مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
شام پر ممکنہ حملہ، برطانوی عوام ،حزب مخالف اور پارلیمنٹیرینز نے مخالفت کردی ..!!
لندن... برطانوی ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت نے شام پر ممکنہ حملے کی مخالفت کر دی ہے اس سلسلے میں پیش کردہ حکومتی قرارداد کو 272 ووٹ حق میں جبکہ 285اسکی مخالفت میں ملے .. اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ممبران پارلیمنٹ نے واضح طور پر فیصلہ دے دیا ہے کہ وہ شام کے خلاف ممکنہ کروائی کا حصّہ نہیں بننا چاہتے اور حکومت اس راے کا احترام کرے گی ..یہ فیصلہ حکومت کیلئے ایک دھچکہ بھی ہے جس نے اپنے چھ جنگی جہاز عالمی افواج کی مدد کیلئے شام کی سرحد پر بھجوا بھی دیے تھے .. برطانیہ کے علاوہ فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ خانہ جنگی کے شکار شام کے سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ روس نے شام کے دفاع کے لیے میزائل کروزر بحیرہ روم بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ صدر باراک اوباما نے کہا تھا کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنے کے لیے محدود پیمانے پر کارروائی کافی ہو گی۔ جبکہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے دمشق کے نواحی علاقے کا پھر دورہ کیا جسکے بعد سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا تھا ماہرین ہفتے کے روز دمشق سے واپس آ جائیں گے۔ انہوں نے کہا ٹھوس شواہد ملنے کے بعد ہی شام پر کسی کارروائی کے بارے میں سوچا جائے۔اس سے قبل برطانوی شہری اس ممکنہ کارروائی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئےتھے انہوں نے امریکا اور برطانیہ کو خطے میں جنگ سے باز رہنے کی اپیل کی تھی ۔ برطانوی اپوزیشن لیڈر ملی بینڈ نے بھی کہا تھا کہ حکومت کو شام میں کسی قسم کی ممکنہ فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔