مقبول خبریں
مئیر کونسلر جاوید اقبال نےرضاکارانہ خدمات پرتنظیم وائی فائی کو تعریفی سرٹیفکیٹ اور شیلڈ سے نوازا
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
شام پر ممکنہ حملہ، برطانوی عوام ،حزب مخالف اور پارلیمنٹیرینز نے مخالفت کردی ..!!
لندن... برطانوی ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت نے شام پر ممکنہ حملے کی مخالفت کر دی ہے اس سلسلے میں پیش کردہ حکومتی قرارداد کو 272 ووٹ حق میں جبکہ 285اسکی مخالفت میں ملے .. اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ممبران پارلیمنٹ نے واضح طور پر فیصلہ دے دیا ہے کہ وہ شام کے خلاف ممکنہ کروائی کا حصّہ نہیں بننا چاہتے اور حکومت اس راے کا احترام کرے گی ..یہ فیصلہ حکومت کیلئے ایک دھچکہ بھی ہے جس نے اپنے چھ جنگی جہاز عالمی افواج کی مدد کیلئے شام کی سرحد پر بھجوا بھی دیے تھے .. برطانیہ کے علاوہ فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ خانہ جنگی کے شکار شام کے سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ روس نے شام کے دفاع کے لیے میزائل کروزر بحیرہ روم بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ صدر باراک اوباما نے کہا تھا کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنے کے لیے محدود پیمانے پر کارروائی کافی ہو گی۔ جبکہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے دمشق کے نواحی علاقے کا پھر دورہ کیا جسکے بعد سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا تھا ماہرین ہفتے کے روز دمشق سے واپس آ جائیں گے۔ انہوں نے کہا ٹھوس شواہد ملنے کے بعد ہی شام پر کسی کارروائی کے بارے میں سوچا جائے۔اس سے قبل برطانوی شہری اس ممکنہ کارروائی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئےتھے انہوں نے امریکا اور برطانیہ کو خطے میں جنگ سے باز رہنے کی اپیل کی تھی ۔ برطانوی اپوزیشن لیڈر ملی بینڈ نے بھی کہا تھا کہ حکومت کو شام میں کسی قسم کی ممکنہ فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔