مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کراچی بارےوفاق کی خفیہ رپورٹ میں ایک نئے عسکری گروہ مہاجر رپبلکن آرمی کا انکشاف
کراچی... وفاقی حکومت نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں ایک خفیہ رپورٹ پیش کی ہے جس میں ایک غیر معروف عسکری گروہ مہاجر رپبلکن آرمی کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہاجر ریپبلکن آرمی کے ارکان کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں اس گروہ کی سرگرمیوں اور مقاصد بیان نہیں کیے گئے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے کراچی میں اس نام کے گروپ کا کبھی کہیں ذکر سامنے نہیں آیا۔اس خفیہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیاری میں آپریشن کرنے سے اجتناب برتا جائے کیونکہ اس سے دوسرے محاذ کھل سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ کچھ افراد ٹھٹہ اور بدین میں نقل مکانی کرنے والے افراد کی مالی مدد کر رہے ہیں اور ان کی نشاندہی کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رینجرز نے نو گو ایریاز کا خاتمہ کر کے حکومت کی روایتی رٹ برقرار رکھنے میں مدد کی۔ کراچی کی بدلتی صورت حال اور سیاسی بیانات پر سپریم کورٹ نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا ۔ سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ اگر کریڈٹ لینا ہے تو کراچی میں امن و امان بحال کرایا جائے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے جمعرات کو کراچی بدامنی کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے چیف سیکرٹری سندھ سے مخاطب ہوکر کہا کہ کراچی کی بندرگاہ سے اسلحہ پورے ملک میں اسمگل ہوتا ہے، وزیرستان اور بلوچستان کی کالعدم تنظیموں کے ساتھ ساتھ عسکریت پسند بھی یہ اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔ چیف سیکرٹری اور آئی جی سندھ پولیس نے جمعرات کو عدالت میں رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو سالوں میں 4,954 افراد قتل کیے گئے۔ چیف جسٹس نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے لیکر آج تک کراچی میں جتنا بھی خون بہا ہے اس کی ذمہ دار صوبائی اور وفاقی حکومتیں ہیں۔ چیف جسٹس نے ملک میں نیٹو کنٹینروں کے لاپتہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کی بندرگاہ سے منشیات اور اسلحے کی ترسیل کی جا رہی ہے اور ان کنٹینروں کا اسلحے ملک بھر میں پھیل چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اسلحے سے بھرے 19 ہزار کنٹینرز لاپتہ ہیں جو صوبے میں استعمال کیے جا رہے ہیں، بلوچستان سے جو اسلحے پکڑا گیا ہے اس کا تعلق بھی کراچی سے تھا۔