مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی عوام کےلئے ہزاروںمسلمانوں نےبھی جانوں کا نذرانہ پیش کیا: بیرونس سعیدہ وارثی
لندن... بیرونس سعیدہ وارثی نے مسلمان برطانوی فوجیوں کے اسکول وزٹس کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہووے کہا ہے کہ اس سے المہاجرون اور انگلش ڈیفنس لیگ جیسی انتہا پسند تنظیموں کے اس پروپیگنڈے کو مسترد کیا جا سکے گا جس میں وہ یہ دعوا کرتے ہیں کہ ایک ہی وقت میں برٹش اور مسلم بننا ممکن نہیں ہے بیرونس سعیدہ وارثی کا کہنا ہے کہ برطانوی عوام کے لئے ہزاروں مسلمانوں نے بھی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران پاکستان کے خطہ پوٹھوار سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مسلمانوں نے جانیں دیں۔ جنگ عظیم کے سو سال پورے ہونے پر آئندہ برس وہ برطانیہ کی ساری کمیونٹیز کو مسلمانوں کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں سے آگاہ کریں گی۔ واضع رہے کہ برطانوی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مسلمان فوجی افسروں کے ساتھ ساتھ دوسرے مذہب کے فوجی افسروں کو بھی سکولوں کی اسمبلیوں میں بھیجا جائے گا جہاں وہ بچوں کو مسلمان فوجیوں کی جانب سے برطانیہ کے لئے دی جانے والی قربانیوں سے آگاہ کریں گے۔ انہیں بتایا جائے گا کہ مسلمان برطانوی فوجیوں نے عراق اور افغانستان میں برطانیہ کے دوسرے مذاہب والے فوجیوں کے ساتھ مل کر جنگ کی ہے اور ان میں سے بعض زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دی میل کی رپورٹ کے مطابق اس بات کی ضرورت اس لئے بھی محسوس کی جا رہی ہے کہ برطانیہ میں برطانوی فوجی کی ہلاکت کے بعد اسلاموفوبیا آٹھ گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ ق ٹاسک فورس کی منظوری کے بعد برطانیہ کے مسلمان فوجی اپنے دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ ان علاقوں کے سکولوں میں جائیں گے جہاں پر مسلمانوں پر زیادہ تعداد میں حملے ہوئے ہیں۔ حکومت کو توقع ہے کہ مسلم فوجیوں کے وزٹ سے برطانیہ میں نسل پرستی کی اس لہر میں کمی آئی گی جو وولچ کے واقع کے بعد شدت اختیار کرگئی ہے۔ برطانوی فوج میں موجود بعض مسلمان افسر فرنٹ رول ادا کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کے لئے فنڈز کمیونٹیز اینڈ لوکل گورنمنٹ کا محکمہ فراہم کرے گا۔ حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ دائیں بازو کی جماعتوں ای ڈی ایل اور بعض مسلمان انتہا پسند تنظیموں کے اس نظریے کی نفی کرنے کے لئے بتایا گیا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ مسلمان محب وطن برطانوی شہری نہیں بن سکتے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مسلمان فوجی مردوں اور خواتین کے لئے شاندار موقع ہے کہ وہ سکولوں میں جائیں اور سارے مذاہب کے بچوں کو یہ بتائیں کہ مسلمانوں نے بھی برطانیہ کے لئے قربانیاں دی ہیں۔ اس سے ان لوگوں کے خلاف طاقتور میسج کمیونٹی میں جائے گا جو وولچ کے واقعہ کا حوالہ دے کر برطانیہ میں اسلامو فوبیا کو ہوا دے رہے ہیں۔