مقبول خبریں
نائجیریا کمیونٹی ایسوسی ایشن کا میئر چیئرٹی فنڈریزنگ ڈنر کا اہتمام ،مئیر کونسلر محمد زمان کی خصوصی شرکت
بریگزیٹ بحران :کنزرویٹو پارٹی کی تین خواتین ممبر کی آزاد گروپ میں شمولیت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
معیشت کو درپیش چیلنجز پر بھارتی روپے کی قدر میں تاریخ ساز نمایاں کمی
واشنگٹن ...بھارتی روپیہ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں قدر میں روز بروز کمی آرہی ہے۔ بدھ کو بھارت کی اوپن مارکیٹ میں روپیے کی قدر میں 7ء3 فی صد کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد ایک ڈالر 80ء68 بھارتی روپے کا ہوگیا ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ اکتوبر 1995ء کے بعد سے کسی ایک دن میں روپے کی قدر میں آنے والی یہ سب سے زیادہ کمی ہے۔ منگل کو امریکی ڈالر بھارتی مارکیٹ میں 24ء66 روپے پر بند ہوا تھا۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی روپے کی قدر میں اس نمایاں کمی کی بظاہر وجہ یہ بڑھتے ہوئے خدشات ہیں بھارتی معیشت کو درپیش چیلنجز اور عالمی مارکیٹوں کو درپیش بحرانوں کے سبب بیرونی سرمایہ کار اپنا سرمایہ بھارت سے باہر منتقل کرسکتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق صرف منگل کو ہونے والی ٹریڈنگ کے دوران میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے لگ بھگ ایک ارب ڈالر کے بھارتی حصص فروخت کیے تھے جس کے باعث پہلے سے مشکلات کا شکار روپیہ مزید دباؤ میں آگیا۔ تاجروں کو اندیشہ ہے کہ اگر غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مقامی حصص کی فروخت جاری رکھی تو بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتِ حال بڑھ جائے گی جس کا اثر حصص کی قیمتوں اور روپیے پر پڑے گا۔ بھارتی حکومت اور مرکزی بینک نے روپے کی قدر میں کمی کو روکنے کے لیے گزشتہ ماہ سونے اور خام تیل کی درآمدات کو کم کرنے کے لیے نمایاں اقدامات کیے تھے کیوں کہ ملکی زرِ مبادلہ کا بڑا حصہ ان ہی دو برآمدات کی نذر ہوجاتا ہے۔رائٹرز کے مطابق بھارتی روپیہ نمایاں ایشیائی کرنسیوں میں سب سے زیادہ دباؤ کا شکار ہے جس کی قدر میں رواں سال 20 فی صد سے زیادہ کمی آچکی ہے۔