مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ایک نیا انقلاب فرانس
’ اپنی لڑکیوں کو سنبھال کر کیوں نہیں رکھتے؟ اگر تم انہیں توجہ دوگے تو کسی کو ان پر بری نظر ڈالنے کی ہمت نہیں ہوگی،‘ جج صاحب نے اپنی عدالت میں پیش ہونے والے ادھیڑ عمر شخص کی سرزنش کرتے ہوئے کہا۔ اس شخص کی سات لڑکیوں میں سے دو اپنے اپنے آشناؤں کے ساتھ فرار ہو کر کورٹ میرج کر چکی تھیں اور اس نے عدالت میں دعوی کر رکھا تھا کہ وہ اپنی بیٹیوں کا ولی ہے لہذا اس کی رضامندی کے بغیر ان کی شادی نہیں ہوسکتی۔ لیکن جج صاحب اس سارے معاملے کا کل ذمے دار خود اس شخص کو سمجھ رہے تھے۔ ادھیڑ عمر باپ نے بڑی ہی بے بسی کے ساتھ عدالت میں موجود اپنی دونوں بیٹیوں پر ایک نظر ڈالی اور پھر جج صاحب سے مخاطب ہو کر بولا، جج صاحب آپ خود ہی بتائیں میں کیا کروں۔ میری لکڑیوں کی ایک ٹال ہے، ٹال سے ہٹتا ہوں تو لوگ لکڑیاں اٹھا لیتے ہیں اور گھر سے ہٹتا ہوں تو لوگ لڑکیاں اٹھا لیتے ہیں۔ جاؤں تو کہاں جاؤں؟ گذشتہ نو برس سے انسداد منشیات کی عدالتوں میں بطو ر سرکاری پراسیکیوٹر پیش ہونے والی پاکستان کی واحد خاتون قانون دان حمیرا ناہید کھنڈ نے ایک محفل میں عدالت عالیہ میں سماعت ہونے والے اس کیس کی روداد سنائی تو لمحے بھر کو محفل کشت زعفران بن گئی لیکن اگلے ہی لمحے جب لوگوں نے اس پر مزاح واقعے کے پس منظر میں سسکتی ، اس باپ کی بے بسی اور کرب کو محسوس کیا تو بہت سی آنکھیں پر نم ہو گئیں۔معاشرے کی بھاری بھرکم کتاب کے صفحات پلٹتے جائیں تو اس طرح کی غمزدہ اور مجبو ر سی داستانیں پڑھ کر اکثر دل بوجھل ہو جاتا ہے، آنکھیں تھک جاتی ہیں اور انگلیوں میں مذیدصفحات پلٹنے کی طاقت نہیں رہتی۔ ہم میں سے اکثر لوگ کامیڈی ڈرامے پسند کرتے ہیں اسی لیے کوئی بھی ٹریجک سین آتے ہی فورا چینل جینج کردیتے ہیں، ریموٹ کا یہی سب سے بڑا فائدہ ہے، بٹن دباتے ہی ایک دم سے منظر بدل جاتا ہے، کبھی ٹی وی سکرین پر اور کبھی بازاروں میں،کبھی سکولوں کالجوں میں تو کبھی جلسے جلوسوں اور مذہبی تقریبات میں، اور صرف پاکستان میں ہی نہیں، دنیا بھر میں ریموٹ کا اس طرح کا استعمال بے حد تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔بندوق کا ٹرائیگر ہو یا پھر دستی بم کی پن یا پھر خود کش جیکٹ کا ڈیٹونیٹر، یہ سب کے سب ریموٹ کے بٹن کی طرح ہوتے ہیں، ادھر دبایا، ادھر منظر بدل گیا۔صرف یہی نہیں، بلکہ کچھ مقرر، کچھ لکھاری،کچھ تجزیہ کاربھی ایسے ہوتے ہیں جنہیں ریموٹ سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو عام فہم زبان میں کٹھ پتلی کہا جاتا ہے۔ یہ کٹھ پتلیاں بین الاقوامی سازشی سیاست میں اتنا بھرپور کردار ادا کرتی ہیں کہ عام آدمی کو تو اس کا اندازہ بھی نہیں ہو سکتا۔ممبئی دھماکے ہوں یا پھر بابری مسجد کی شہادت کا معاملہ، سمجھوتہ ایکسپریس نذر آتش کرنے کا قصہ ہو یا پھرکابل میں بھارتی سفارت خانے پر حملے کی روداد،یہ کم فہم کٹھ پتلیاں ہمیشہ ایک نہایت متحرک کردار ادا کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ حال ہی میں فرانس سے شائع ہونے والے میگزین شارلی ایبڈو کے دفتر پر حملے کے فوری بعد سے کچھ مخصوص مفادات کے حامل مغربی اور بھارتی تجزیہ کار اس واقعے کی کڑیاں پاکستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں روپوش غیر ملکی دہشت گردوں سے جوڑنے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف ہیں۔ مذکورہ میگزین مسلمان اکابرین کی توہین اور تضحیک کے حوالے سے ایک بد ترین شہرت کا حامل رہا ہے، اب اسے مسلمانوں کی کمزوری کہیے یا پھر بے بسی کہ اس واقعے سے پہلے دنیا بھر کے مسلمان مل کر بھی اس میگزین کی مذموم کاروائیوں کے خلاف احتجاج اور مذمت کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کر سکے، کچھ تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ مسلمان عسکری تنظیموں میں اتنا دم خم اور اتنا زور ہی نہیں کہ وہ مغربی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف عیسائی اور یہودی انتہا پسندوں کا بال بھی بیکا کر سکیں۔لہذا شارلی ایبڈو پر حملے کے حوالے سے یہ گمان کرنا کہ یہ حملہ مسلمانوں نے کیا ہے ، سر دست ناممکن سا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان میں لوگوں کا عام خیال یہی ہے کہ مذکورہ واقعہ بھی 9/11 کی طرح مسلمانوں کے خلاف کسی نئی جنگ کی بنیاد قرار پائے گا۔ افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کے ساتھ ہی، امریکی سرپرستی میں جاری دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ بھی دم توڑ دے گی۔ ایسے میں مسلمانوں کو مزید برباد اور کمزور کرنے کے لیے، مسلمان دشمن ملکوں کو ایک نئی جنگ کی بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے، امکان یہی ہے کہ فرانس کے شہر پیرس میں میگزین کے دفتر پر ہونے والا حملہ اس نئی جنگ کی بنیادوں کے لیے پہلی اینٹ ثابت ہوگا۔ صاحبان فکر کے لیے شارلی ایبڈو پر ہونے والے حملے کے بعد ساری دنیا کی طرف سے اظہار یکجہتی بھی اپنی جگہ ایک بھر پور پیغام ہے۔ میگزین پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں عملے کے جو افراد جہنم واصل ہوئے ان کے سوگ میں پورے فرانس میں جگہ جگہ تعزیتی جلسے جلوس منعقد ہوئے، ڈھیروں دعائیہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ان تقریبات میں دنیا بھر سے چالیس سے زیادہ سربراہان مملکت نے شرکت کی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ یہ سارا اظہار یکجہتی محض بارہ افراد کے مارے جانے پر کیا گیا،اور ان بارہ میں اکثر وہ افراد تھے جو مسلمانوں کی دل آزاری کے جرم میں براہ راست ملوث تھے، پاکستان میں آرمی پبلک سکول پشاور کے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ معصوم اور بے گناہ طلباء اور ان کے اساتذہ کو خون میں نہلادیا گیا مگر دنیا کے کسی بھی سربراہ مملکت نے اظہار تعزیت اور اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان آنے کی زحمت نہیں کی۔یعنی یہ کہ دنیا کی نظروں میں فرانس میں مارے جانے والے وہ بارہ افراد اہمیت رکھتے تھے کہ جو گناہ گار بھی تھے اور مجرم بھی لیکن ہمارے ڈیڑھ سو بے گناہوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہاں قارئین کی دلچسپی کے لیے یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ مذکورہ ہفت روزہ میگزین کی معمول کی اشاعت ساٹھ ہزار کاپیوں پر مشتمل ہوتی تھی لیکن اس حملے کے بعد میگزین کی انتظامیہ نے عالمی مقبولیت کے پیش نظر آئیندہ شماروں کی اشاعت تیس لاکھ کاپیوں تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ادارے کو مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے حکومت فرانس نے ایک لاکھ یورو کی امداد کا وعدہ کیا ہے۔ گارڈین میڈیا گروپ کی طرف سے ایک لاکھ پاؤنڈ ایف ایف ڈی آئی کی طرف سے ڈھائی لاکھ یورو اور فرانس کے اشاعتی اداروں کی یونین کی طرف سے بھی ڈھائی لاکھ یورو امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ شارلی ایبڈو کے قانونی مشیر رچرڈ مالکا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دنیا اس میگزین کی اشاعت کو کبھی بند نہیں ہونے دے گی، اسی لیے ہمارے میگزین کو ہر طرف سے بھرپور مدد دی جارہی ہے۔ مذکورہ میگزین کی تیاری میں مصروف عملے کے ایک رکن نے ڈھکے چھپے لفظوں میں ایک میڈیا نمائندے کو بتایا کہ اگلے تمام شماروں میں مسلمانوں کے لیے’ بہت کچھ ‘ ہوگا۔یہ صورت حال صرف پاکستان کے لیے ہی نہیں دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے۔ دنیا ہمیں اشتعال دلا کر ہماری بے بسی کا نیا تماشہ دیکھنا چاہتی ہے۔اقوام عالم کو بخوبی اندازہ ہے کہ ہم صرف اپنوں کو مارنے کے شیر ہیں۔ ہمارے اندر اگر قوت ہوتی تو آج سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین اور پادری ٹیری جونز جیسے ملعون عیش اور آزادی کے ساتھ زندگی نہ گزار رہے ہوتے۔شاید ابھی بھی کچھ وقت اور کچھ امکانات باقی ہیں۔اگر ہم سمجھ لیں کہ اقوام عالم کا مفاد ہمارے بکھرنے میں ہے ، اگر ہم جان لیں کہ ہماری بقاء ہمارے اتحاد میں پوشیدہ ہے ، اگر ہم اس حقیقت کو بھی تسلیم کر لیں کہ عالمی سازشوں کو عملی صورت دینے میں ہمارے اپنے ہی لوگ ، ہمارے اپنے ہی بھائی آلہ کار بن رہے ہیں اور اس سب کے ساتھ ہم خود کو اس بات پر بھی قائل کر لیں کہ ہمیں ہر حال میں کامیاب ہونا ہے توفتح ہمارا مقدر ٹھہرے گی۔حقیقت کے ادراک اور یقین محکم کے بغیر کوئی بھی سفر کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتا۔