مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دھرتی کے اس پار مسافر
برطانیہ میں بسنے والے پاکستانیوں کی بہت سی قسمیں ہیں۔ بہت سے ایسے ہیں کہ جو وہاں جا کر محنت مزدوری کرتے ہیں، ٹیکسی چلاتے ہیں،گیس سٹیشن پر گاڑیاں بھر تے ہیں، ریستورانوں میں صفائی ستھرائی کا کام بھی کرتے ہیں،بے شمار ایسے بھی ہیں جن کے آباؤ اجداد کئی دہائیاں پہلے انگلستان پہنچے، محنت مزدوری کی اور پھر ان لوگوں کی اگلی نسلوں نے پڑھ لکھ کر اپنا ایک الگ مقام اور الگ شناخت بنالی۔اور وہ بھی ہیں کہ جنہوں نے اپنے علم ، ہنر یا پھر کاروباری صلاحیتوں کی بنیاد پر اتنی ترقی کر لی کہ انگلستان کی سیاسی اور سماجی زندگی کا نمایاں حصہ بن گئے۔آج پاکستان سے تعلق رکھنے والے بہت سے صحافی ، تاجر، سیاستدان ، ڈاکٹر، اساتذہ ، محقق اور تکنیکی ماہرین انگلستان میں پاکستان کے لیے حوالہ بھی ہیں اور عزت مند شناخت بھی۔چوہدری سرور، لارڈ نذیر،سعیدہ وارثی،وجاہت علی خان، مبین چوہدری، ڈاکٹر نویرا ہمایوں اور راشد علی بخاری، برطانیہ میں پاکستان کا جھنڈا بلند کرنے والے ناموں کی فہرست بہت طویل ہے لیکن ان سب کے باوجود آج بھی زیادہ تعداد ان افراد کی ہے جو پاکستان میں عزیز اقارب سے ادھار قرض لے کراور اپنی تمام جمع پونجی داؤ پر لگا کر روزگار کی تلاش میں برطانیہ پہنچے، کسی باقاعدہ ذریعہ معاش کے حصول میں کئی برس در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے ، حالات سنبھلے تو پاکستان میں عزیز اقارب کا قرض اتارنا شروع کیا ، یہ بوجھ اتارتے اتارتے ایسے لوگوں کے لیے زندگی بالعموم طویل عرصے تک ایک مشقت ہی رہتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس طرح کے تارکین وطن امریکا میں ہوں چاہے برطانیہ میں ،وسائل کی کمی اور اقتصادی بدحالی کے باعث وہ اپنی فرصت کے لمحات بھی کوئی بہت دلکش انداز میں گذارنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔ مجھے بارہا اس طرح کے تارکین وطن سے بات چیت کا موقع ملا، سب کے خیالات ایک سے ہی ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں، ’شام ساڑھے پانچ بجے کے بعد برطانیہ میں رہنے والے ہم جیسے پاکستانی کریں تو کیا کریں۔ دفتر ، بازار، دکانیں، سب کچھ ہی بند ہوجاتا ہے، تفریحی مقامات سے لطف اندوز ہونے کے لیے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے، مگر ہمارے لیے تفریح سے زیادہ اہم کام پیسے بچانا ہوتا ہے۔یہاں روزگار کے لیے آنے والوں نے انگریزی فلموں کے توسط سے برطانیہ کا جو نقشہ ذہنوں میں بٹھا رکھا ہوتا ہے، اصل برطانیہ ان کے لیے اس سے بالکل ہی مختلف ہوتا ہے۔ نہ وہ ریس لگاتی لمبی لمبی گاڑیاں اور نہ ہی ان گاڑیوں کی پچھلی سیٹوں پر نیم دراز خوبرو حسینائیں۔نہ نائٹ کلب اور نہ ہی کیسینو۔اگرچہ یہ سب کچھ ہوتا ہے لیکن ہم جیسوں کے لیے نہیں۔ایسے میں ہمارے پاس ایک ہی تفریح ہوتی ہے، یعنی صرف ٹی وی اور ٹی وی بھی پاکستانی چینل۔ مگر افسوس کہ ہمارے سرکاری ٹی وی کے علاوہ اکثر و بیشتر چینل ہمیں پاکستان کا وہ منظر دکھاتے ہیں کہ پاکستان سے ہمارا رشتہ خوف کا رشتہ بن جاتا ہے۔ لگتا ہے ہر گلی میں گولیاں چل رہی ہیں اور ہر موڑ پر بم پھٹ رہے ہیں قانون ہے نہ قانون نافذ کرنے والے ادارے۔ہم میں سے اکثر کے لاشعور میں کہیں نہ کہیں یہ خیال ضرور ہوتا ہے کہ ایک روز واپس اپنے ملک جائیں گے تو برطانیہ میں گذارے ہوئے مشقت کے سارے لمحے بھول جائیں گے۔ مگر کیا کریں کہ ہمارا الیکٹرانک میڈیا ہمیں اسقدر خوفزدہ کردیتا ہے کہ لاشعور میں چھپی ہوئی پاکستان جانے کی خواہش دھیرے دھیرے دم توڑ دیتی ہے‘۔ پاکستانی الیکٹرانک میڈیا سے شکایتیں ، وقت کے ساتھ ساتھ اتنی بڑھتی جا رہی ہیں کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب ان شکایتوں کا ازالہ بھی ممکن نہیں رہے گا۔ محض ریٹنگ کے چکر میں ہمارا الیکٹرانک میڈیا جس قدر نقصان کا باعث بن رہا ہے اس کا اندازہ لگانا شاید کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ قومی مفاد اور ملکی سلامتی کے تمام تقاضے کاروباری فائدوں کے سامنے بے حیثیت دکھائی دیتے ہیں۔ کیا دکھانا ہے کیا نہیں، کہاں بولنا ہے کہاں چپ رہنا ہے، قومی مفاد کیا ہے، ملکی سلامتی کے تقاضے کیا ہیں،اس کی کسی کو فکر نہیں، فکر ہے تو صرف اور صرف رینکنگ اور ریٹنگ کی۔ اکثرو بیشتر چینل کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کے ترجمان دکھائی دیتے ہیں ۔قصہ مختصر یہ کہ ذاتی کامیابی اور ذاتی خوشحالی کے لیے ساری قوم کو نہ صرف گمراہ بھی کیا جارہا ہے بلکہ پتلی کی طرح نچانے کا عمل بھی جاری ہے۔موقع ملے تو کبھی بی بی سی، سی این این، فوکس نیوز یا پھر زی نیوز اور دور درشن کی نشریات دیکھیئے، جو کچھ ہمارے پر ائیویٹ ٹی وی چینل دکھاتے ہیں آپ کو وہاں کبھی نہیں ملے گا۔یہ تمام غیرملکی چینل آپ کو ہمیشہ اپنی اپنی قومی پالیسی پر نہایت سچائی سے عمل پیرا دکھائی دیں گے، ملک کے دشمن کو اپنے ذاتی دشمن کا درجہ دیں گے ،اپنی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے جھنڈے کو اونچا رکھنے کی کوشش کریں گے، برے سے برے حالات میں بھی اپنی قوم کا حوصلہ بلند رکھیں گے، امید کا سبق دیں گے اور جینے کی بات کریں گے مگر ہمارے ٹی وی چینل قومی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کی بجائے قوم کو اپنی پالیسی پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔بلکہ چند ایک چینل تو ایسے بھی ہیں جو پاکستان کی مسلمہ اور متفقہ نظریاتی حدوں اور فکری بنیادوں کو مسمار کر کے ایک نئی فلاسفی متعارف کرانے میں دن رات مصروف نظر آتے ہیں۔مجھے یاد ہے ایک متنازعہ چینل کے ایک پروگرام میں دو قومی نظریے کو ڈھکے چھپے لفظوں میں اعتراض کا نشانہ بنایا گیا تو میں نے اس چینل کے مالک کو ایک احتجاجی مراسلہ لکھا، مگر افسوس کہ اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ایک اور اہم بات یہ کہ ہمارے پرائیویٹ چینل نہ جانے کیوں اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ ان کی نشریات سیٹیلائٹ کے ذریعے دنیا بھر میں دیکھی جاتی ہیں۔ جب ہم اپنے نظام اور معاشرے کا تماشہ اڑاتے ہیں تو ساری دنیا ہم پر ہنستی ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ ہمارے نظام اور معاشرے کی منفی عکاسی سے بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کے لیے زندگی اور بھی مشکل ہوجاتی ہے۔ مقامی لوگ انہیں ایک بے ایمان معاشرے کا فرد گردانتے ہوئے ان سے ملنے جلنے میں احتیاط کرنے لگتے ہیں۔آج اگر ہمارے ملک میں بیرون ممالک سے سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے تو اس کی ذمے داری بڑی حد تک ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر بھی عائد ہوتی ہے۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوں یابھتہ خوری کی وارداتیں ہوں یا پھر اغواء برائے تاوان کی تفصیلات،یا پھر پشاور میں ڈیرھ سو کے لگ بھگ معصوم بچوں کے قتل عام پر کسی بھی قسم کی متنازعہ بیان بازی،الیکٹرانک میڈیا کو رپورٹنگ کے دوران محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔الیکٹرانک میڈیا کو احساس ہونا چاہیے کہ لوٹ مار چوری ڈکیتی اور اغواء برائے تاوان کی وارداتیں دنیا بھر میں ہوتی ہیں، بینک بھی لوٹے جاتے ہیں فراڈ بھی ہوتے ہیں ، لڑائی جھگڑے قتل و غارت بھی لیکن کہیں بھی ان واقعات کو قومی اہمیت دے کر بریکنگ نیوز نہیں بنایا جاتا۔میڈیا پر اہمیت صرف اور صرف قومی نوعیت کے معاملات کو ہی دی جانی چاہیے۔ بے شمار معاملات ایسے ہیں کہ جو ساری دنیا میں ہماری رسوائی کا سبب بن رہے ہیں، بہت سے خطرات ایسے ہیں جو ہمارے سروں پر گدھ بن کر منڈلا رہے ہیں۔سرحدوں پر بھارت کے ساتھ روزانہ کی جھڑپیں، افغانستان سے دہشت گردوں کی آمد و رفت،بلدیہ ٹاؤن کراچی میں زندہ جلائے جانے والے معصوموں کی بے بس آہ و بکا ،ہمارے سوکھتے ہوئے دریاؤں کا قصہ، بلوچستان میں علیحدگی کی نام نہاد تحریکوں کے پس منظر میں ہمارے اسی پڑوسی ملک کاچھپا ہوا مکروہ چہرہ، لاکھوں کی تعداد میں اس ملک کی جڑوں کو دیمک کی طرح چاٹتے ہوئے افغان مہاجرین، اور اس ملک میں انتشار پھیلانے میں مصروف بلیک واٹر کے ان گنت بہروپیے۔ہمارا الیکٹرانک میڈیا چاہے تو اسی طرح کے بے شمار موضوعات ایسے ہیں کہ جن پر قوم کو باخبر رکھنے کی اشد ضرورت ہے،میڈیا کا کام خبر تلاش کرنا ہے خبر بنانا نہیں۔مگر افسوس کہ ہمارا الیکٹرانک میڈیا خبر تلاش کرنے کی بجائے خبر بنانے کے کام میں اتنا مصروف ہے کہ اسے اندازہ ہی نہیں اگر یہی رویہ رہا تو یہ سارے کا سارا ملک ایک خبر بن جائے گا۔