مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیریوں کا موقف تسلیم نہ کئے جانے تک پاکستان ان کی حمائت سے دستبردار نہ ہوگا: سید ابن عباس
بریڈفورڈ ... یہ امر طے ہے کہ جب تک کشمیر کے رہنے والوں کی مرضی اور منشا کے عین مطابق مسئلہ کشمیر کا حل تلاش نہیں کرلیا جاتا جنوبی ایشیاء اور پھر دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا، دنیا کی نظروں کے سامنے کشمیریوں کو نہ صرف ان کے بنیادی اور پیدائشی حق سے محروم رکھا جارہا ہے بلکہ ان کی آواز بند کرنے کیلئے ریاست میں ہر قسم کے ظلم و تشدد کو جائز قرار دے دیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ممبران پارلیمنٹ نے بریڈ فورڈ قونصلیٹ میں منعقدہ یوم یکجہتی کشمیر کی تقریب میں کیا جس کے مہمان خصوصی پاکستانی ہائی کمشنر سید ابن عباس تھے۔ یوم یکجہتی کے سلسلہ میں منعقدہ اس تقریب سے برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر سید ابن عباس ریسپکٹ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ جارج گیلوے، لبرل ڈیموکریٹ کے رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ وارڈ، کنزرویٹو پارٹی کے یورپی رکن پارلیمنٹ امجد بشیر، لیبر پارٹی کے یورپی رکن پارلیمنٹ رچرڈ کوربٹ، بریڈفورڈ کونسل کے ڈپٹی لیڈر عمران حسین، پیپلزپارٹی کے رہنما سردار عبدالرحمٰن خان، تحریک حق خودارادیت کے چیئرمین راجہ نجابت حسین، بریڈفورڈ مسلم وومن فورم کی چیئرپرسن صبیحہ خان اور بریڈفورڈ میں پاکستان کے قونصلر خلیل احمد باجوہ نے خطاب کیا۔ اخلاق احمد کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہونے والی اس تقریب میں شفیلڈ سے نیوکاسل تک شمال مغربی انگلینڈ کی چیدہ چیدہ پاکستانی اور کشمیری شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پاکستان کے ہائی کمشنر نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان نے کشمیریوں کی اس جدوجہد میں پہلے دن سے ان کی جس اخلاقی اور سفارتی مدد کا اعلان کیا تھا بڑی ثابت قدمی سے اس پر قائم ہے۔ پاکستان خطہ میں کسی بھی قسم کی بے چینی اور انتشار نہیں چاہتا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت تک اپنی یہ سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا جب تک کشمیریوں کی مرضی اور منشا کے مطابق ان کا موقف تسلیم نہیں کر لیا جاتا۔ پاکستانی ہائی کمشنر سید ابن عباس نے اسی سال مارچ سے جیری کی فیس 36پونڈ سے کم کرکے 30پونڈ کرنے کے فیصلہ سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ بھی ذاتی طور پر جیری سروس سے چھٹکارا چاہتے ہوں لیکن ایسا کرنا اس لئے ممکن نہیں کہ ان سے پہلے کے لوگوں نے جیری سے ان کی سروسز کیلئے پانچ برس کا معاہدہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ معاہدہ تو ختم نہیں کرسکتا لیکن آپ کو اتنا ضرور یقین دلاتا ہوں کہ 3سال بعد جب اس معاہدہ کی مدت پوری ہوجائے گی تو ہم اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ اگر یہ معاہدہ ختم نہیں ہوسکتا تو آئندہ ایک ایسے شفاف طریقہ سے کسی ایسی کمپنی کو یہ کام دیا جائے جو اسے جیری سے بہتر اور کم قیمت پرکرسکتی ہو۔ کمشنر سید ابن عباس نے برطانیہ میں آباد پاکستانیوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بستر بند اور بکسے کھول لیں، اب یہی ان کا وطن ہے اور انہوں نے اور ان کے بچوں نے اب برطانیہ میں ہی رہنا ہے، ایک طویل عرصہ تک برطانیہ میں رہنے کے بعد مستقل طور واپس پاکستان جانا اور وہیں آباد ہو جانا اتنا آسان نہیں ہے بہتر ہے کہ آپ ذہنی کوفت اور اعصابی کھنچائو سے باہر نکلیں اور اسی ملک کے باشندوں کی حیثیت سے جینا سیکھ لیں، انکا کہنا تھا کہ کمیونٹی کے اصل ہیرو وہ لوگ ہیں جو آج سے پچاس ساٹھ برس قبل پہلی نسل کے طور پر اس ملک میں آئے اور سخت ترین موسموں میں ایک ایسی زمین پر اپنا گھر بنانے میں کامیاب ہوگئے جس کی کہ وہ زبان بھی نہیں جانتے تھے، ہماری پہلی نسل ایک مزدور کی حیثیت سے اس ملک میں آئی اس کا خیال تھا کہ وہ چند سال کی کمائی کے بعد واپس اپنے گھروں کو چلے جائیں گے لیکن اگر وہ واپس نہیں جاسکے تو آپ بھی مستقلاً واپس نہیں جائیں گے۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ دو کشتیوں میں پائوں نہ رکھیں اور اسی ملک کے ذمہ دار شہری بن کر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس طرح پاکستان کیلئے آپ کی محبت کم ہوجائے گی ایسا کبھی نہیں ہوگا کیونکہ آپ کا خمیر اسی دھرتی پاکستان سے اٹھا ہے لیکن اگر آپ کو یہاں ہی رہنا ہے تو میری ایک اور بات بھی مان لیجئے اور اس ملک کی قومی سیاست کے دھارے کا حصہ بن جائیں، آپ یہاں پر جتنے مضبوط ہوں گے اتنا ہی مضبوط آپ کا آبائی وطن پاکستان ہوگا۔ بریڈفورڈ پاکستانی قونصلیٹ کے وسیع ھال میں شفیلڈ، رادھرم، لیڈز، ہیلی فیکس، ہڈرزفیلڈ، ویکفیلڈ، کیتھلے اور نیوکاسل سے آئے ہوئے پاکستانیوں اور کشمیریوں نے ہائی کمشنر کو پاکستان کے ہوائی اڈوں، سرکاری دفاتر اور برطانیہ میں پاکستان کے قونصلیٹس سے متعلقہ مسائل پیش کئے اور انکے فوری حل کی درخواست کی جس پر ہائی کمشنر نے انہیں تمام تر مسائل کے مرحلہ وار حل کی یقین دہانی کرائی۔ تقریب میں آمد پر پاکستانی ہائی کمشنر کا والہانہ استقبال کیا گیا اور انہیں پھولوں کے گلدستے پیش کئے گئے۔