مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اس کے خلاف آواز کون اٹھائے گا
کسی بھی شخص کو اس کے کمترخاندانی پس منظر کی بنیاد پر حقیر جاننا ایک بدترین ناانصافی ہے۔اگر باپ بھیڑ بکریاں چراتا تھا یا پھر جوتے ٹانکنے کی مزدوری کرتا تھا اور اس کا بیٹا پڑھ لکھ کر کوئی بڑا افسر ، سیاستدان یا پھر حکمران بن گیا تو ہمیں اس غریب باپ کی عظمت کو سلام کرنا چاہیے کہ اس نے اپنی غربت اور مجبوریوں کے باوجود اپنے بیٹے کو کامیابیوں کی اعلی ترین منزلوں تک پہنچا دیا۔ اپنے پر سکون زمانہء حال کا دوسروں کے بدحال کل سے موازنہ کرنا انصاف کے تقاضوں کے بالکل منافی ہے۔ گذشتہ دنوں جب مسٹر بارک اوباما بھارت کے یوم جمہوریہ میں شرکت کو آئے تو اچھے میزبانوں کی طرح بھارت نے انہیں بھرپور عزت بھی دی اور اہمیت بھی، ایک موقعے پر مسٹر مودی نے ون آن ون ملاقات کے دوران صدر اوباما کو خود اپنے ہاتھوں سے چائے بھی بنا کر دی، مہمان کی خدمت کرنابہت اچھی بات ہے لیکن نہ جانے کیوں لوگوں نے مودی صاحب کے چائے بنانے کوایک ایسی بحث کا موضوع بنالیا جس کا نہ تو کوئی فائدہ دکھائی دیتا ہے نہ انجام۔ کسی نے کہا کہ مودی صاحب خوشامد میں تمام حدیں پار کر گئے، کوئی بولا مودی صاحب کو اوباما کے سامنے اتنا نہیں گرنا چاہیے تھا، کسی نے آواز لگائی کہ کیا امریکا میں بھارتی وزیر اعظم کو کبھی امریکی صدر نے چائے بنا کر دی لیکن ان سب باتوں سے بڑھ کر تکلیف دہ یہ بات تھی کہ مودی صاحب اوائل عمری میں چائے کے ھوٹل پر ملازم تھے، چائے والا چائے نہیں بنائے گا تو کیا پائے پکائے گا۔ مودی صاحب ماضی میں کیا تھے ہمیں اس بات کو بھول جانا چاہیے، انہوں نے صدر اوباما کے لیے خود چائے بنائی تو اس کی صرف ایک وجہ تھی کہ مودی صاحب کو اپنے سٹاف پر یقین نہیں تھا، ممکن تھا کہ کسی دشمن ملک کی کوئی خفیہ ایجنسی مودی صاحب کے سٹاف کو اپنے ساتھ ملا کر چائے میں زہر ملوا دیتی ، خدانخواستہ صدر اوباما کو کچھ ہوجاتا تو ساری بھارتی قوم کی رسوائی ہوتی۔ اس کے علاوہ تصویر کا ایک رخ اور بھی ہے، اگر مودی صاحب کی چائے صدر اوباما کے لیے کسی بھی نقصان کا باعث بن جاتی تو الزام سارے کا سارا پاکستان اور آئی ایس آئی پر ہی آتا، جیسے ممبئی دھماکوں کے بعد آیا اور جیسے سمجھوتہ ایکسپریس حملوں کے بعد آیا۔ مودی صاحب نے اپنی دانشمندی سے نہ صرف اپنی پوری قوم کو بچالیا بلکہ اس سارے خطے کے امن کو بھی تحفظ فراہم کیا۔اگر ہم مودی صاحب کو ان کے ماضی کی بنا پر لعن طعن کا نشانہ بناتے رہے تو کام نہیں چلے گا۔ ماضی کو بھول جانا بعض دفعہ بہت سی بھلائی کا سبب بھی بن جاتا ہے۔ مودی صاحب کس طرح گجرات میں مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگتے رہے، انہوں نے پاکستان اور مسلمانوں کے لیے کیسی کیسی غلیظ زبان استعمال کی،سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں اور ممبئی بلاسٹ کے بعد وہ پاکستان کے خلاف کیسا زہر اگلتے رہے، امن ، دوستی اور جمہوریت کے وسیع تر مفاد میں ہمیں یہ سب کچھ بھلانا پڑے گا۔ماضی کو کریدنے کی بجائے ہمیں اپنے زمانہ حال پر توجہ دینی چاہیے، یہ اور بات ہے کہ پاک بھارت مراسم کی داستان میں، آج اور کل، دونوں ہی ایک جیسے ملیں گے۔ حال ہی میں بھارت میں روپا پبلیکیشنز نے ایک کتاب شائع کی ہے،کتاب کا نام ہے، WHERE BORDERS BLEED ۔ اس کتاب کے مصنف ایک سابق بھارتی سفارتکار ۶۶ سالہ راجیو ڈوگرا ہیں جو۱۹۹۲ سے ۱۹۹۴ تک کراچی میں بھارت کے قونصل جنرل بھی رہے ۔ ماضی میں تو بی جے پی اور دیگر ہندو انتہا پسند جماعتوں کے اشارے پر پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی پر بے بنیاد الزامات کی بارش کی جاتی تھی مگر اس بار نشانہ پاکستان کی جمہوری حکومت کے سربراہ محترم میاں نواز شریف کو بنایا گیا ہے۔ راجیو ڈوگرا کا کہنا ہے کہ میاں نوز شریف بھارت کے ساتھ مراسم میں دوہری پالیسی رکھتے ہیں۔۱۹۹۳ میں ممبئی میں ہونے والے ۱۳ بم دھماکوں کی تمام تفصیلات میاں نواز شریف کے نہ صرف علم میں تھیں بلکہ انہوں نے ان دھماکوں کی باقائدہ منظوری بھی دی تھی۔ اس کتاب کے حوالے سے آجکل بھارتی اخبارات میں ہر روز تعارفی مضامین شائع ہو رہے ہیں بلکہ سوشل میڈیا کی ایک ویب سائٹ اور ہیرالڈ دکن نے تو اس کتاب اور کتاب میں پاکستان اور میاں نواز شریف کے خلاف کیے جانے والے پراپگینڈے پر خصوصی رپورٹیں تک شائع کر دیں۔لیکن پاکستانیوں کو اس سارے معاملے میں بالکل بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔دنیاجانتی ہے کہ پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے لیے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کس قدر خلوص اور سچائی کے ساتھ ہمیشہ کوشاں رہے ہیں اور یہ کہ اپنے ہر دور اقتدار میں میاں صاحب نے دونوں ممالک کو قریب لانے کے لیے کیسے کیسے اہم اقدامات کیے ہیں۔ممکن ہے ہمارے قریب ترین ھمسایہ ملک بھارت کو اس بات کی تکلیف ہو کہ میاں صاحب نے برسوں پہلے ۱۹۹۰ میں ۵ فروری کو پورے پاکستان میں مظلوم کشمیریوں سے یکجہتی کا دن قرار دینے کی مہم کا آغاز کیا تھا اور اس مہم کے نتیجے میں شہید بی بی بے نظیر نے یوم یکجہتی کو ایک قومی رنگ دینے کے لیے ہر سال عام تعطیل کا اعلان بھی کیا تھا۔بھارتی انتہا پسند ہر اس فرد کے دشمن ہوجاتے ہیں جو کشمیریوں کے حقوق کی بات کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آواز اٹھائے۔ بھارت کی نظر میں میاں نواز شریف کا گناہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے پاکستان کوایٹمی ٖصلاحیت کے حامل گنتی کے چند ممالک کی فہرست میں لا کھڑا کیا۔میاں صاحب کا شروع کردہ یہ سفر آج بھی نہایت کامیابی و کامرانی سے جاری و ساری ہے۔ ۲ فروری ۲۰۱۵ کو ہونے والا رعد کروز میزائل کا کامیاب تجربہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ نہایت قابل ستائش ہے کہ پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام دنیا بھر میں ایک پر امن دفاعی پروگرام کے طور پر جانا جاتا ہے اور دنیا بھر میں کسی کو بھی اس پروگرام سے کوئی خدشات لاحق نہیں۔ اس کے بر عکس بھارتی ایٹمی پروگرام خود امریکا کے لیے بھی تشویش اور فکر مندی کا باعث ہے۔ عبدالطیف بھٹ کشمیر فاؤنڈیشن بلجیم کے ڈائریکٹر ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کے لیے آواز حق بلند کرنے کی خاطر ایک طویل عرصے سے کشمیر واچ کے نام سے ایک آن لائن اخبار بھی نکال رہے ہیں۔میرے دوست ہیں ، رابطے میں رہتے ہیں، دو روز قبل انہوں نے مجھے ایک ای میل فارورڈ کی جو بھارت کے کچھ پڑھے لکھے معتدل مزاج لوگوں کی طرف سے تھی، شاید ایسے ہی لوگوں کو مہذب دنیا سول سوسائٹی کا نام دیتی ہے،ان افراد نے مودی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت نے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے امریکی atomic vendorsکو جو اثتثنی دیا ہے اسے واپس لیا جائے۔ای میل میں بیان کی گئی تفصیلات کے مطابق مذکورہ امریکی اہلکار ایٹمی ریکٹرز میں ہونے والے کسی بھی حادثے کی صورت میں بالکل بھی ذمے دار نہیں ہوں گے۔ بھارتی سول سوسائٹی نے امریکا سے کیے گئے اس معاہدے کو مودی سرکار کی چاپلوسی اور خوشامد قرار دیتے ہوئے اسے بھارتی عوام کے ساتھ کھلی دشمنی قرار دیا ہے۔اور یہ بھی کہا ہے کہ اس طرح کے معاہدے بھارت کے لیے عالمی سطح پر رسوائی کا باعث ہوں گے۔ بھارتی سول سوسائٹی کا مذکورہ مطالبہ بلاشبہ اپنی جگہ نہایت اہمیت کا حامل ہے اور بھارتی رسوائی کا اندیشہ بھی اپنی جگہ بالکل درست ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر کئی دہائیوں سے جاری بھارتی ظلم و ستم، عالمی سطح پر جس طرح سے پوری بھارتی قوم کے لیے ذلت و رسوائی کا باعث بن رہا ہے اس کے خلاف آواز کون اٹھائے گا؟؟؟؟؟؟؟؟؟