستان بھیجنا ممکن نہیں ہوسکا۔ حکومت پاکستان نے صدر کرزئی کے زمانے میں بارہا ان مہاجرین کی واپس افغانستان میں آباد کاری کے لیے سفارتی کوششیں کیں لیکن چونکہ صدر کرزئی پاکستان کے نہ تو دوست تھے نہ ہی ہمدرد، انہوں نے ایسی کسی کوشش کو کبھی کامیاب ہی نہیں ہونے دیا۔اب حکومت پاکستان کی طرف سے پاکستان میں قیام پذیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو وطن واپسی کے لیے ۳۱ دسمبر ۲۰۱۵ تک کی مہلت دی گئی ہے۔ افغانستان کی موجودہ حکومت پاکستان کو ان مہاجرین کے سبب پیش آنے والی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے اور مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے مناسب انتظامات میں مصروف ہے، تاہم حکومت پاکستان کی طرف سے دی گئی مذکورہ تاریخ میں اضافے کے امکانات بحر حال موجود ہیں۔ جنوری کے آخری ہفتے میں افغان قونصلیٹ جناب جاناں موسی زئی نے کراچی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان ۲۰۰۲ سے اب تک ایران اور پاکستان میں پناہ گزین پانچ لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو واپس بلا چکا ہے، امید ہے باقی مہاجرین کی اپنے وطن باعزت واپسی کے تمام مراحل بھی جلد تکمیل کو پہنچ جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق ۱۶ لاکھ رجسٹرڈ مہاجرین مین سے زیادہ تر خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں قیام پذیر ہیں جبکہ سندھ میں آباد افغان مہاجرین کی تعداد ۶۵ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ اگرچہ رجسٹرڈ افغان مہاجرین بھی پاکستان کی معیشت پر ایک بہت بڑا بوجھ ہیں اور ان کے باعث پاکستان کو بہت سے سماجی اور معاشرتی مسائل کا بھی سامنا ہے لیکن مسائل کی اصل جڑ وہ ۱۴ لاکھ افغان مہاجرین ہیں جن کا کسی جگہ کوئی اندراج ہی نہیں۔ شکل و شباہت اور رہن سہن میں خیبر پختونخواہ میں بسنے والے پاکستانیوں سے غیر معمولی مماثلت کے باعث ان افغانیوں کو پہچاننا آسانی سے ممکن نہیں ہوتا۔یہ افغانی اپنی اسی مماثلت کا فائدہ اٹھا کر مقامی آبادی میں گم ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے علاوہ لوٹ مار، چوری ڈکیتی اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں کے ساتھ ساتھ یہ افغان مہاجرین بھتہ خوری جیسے سنگین جرم میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں۔ اس طرح کی مصدقہ اطلاعات بھی بارہا میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچی ہیں کہ افغانستان میں قائم بھارتی قونصل خانے ان غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کے واقعات میں استعمال کرتے ہیں۔ان میں سے بہت سے افغان وہ ہیں جو مستقل بنیادوں پر پاکستان میں نہیں رہتے، سرحد کے آر پار آتے جاتے رہتے ہیں، پکڑے جانے پر خود کو غیر رجسٹرڈ مہاجر کے طور پر متعارف کرواکر جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آرمی پبلک سکول پشاور کی تحقیقات میں اسی طرح کے ا فغان باشندوں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تو سیکیورٹی اداروں نے افغان مہاجرین کی چیکنگ کا نظام سخت کردیا جس کے بعد ان مہاجرین کی صفوں میں چھپے ہوئے راء کے ایجنٹوں کے لیے اپنی پردہ پوشی ممکن نہیں رہی۔ ایسے میں پاکستان کی بدخواہ انسانی حقوق کی کچھ نام نہاد بین الاقوامی تنظیموں نے ایک منظم منصوبہ بندی کے ذریعے پاکستان کے خلاف پراپگینڈہ شروع کردیا کہ پاکستان میں سیکیورٹی ادارے افغان مہاجرین کو ہراساں کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں مہاجرین کو ہمیشہ ایک خاص علاقے تک محدود رکھا جاتا ہے۔انہیں مہاجر کیمپوں سے نکل کر شہروں میں گھومنے پھرنے اور کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، مگر پاکستان میں صورت حال یکسر مختلف ہے۔ یہاں آپ کو کوئٹہ سے کراچی اور پشاور سے ملتان تک ہر شہر اور قصبے میں افغان مہاجرین ملیں گے۔ یہ افغان مہاجرین مبینہ طور پر جائدادیں بھی خرید رہے ہیں اور کاروبار بھی کر رہے ہیں ، کئی ایسے واقعات بھی سننے کو ملتے ہیں کہ افغان مہاجرین نے مبینہ طور پر پاکستانی شناختی کارڈ بھی بنوالیے ہیں۔اس صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں افغان مہاجرین کو ان کے کیمپوں تک محدود رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔جو افغان مہاجرین کیمپوں تک محدود رہنے کا حکم ماننے سے انکار کریں انہیں زبردستی پاکستان سے واپس بھیج دیا جائے۔ مہمان نوازی نہایت ہی قابل ستائش روایت ہے لیکن اگر مہمان ہماری بقاء اور سلامتی کے لیے خطرہ بن جائے تو ایسے مہمان سے جلد از جلد جان چھڑانے میں ہی فلاح ہے۔