مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مسئلہ افغانستان کےحل سےقبل مسئلہ کشمیر کا حل بھی ضروری ہے: بیرسٹرسلطان محمود چوہدری
برمنگھم ...آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم و پیپلز پارٹی آزاد کشمیرکے مرکزی رہنما بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ میں برطانیہ میں مسئلہ کشمیر کو جارحانہ انداز میں پیش کرنے کے بعد اب یورپ کے مختلف فورمز پر بھی نہ صرف مسئلہ کشمیر بلکہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارتی کی طرف سے جاری لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں پر بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کو دکھاؤں گا بلکہ ڈیڑھ کروڑ کشمیری عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کراؤں گا کہ مسئلہ افغانستان کے حل سے قبل مسئلہ کشمیر کا حل بھی ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نےبیرسٹر کرامت کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیے گئے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بیرسٹر سلطان آج فرانس، پولینڈ اور بلغاریہ کے پانچ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے جہاں وہ مسئلہ کشمیر، بھارت کی طرف سے جاری لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی آٹھ لاکھ فوج کی طرف سے جاری مظالم پر بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کریں گے۔ اس موقع پر استقبالیہ سے بیرسٹر کرامت، سابق ممبر کشمیر کونسل چوہدری حمید پوٹھی، چوہدری ماجد اسماعیل، چوہدری افضل، چوہدری حنیف ، یوسف بٹ نے بھی خطاب کیا۔ بیرسٹر سلطان نے کہا میں ایک ایسے وقت میں یورپ جا رہا ہوں جب دنیا کی توجہ مسئلہ افغانستان پر لگی ہیں تو انٹرنیشنل کمیونٹی کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اگر دنیا مسئلہ افغانستان حل کرنا چاہتی ہے تو پھر اس ریجن کے امن کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل ہونا بھی انتہائی ضروری ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت دو ایٹمی طاقتیں ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کوئی بھی چھوٹا سا واقعہ یا حادثہ ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔بیرسٹر سلطان نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ آزادی کے بیس کیمپ کو صحیح معنوں میں آزادی کا بیس کیمپ بنایا جائے اور اس کے لئے آزاد کشمیر میں ایک ایسی حکومت ہونی چاہیے جو مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اٹھا سکے اورلائن آف کنٹرول پر پاک، بھارت کشیدگی ختم کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرسکے۔