مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دنیا بھر کے پاکستانی قیدی ، کیا بنے گا ان کا..؟؟
امریکہ اور یورپ کے ساتھ پاکستانی قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی منظوریسے قبل 2012 سے اب تک تقریباً آٹھ ہزار سے زائد پاکستانی شہری مختلف ممالک کی جیلوں میں مختلف جرائم کے الزام میں سزائیں بھگت رہے ہیں۔ اکثر پاکستانی امیگریشن اور منشیات جیسے مقدمات میں اندر ہوئے ہیں لیکن افریقی ملک ایتھوپیا میں واحد پاکستانی قیدی اغلام بازی کے الزام میں قید ہے۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں 102 پاکستانی قید ہیں، جو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی، جنسی حملے، قتل، منشیات کے کاروبار، فراڈ، چوری اور جعلی شادی کے الزامات کے تحت قید ہیں۔ لیکن اس سرکاری فہرست میں دہشت گردی کے الزام میں کسی پاکستانی کے قید ہونے کا ذکر نہیں ہے یا پھر جان بوجھ کر انہیں قتل یا دوسرے جرائم کے کھاتے میں ڈال کر چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پاکستانی ڈاکٹر عافیہ کو افغانستان کے مشرقی شہر غزنی سے امریکی فوجیوں نے گرفتار کیا تھا اور وہ چھ پاکستانی جو امریکی قیدخانے گوانتاناموبے میں رکھے گئے ہیں کی گرفتاریاں 2012 سے قبل ہوئی تھیں، لہٰذا وہ اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ تاہم اگر تازہ معاہدے سے اگر کسی کو فائدہ ہوسکتا ہے تو وہ بڑی تعداد میں یورپی جیلوں میں قید پاکستانی ہیں۔ 2012 اور 2013 میں یورپی ممالک میں گرفتار کیے جانے والے پاکستانیوں کی تعداد تقریبا 850 ہے۔ ان میں سب سے سب سے زیادہ پاکستانی برطانیہ میں یعنی 335 گرفتار ہوئے ہیں، جنھیں تشدد، جنسی جرائم، چوری، ڈاکہ اور قتل جیسے الزامات کے تحت پسِ زنداں کیا گیا ہے۔ دوسرے نمبر پر یورپی ملک سپین ہے جہاں تقریبا 150 پاکستان اس دوران پکڑے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سویڈن، رومانیہ میں دو دو جب کہ پولینڈ میں ایک پاکستانی مقید ہیں۔ یورپ اور امریکہ کے علاوہ مسلم ممالک میں سعودی عرب وہ ملک ہے جہاں دنیا بھر میں سے سے زیادہ پاکستانی گذشتہ ڈیڑھ برسوں میں گرفتار ہوئے ہیں، جن کی تعداد 1920 ہے۔ اس کے علاوہ دیگر خلیجی ممالک میں 1800 متحدہ عرب امارات میں، 630 اومان میں اور 265 کویت میں زیر حراست ہیں۔ ہمسایہ ممالک میں سب سے زیادہ پاکستانی بھارت میں یعنی چار سو پچاسی گرفتار ہوئے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد غالباً مچھیروں کی بھی ہوسکتی ہے۔ افغانستان میں جو تقریبا ساڑھے تین سو گرفتار ہوئے وہ دہشت گردی اور طالبانئزیشن کے الزامات کے تحت بھی ہیں۔ ایران اور چین میں یہ تعداد تقریباً دو دو سو ہے۔ اس کے علاوہ سری لنکا میں 56، ملائشیا میں 225، نیپال میں 27، یمن میں منشیات کے الزام میں 13، تھائی لینڈ میں 70، جنوبی افریقہ 13، اور کمبوڈیا میں ایک شہری گرفتار ہے۔