مقبول خبریں
جامع مسجد اولڈہم میں جشن عیدمیلادالنبیؐ کے حوالہ سے محفل کا انعقاد ،حامد سعید کاظمی و دیگر کی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سمندر بھولتا بالکل نہیں ہے
سر!!!سمندر کتنا گہرا ہوتا ہے،؟؟؟ میں نے ایک بار اپنے ایک ٹیچر سے سوال کیا، تب شاید میں چوتھی جماعت میں تھا اور اتفاق سے چند روز پہلے ہی کراچی میں ساحل سمندر بھی دیکھ کر آیا تھا۔میرے ٹیچر نے بہت معصوم سا جواب دیا، سمندر اتنا گہرا ہوتا ہے کہ تم جیسے ایک ہزار بچے ایک کے اوپر ایک کر کے سمندر کی تہہ میں کھڑے ہوجائیں تو بھی ساحل پر کھڑے لوگوں کو نظر نہیں آئیں گے۔آج نصف صدی گزارنے کے بعد بھی میں اکثر اپنے تصور میں ایک ہزار بچوں کو سمندر کی تہہ میں ایک کے اوپر ایک کھڑا کر کے وہ اونچی سی لائن بنانے کی کوشش کرتا ہوں مگر سمندر کی گہرائی کا اندازہ نہیں ہو پاتا۔اگر یہ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو کہ کائنات کی پراسرار ترین حقیقتوں میں سمندر سب سے پراسرار حقیقت ہے۔سمندر کے بارے میں یہ بات بھی مشہورہے کہ جہاز سے لے کر سوئی تک کوئی چیز بھی سمندر میں ڈوب جائے تو سمندر جلد یا بدیر اس چیز کو ساحل پرواپس اگل دیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں ساحل سمندر سے اسی طرح کی چیزیں ڈھونڈنا اور انہیں فروخت کرنا بے شمار لوگوں کا ذریعہ روزگار بھی ہے ا ور مشغلہ بھی۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سمندر کے کچھ اصول ہوتے ہیں جن پر سمندر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔سمندر کے بارے میں مجھے یہ تمام باتیں اور کہاوتیں اس وقت یاد آئیں جب گزشتہ برس ۳۱ دسمبر کی رات بھارتی میڈیا پر اچانک سے ایک خبر بریکنگ نیوز کے طور پر فلیش ہونے لگی کہ بھارتی سمندری محافظوں نے گجرات کے قریب پور مندر کی بندرگاہ سے کوئی356 کلومیٹر کی دوری پر ایک پاکستانی کشتی کو نشانہ بنایا ہے۔ بتایا گیا کہ اس کشتی میں لشکر طیبہ کے دہشت گرد سوار تھے۔ بھارتی ساحلی محافظوں نے کشتی کا بھر پور تعاقب کیا جس کے باعث کشتی میں سوار لشکر طیبہ کے دہشت گرد گھبرا گئے اور انہوں نے خود کو کشتی سمیت دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔انڈین کوسٹل گارڈ کے آئی جی آپریشنز مسٹر کے آر نوتیال نے میڈیا کو بتایا کہ موسم کی شدید خرابی کے سبب نہ تو کوئی لاش مل سکی اور نہ ہی تباہ شدہ کشتی کا کوئی ملبہ۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس واقعے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے محض ایک منفی پراپگینڈہ قرار دیا۔اگرچہ پاکستانی دفتر خارجہ کی اس تردید کو نہ تو بھارتی میڈیا میں کوئی خاص توجہ مل سکی نہ ہی کسی قسم کی اہمیت لیکن بھارتی پارلیمنٹ میں مذکورہ واقعے اور تردید کے حوالے سے بحث و مباحسے کا ایک لامتناہی سلسلہ ضرور شروع ہوگیا۔انڈین نیشنل کانگریس کے ممبران اسمبلی نے مودی سرکار کی جانب سے کیے جانے والے اس پراپگینڈے کو بھارت کے لیے شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک 30 HP کشتی کے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہ انڈین کوسٹل گارڈز کے انتہائی تربیت یافتہ اور جدید ترین سازوسامان سے لیس محافظوں کو کھلے سمندر میں اتنا بے بس کر دے کہ وہ اس کا تعاقب ہی نہ کر سکیں۔ مودی سرکار کا یہ پراپگینڈہ بھارت کے دشمنوں کا حوصلہ بڑھانے کا سبب بنے گا، دنیا جان لے گی انڈین کوسٹل گارڈز میں اتنا دم خم ہی نہیں کہ کسی دشمن کا مقابلہ کر سکیں۔ اپوزیشن کی طرف سے اس شور ھنگامے کے بعد بھارتی حکومت نے ایک دم سے اپنا پرانا بیان بدل کر ایک نیا بیان جاری کر دیا جس میں کہا گیا کہ مذکورہ کشتی کیٹی بندر کراچی سے روانہ ہوئی تھی اور ممکن ہے اس میں کوئی معمولی درجے کے سمگلر سوار ہوں۔ یہ بیان واقعے کے ۴۸ گھنٹے بعد جاری کیا گیا۔ اپوزیشن ارکان نے اس مؤقف کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔اپوزیشن کا کہنا تھا سمگلرز کی ایک کشتی اتنا طویل فاصٖلہ طے کر کے بھارتی سمندری حدود میں سفر کرتی رہی اور ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اس کی خبر ہی نہ ہوسکی، یہ بات اپنی جگہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔قصہ مختصر یہ کہ کشتی والا واقعہ بھی اصل میں ان بہت سارے واقعات کی ایک کڑی ہے جس کے تانے بانے صدر اوباما کے دورہ بھارت سے جڑتے ہیں۔مسٹر اوباما کی بھارت آمد کے موقعے پر مودی سرکارکی خواہش تھی کہ انہیں ثبوتوں کے ساتھ ایک فائل پیش کی جائے جس میں پاکستان پر الزام لگایا جائے کہ پاکستان بھارت میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ کشتی والے کھیل میں بھارتی منصوبہ ساز دو باتیں بالکل ہی بھول گئے، ایک یہ کہ اتنی چھوٹی کشتیاں یوں کھلے سمندر میں خراب موسم میں دوڑنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی ہیں اور دوسری انتہائی دلچسپ بات یہ کہ جس روز یہ واقعہ رپورٹ کیا گیا اس روز بھارتی محکمہ موسمیات نے انتہائی صاف موسم کی پیش گوئی کر رکھی تھی اور یہ پیش گوئی مکمل طور پر صحیح بھی ثابت ہوئی۔محسوس یوں ہوتا ہے کہ صدر اوباما کی آمد پر اس سارے شور ہنگامے کا بنیادی مقصدپاکستان میں مولانا ذکی الرحمان لکھوی کی عدالتی ضمانت کو متنازعہ بنانے اور لشکر طیبہ کو ایک دہشت گرد تنظیم ٹھہرانے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا۔ایسی صورت حال میں حکومت پاکستان یقیناًاس معاملے کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر لے جانے کا فیصلہ کرے گی تاکہ ایک غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد اس طرح کی آئندہ کسی بھی پراپگینڈہ مہم کا آغاز کرنے سے پہلے بھارتی ارباب اختیار کچھ احتیاط سے کام لیں۔مودی سرکار اور بھارتی میڈیا، صدر بارک اوباما کے دورہ بھارت کو نہ جانے کیوں بھارت کی جیت اور پاکستان کی ہار کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے میں مصروف ہیں۔ ہمارے آرمی چیف جنرل راحیل شریف آجکل چین کے دورے پر ہیں ۔ ہمارے وزیر اعظم میاں نوز شریف بھی مختلف اوقات میں مختلف ممالک کے دورے پر جاتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے دوروں کے باالعموم دو طرح کے مقاصد ہوتے ہیں۔ پہلا مقصد ملکی سطح پر باہمی تجدید تعلق ہوتا ہے اور کچھ صورتوں میں میزبان ملک کو یہ پیغام دینا بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی حدود میں رہنے کی کوشش کرے۔ ہماری قومی اور عسکری قیادت بارہا اس نوعیت کے دورے کرتی رہتی ہے۔ آئی ایس آئی چیف جنرل رضوان اختر اور افواج پاکستان کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی نئی افغان حکومت کے قیام کے بعد کئی با ر افغانستان کے اسی نوعیت کے دورے کیے۔ جہاں تک صدر اوباما کے موجودہ دورہ بھارت کی نوعیت کا سوال ہے تو اس کا اندازہ گذشتہ دنوں امریکی وزیر خارجہ مسٹر جان کیری کی اس ڈانٹ پھٹکار سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جو انہوں نے اپنے دورہ بھارت کے دوران ایک اجلاس میں بھارتی مشیر سیکیورٹی مسٹر اجیت کمار دوول کے متنازعہ کردار کے حوالے سے کی۔ اجیت کمار نے اعتراف کیا تھا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ بھی کرتا ہے اور انہیں لاجسٹک سپورٹ بھی فراہم کرتا ہے۔ مسٹر جان کیری نے مودی سرکار کو متنبہ کیا تھا کہ اجیت کمار دوول اور راء کو لگام دی جائے ورنہ نتائج کی ذمے دار خود مودی سرکار ہوگی۔ اس ساری صورت حال میں ہمارا تو بس یہی خیال ہے کہ بھارت سازشوں کا جتنا بھی گہرا سمندر ہو ، ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ سمندر اپنے اندر کچھ بھی رہنے نہیں دیتا، آج، کل یا پھر پرسوں یہ سمندر ان تمام سازشوں کو مردہ مچھلیوں اور ڈوبے جہازوں کی طرح ساحل پر اگال پھینکے گا۔