مقبول خبریں
پاکستانی کمیونٹی سنٹر اولڈہم میں بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا انعقاد، برطانیہ بھر سے 20 ٹیموں کی شرکت
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جگنوئوں کو راستوں کا علم ہونا چاہیے
اپنے پاکستانی دوست کی دعوت پر ایک چینی تاجر چند برس پہلے پاکستان آئے تو یہاں کی ترقی دیکھ کر بہت خوش ہوئے، نئی سڑکیں، نئے پل، شاپنگ مال، بزنس سینٹرز،فلک بوس عمارتیں،لش پش کرتی گاڑیاں اور بہت کچھ، ائر پورٹ سے گاڑی میں گھر کی طرف آتے ہوئے ،چینی تاجر اپنے میزبان سے کہنے لگے ، دس برس پہلے میں پاکستان آیا تھا تو یہ سب کچھ ایسا نہیں تھا، پاکستان بالکل بدل گیا ہے۔ چلتے چلتے ایک جگہ ٹریفک بلاک نظر آئی تو میزبان نے معذرت خواہانہ انداز میں گاڑی ایک بغلی راستے پر ڈال دی۔’ کچھ لوگ باز نہیں آتے۔سڑکوں پر تجاوزات قائم کر لیتے ہیں، اسی سے ٹریفک بلاک ہوجاتی ہے‘، میزبان نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا۔ چینی مہمان مسکرا کر بولے، یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں ۔چین میں بھی کئی لوگ یہ غلطی کر لیتے ہیں۔ کچھ دور اور آگے بڑھے تو سڑک پر گندے پانی کاتالاب سا دکھائی دیا۔ میزبان بڑی احتیاط سے اپنی گاڑی اس تالاب سے گذارتے ہوئے کہنے لگے، بعض دفعہ ہمارے محکمے لاپرواہ ہوجاتے ہیں،شکایت پر فوری توجہ نہیں کرتے، سیوریج والوں کا تو معمول ہی ایسا ہے۔ چینی مہمان مسکرا کر گویا ہوئے، ایسا چین میں بھی ہوتا ہے، پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ آخر گلیوں میں گھومتے گھماتے دوبارہ مین روڈ پر نکلے تو میزبان کی جان میں جان آئی، وہ اپنے چینی مہمان کے سامنے پاکستان کا بہت اچھا تاثر پیش کرنا چاہتا تھا، مین روڈ پر صورت حال بحر طور بہتر ہوتی ہے۔ چند سو فٹ کے فاصلے پر ایک چوک آیا جہاں بدقسمتی ایک بار پھر منتظر دکھائی دی، ایک کمزور منحنی سے گدھے پر منوں ٹنوں کے حساب سے سریا لدا ہوا تھا، گدھے کی ہمت جواب دے گئی، زمین پر گر گیا۔ سریا پاس سے گزرنے والی ایک گاڑی سے ایسا ٹکرایا کہ گاڑی کا ستیا ناس ہوگیا، اس پر ستم یہ کہ ٹریفک وارڈن بھی ڈیوٹی پوائنٹ سے غائب، میزبان کو ایک بار پھر شرمندگی ہونے لگی۔ اسی معذرت خواہانہ انداز میں کہا، ہمارے ہاں کبھی کبھی سرکاری اہلکار ڈیوٹی کے معاملے میں غیر سنجیدہ ہوجاتے ہیں،انسداد بے رحمی ء حیوانات والے بھی اور ٹریفک وارڈن بھی۔ چینی مہمان زیر لب مسکرائے اور کہنے لگے، یہ بھی کوئی پریشانی کی بات نہیں ، چین میں بھی ایسا ہوجاتا ہے۔ مہمان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، مہمان سے بولے، اگر چین میں بھی یہ سب کچھ ایسا ہی ہوتا ہے تو آپ صورت حال سے کیسے نمٹتے ہیں،جرم کرنے والوں کو کیسے روکتے ہیں؟؟؟؟؟ مہمان نے اپنی روایتی چینی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجاتے ہوئے کہا، ہم ان سے نمٹتے نہیں،We just shoot them ۔ معاشرے کو ایک پرسکون اور پر اطمینان صورت میں ڈھالنے کے لیے قانون پر عمل درآمد ضروری ہوتا ہے، قانون بھی وہ کہ جو سب کے لیے ہو۔ انگلستان میں ہماری طرح کی چوڑی چکلی دریاکے پاٹ جیسی سڑکوں کا رواج نہیں۔ عموماََ راستوں کی چوڑائی اتنی ہے کہ ایک گاڑی آسانی سے گزر جائے۔ زیادہ تر سڑکیں ون وے ہیں، ہر سڑک پر حد رفتار مقرر ہے، آپ کسی صورت اس رفتار سے کم نہیں ہوسکتے، راستے میں گاڑی روک کر سلام دعا کا رواج نہیں، دوران ڈرایئونگ موبائل استعمال کرنے کا تصور ہی نہیں اور پھر یہ بھی کہ نہ تو اچانک سے گائے بھینسیں سامنے آتی ہیں نہ ہی کیلے مالٹے امرود کی ریڑھی، ہارن بجانا گناہ ہے، زیبرا کراسنگ کا احترام شاید ان کے عقیدے کا حصہ ہے۔ ان ساری وجوہات کی بناء پر ان تنگ سڑکوں پر بھی کبھی ٹریفک جام نہیں ہوتی۔ہمارے معاشرے میں یہ سب کیوں نہیں، اس بات کا ہمیں شدت سے تب اندازہ ہوتا ہے جب ہم خود انگلستان جائیں یا پھر کبھی انگلستان سے ہماراکوئی عزیز کچھ دن کو پاکستان آجائے۔ موسم ، آب و ہوا،زرخیزی، سمندر اور سب سے بڑھ کر لوگوں کی ذہانت اور محنت کشی، پاکستان میں کیا نہیں۔صرف قانون پر عملدرآمد کی کمزوری نے سارے معاشرے کو دیمک زدہ کر رکھا ہے۔آج پاکستان میں قانون کی عملداری ہوجائے تو یقین کیجیے اس ملک سے اچھا کوئی اور ملک ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گا۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں جرائم کے فروغ میں موبائل فونز کا جتنا کردار ہے دنیا بھر میں اتنا کردار کہیں بھی دیکھنے میں نہیں آتا۔ موبائل فون کمپنیوں نے جو اندھیر اس ملک میں مچائی، اس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔جس نے چاہا، جیسے چاہا سم حاصل کر لی، اس کے بعد بس کھل جا سم سم۔اغواء برائے تاوان سے لے کر خود کش دھماکوں اور بھتہ خوری تک ، سب جرائم کی بنیاد یہی موبائل سم ٹھہری۔ یہ جو سموں کی بائیومیٹرک تصدیق کا اب انتظام کیا گیا ہے اگر ابتداء میں کر لیا جاتا تو اتنی تباہی کبھی نہ ہوتی۔ ہمارے ملک میں جرائم کی ایک بہت بڑی وجہ افغان مہاجرین کی بلا روک ٹوک آمد بھی ہے۔ان مہاجرین نے یہاں آکر پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ تک بنوالیے، جائدادیں خرید لیں، کاروبار شروع کر دیے۔ افغانی اپنی شکل و شباہت اور زبان کی وجہ سے آسانی سے عام آدمی کی پہچان میں نہیں آتے، لوگ انہیں خیبر پختونخواہ کا سمجھ کر ان پر اعتبار بھی کر لیتے ہیں اور بھروسہ بھی۔ یہی سبب ہے کہ ایک بار سسٹم کا حصہ بن جانے کے بعد ان افغانیوں کو معاشرے سے الگ کرنا کسی صورت ممکن ہی نہیں رہتا۔ اگر قانون کی عمل داری ہوتی تو یہ افغانی کسی صورت ہمارے معاشرے کو یوں برباد کرنے کے قابل نہ ہوتے۔ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے جرائم کا خاتمہ اور جرم کو سزا سے منسلک کرنا ازحد ضروری ہے۔سزا نہیں دیں گے تو جرم بڑھتا چلا جائے گا۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اکثر مجرمان اپنی مجرمانہ زندگی کا آغاز سٹریٹ کرائم سے کرتے ہیں، راستہ چلتی عورتوں کے پرس چھیننے سے لے کر موبائل سنیچنگ اور اے ٹی ایم میں پیسے چھیننے تک کی وارداتوں کو نہ تو معاشرہ واردات شمار کرتا ہے نہ ہی پولیس ان وارداتوں کو اہمیت دیتی ہے۔ لیکن یہ وارداتیں جتنا عدم احساس تحفظ اور خوف و ہراس پھیلاتی ہیں اس کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں ۔ معاشرے کے وسیع تر مفاد میں بے حد ضروری ہے کہ سٹریٹ کرائمز کے لیے سخت ترین سزائوں کا نظام قائم کیا جائے اور ان سزائوں پر فوری عملدرآمد کو بھی ممکن بنایا جائے۔ہمیں ایک انتہائی مضبوط معاشرتی نظام کی ضرورت ہے، ہمارے دشمن بھی بے شمار ہیں اور ہمارے بد خواہ بھی ان گنت۔ ہمیں سب سے مقابلہ کرنا ہے اور مقابلے میں کامیاب بھی ہونا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اپنے دشمن کو معاف نہیں کرتی ہیں، معاف کر دیں تو دشمن اور بھی قدآور ہوجاتا ہے۔ حال ہی میں فرانس کے شہر پیرس میں ایک میگزین چارلی ہیبڈو کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے معاملے کو ہی دیکھ لیں، کہا جا رہا ہے کہ مذکورہ واقعہ جس میں مبینہ طور پر دو مسلمان عسکریت پسندوں نے اس گستاخی کا بدلہ لینے کے لیے میگزین کے دفتر پر حملہ کرکے بارہ سے زائد لوگوں کو ماردیا، اس واقعے کے پس منظر میں اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کا ہاتھ تھا۔ اسرائیل کے بارہا منع کرنے کے باوجود بھی ،فرانس نے فلسطین کو تسلیم کیا تھا، اسرائیل نے دیگر یورپی ممالک کو متنبہ کرنے اور فرانس کو سزا دینے کے لیے یہ سارا منصوبہ بنایا، گستاخانہ خاکے بھی اسرائیل کی منصوبہ بندی تھے اور میگزین کے دفتر پر حملہ بھی اسرائیل کی سازش، اس سارے منصوبے کے اسرائیل کو دو فائدے ہوئے، ایک تو فرانس کو ساری مسلم برادری سے لڑواکر اس سے فلسطین کو تسلیم کرنے کا بدلہ لے لیا اوردوسرا یہ کہ مسلمانوں پر دہشت گرد ہونے کا ایک اور ٹھپاٍٖبھی لگا دیا۔اس طرح کے منصوبوں اور سازشوں کا ہمیں بھی سامنا رہے گا،باخبر، محتاط اور متحد رہے تو کامیابی ہمارا مقدر ہوگی، ورنہ صرف اور صرف بربادی۔میاں شہباز شریف نے کسی محفل میں ایک بہت خوبصورت مصرع پڑھا تھا،یہ مصرع ہم سب کے لیے ہے؛ جگنوئوں کو راستوں کا علم ہونا چاہیے