مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ایک دن منصورہ میں
یہ پچھلے ہفتے کی بات ہے، نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر انتظام ایوان اقبال میں سالانہ سہ روزہ کانفرنس جاری تھی،جناب رفیق احمد تارڑ، قائم مقام گورنر پنجاب رانا محمد اقبال، سندھ سے غوث علی شاہ صاحب، علامہ اقبال کے ایک پوتے اور ملتان سے تحریک پاکستان کے نامور محقق جناب حمید رضا صدیقی، وہاں سب ہی موجود تھے۔بڑے بڑے نام، اعلی و ارفع باتیں، مجھ جیسے اوسط درجے کے لوگوں کے لیے سیکھنے کو بہت کچھ تھا۔،ایسے میں میرے موبائل پر جماعت اسلامی کے ڈائرکٹر آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس انیس احمد خان صاحب کا میسج آیا۔’لاہور کب آنا ہے؟‘میں نے جواب دیا۔ ’ بھائی میں آج لاہور ہی میں ہوں‘۔چند منٹ بعد پھر میسج آیا،’تمہیں منصورہ لانے کے لیے گاڑی بھیج رہا ہوں۔ایک گھنٹے تک پہنچے گی‘۔ کانفرنس میں کھانے کا وقفہ ہوا تومنصورہ کے ایک پروٹوکول آفیسر کا فون آگیا،ایوان اقبال سے منسلک پی سی ہوٹل کے باہر گاڑی انتظار کر رہی ہے۔ملتان روڈ پر شاید دس بارہ کلومیٹر سفر کے بعد منصورہ کے مرکزی گیٹ پر پہنچتے ہی احساس ہونے لگتا ہے کہ آپ کسی بہت ہی منظم قسم کی عمارت میں داخل ہورہے ہیں۔دائیں بائیں ہرے بھرے قدآور پودوں سے سجے ہوئے ایک طویل ڈرائیو ان سے ہوتے ہوئے سیدھے ہاتھ پر منصورہ کا مرکزی سیکریٹیریٹ آجاتا ہے۔ اس سیکریٹیریٹ کے بالکل سامنے دوسری طرف ایک نہایت شاندار مسجد ہے۔ اس مسجد میں بیک وقت کئی ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے، کویت کے کسی متمول تاجر نے اس مسجد کی تعمیر میں تعاون کیا ہے۔ اس مسجد کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ عمارت کی بے پناہ وسعت کے باوجود اس کی چھت کو سنبھالنے کے لیے کسی بھی ستون کا سہارا نہیں لیا گیا۔لکڑی کا کام بھی اپنی مثال آپ ہے۔ روشنی اور ہوا کا ایسا انتظام ہے کہ بجلی نہ ہونے کی صورت میں بھی اندھیرے اور گھٹن کا احساس نہیں ہوسکتا۔ منصورہ میں وقت نمازوں کے اوقات سے جڑا ہوا ہے۔ آذان ہوتے ہی سارے کا سارا سیکریٹیریٹ خالی ہوجاتا ہے۔ جس کو دیکھو مسجد کی طرف گامزن۔ مسجد میں مسلک کی قید نہ عقیدے کی کوئی رکاوٹ، سب ایک ہی صف میں سجدہ ریز دکھائی دیتے ہیں، منصورہ کے ارد گرد کی آبادی کے بے شمار لوگ بھی نماز اسی مسجد میں ادا کرتے ہیں۔منصورہ سیکریٹیریٹ کی راہداریوں سے ہوتا ہوا امیر جماعت اسلامی کے کمرے تک پہنچا تو پل بھر کو یقین ہی نہیں آیا کہ یہ کمرہ سراج الحق صاحب کا ہو سکتا ہے۔ایک سادہ سی میز اور اس میز کے سامنے تین چار آسان سی کرسیاں۔ اور ان کرسیوں کے عقب میں تین چار افراد کے بیٹھنے کے لیے سادہ سے صوفے۔ کمرے میں نہ تو اے سی لگا ہوا ہے نہ واٹر ڈسپنسر۔سراج الحق صاحب کی میز پر کلام پاک کے چند نسخے ،تفسیر کی کچھ کتابیں اور بہت سی دینی کتب نہایت سلیقے سے رکھی ہوئی تھیں۔ابھی میں وہاں کے ماحول سے خود کو آشنا کرنے کی کوشش میں مصروف تھا کہ سندھی لہجے میں نہایت میٹھی اردو بولنے والے جناب اسداللہ بھٹو کی آواز کانوں سے ٹکرائی۔ میری آمد کا سن کر وہ بھی وہیں آگئے تھے۔ بھٹو صاحب آج کل نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ہیں، کراچی سے رکن اسمبلی بھی رہے ہیں، تاریخ کا بھرپور علم رکھتے ہیں۔ میں نے پوچھا حضرت یہ فرمائیں کہ جماعت اسلامی اپنے ووٹ بینک کو بڑھانے میں کامیاب کیوں نہیں ہوتی۔ مسکرا کر کہنے لگے ، حق کے راستے پر چلنے والوں کی تعداد ہمیشہ کم ہوتی ہے۔میرے سوال کا جواب اتنا جامع تھا کہ اس حوالے سے مزید کچھ پوچھنے کی گنجائش ہی نہیں رہی۔منصورہ میں بڑی جامع قسم کی ایک لائبریری بھی ہے اور ایک نہایت جدید انداز کا ہسپتال بھی، لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے الگ الگ کالج بھی ہیں اور سکول بھی۔وسیع و عریض مہمان خانے بھی ہیں اور بازار بھی، ایک مکمل دنیا ہے جو عام دنیا جیسی بھی ہے اور عام دنیا سے بڑی حد تک مختلف بھی۔ انیس احمد خان صاحب نے مجھے سیکریٹیریٹ کے بعد منصورہ کے باقی حصوں کا بھی تفصیلی دورہ کروایا۔چلتے چلتے ایک جگہ رک کر مجھ سے پوچھنے لگے، ’ تم نے میڈم نور جہاں کا وہ مشہور گانا سنا ہے، سانوں نہر والے پل تے بلا کے۔۔۔۔۔۔۔‘ جماعت اسلامی کے ایک انتہائی اہم رکن کے منہ سے یہ سوال میرے لیے بہت ہی حیران کن تھا۔ میں نے اقرار میں سر کو جنبش دی۔ کہنے لگے ، اب میں تمہیں وہ جگہ دکھاؤں گا جہاں یہ گانا ریکارڈ ہوا تھا۔چند قدم آگے بڑھے تو سینما حال نما ایک عمارت کا مرکزی دروازہ تھا۔ برسوں پہلے، منصورہ کے بالکل ساتھ ایک نہایت معروف فلم سٹوڈیو تھا، ثنائی سٹوڈیو۔ مالک کا نام شاید ثنااللہ تھا۔ سٹوڈیو سے منسلک ایک سینما ہال بھی تھا، اس سینما میں ثنائی سٹوڈیو میں تیار ہونے والی فلموں کو نمائش کے لیے پیش کرنے سے پہلے دیکھا جاتا تھا۔ اس سٹوڈیو میں تب ایک نہر بھی تھی اور بہت سے باغات بھی۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری نے جب بالکل ہی دم توڑ دیا تو سٹوڈیو بھی ویران ہوگئے۔ ثنائی سٹوڈیو کے مالک نے سارے کا سارا سٹوڈیو منصورہ کو بیچ دیا۔ آج اس سٹوڈیو کی جگہ ہسپتال بن چکا ہے اور نہر پر بہت سے غسل خانے بنا دیے گئے ہیں، صرف وہ سینما ہال اپنی اصل حالت میں باقی ہے لیکن اب وہاں فلموں کی نمائش کی بجائے، دور دراز سے آنے والے مہمان قیام کرتے ہیں۔ منصورہ میں جماعت اسلامی کا خارجہ امور کا ایک سیکشن بھی ہے۔ جناب عبدالغفار عزیز اس سیکشن کے ڈائیریکٹر ہیں ، دنیا کی بہت سی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں اور بہت سی زبانوں میں تحقیقی مضامین لکھتے ہیں۔سلجھے ہوئے، پڑھے لکھے آدمی ہیں۔میں نے ان سے استفسار کیاکہ بنگلہ دیش میں پاکستان دوستی کے الزام میں جماعت اسلامی کے بزرگ راہنماؤں کو پھانسیاں دینے کا سلسلہ بہت عرصے سے جاری ہے، مگر جماعت اسلامی پاکستان کی طرف سے کوئی خاص ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا ۔ مسکرا کر بولے، ہمارا رد عمل وہاں مزید بگاڑ کا باعث بنے گا، یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے، شیخ حسینہ حکومت کو ایک روز خود ہی اپنی غلطی کا احساس ہوجائے گا۔کشمیر اور افغانستان میں جہادی سرگرمیوں کے حوالے سے منصورہ میں ملنے والے جماعت اسلامی کے مختلف قائدین کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بھارت مسلمانوں پر بدترین ظلم و ستم کرہا ہے ، پاکستانی دریاؤں کو ڈیم بنا بنا کر ریگستان بنایا جارہا ہے ، ایسے میں اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہر پاکستانی کا فرض اولین ہے۔تاہم جماعت اسلامی موجودہ صورت حال میں مذکورہ علاقوں میں کسی بھی قسم کی جہادی سرگرمیوں میں مصروف نہیں ہے۔ لیکن اس سب کے با وجود کشمیر پاکستان کی بقاء اور سلامتی کی ضمانت ہے، کشمیر پر کسی قسم کی سودے بازی قبول نہیں کی جاسکتی۔کشمیر پر سمجھوتے کی بات کرنے والا پاکستان کا دوست نہیں ہو سکتا۔آج اخبارات میں امریکا میں پاکستان کے ایک سابق سفیر جناب حسین حقانی کا ایک نہایت خوفناک بیان نظر سے گذرا تو منصورہ میں کشمیر کے حوالے سے ہونے والی ساری گفتگو ایک دم سے ذہن میں پھر سے تازہ ہوگئی۔ حقانی صاحب فرماتے ہیں پاکستان کو مسئلہ کشمیر اپنے سر پر سوار نہیں کرنا چاہیے، پاکستان کے پاس اس سے بھی زیادہ اہم حل طلب مسائل ہیں، ویسے بھی پاکستان کو کشمیر کے معاملے میں اب کسی بھی قسم کی انٹرنیشنل سپورٹ حاصل نہیں۔