مقبول خبریں
مکس مارشل آرٹ کونسل اور چیریٹی آرگنائزیشن کے زیر اہتمام تقریب کا انعقاد
بریگزیٹ بحران :کنزرویٹو پارٹی کی تین خواتین ممبر کی آزاد گروپ میں شمولیت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دہشت گردی کو اسلام سے جوڑ کر تیسری جنگ عظیم کی بنیادیں رکھی جارہی ہیں: بنات المسلمین مذاکرہ
برمنگھم ... خواتین کو آگے بڑھ کر زندگی کے ہر شعبہ میں نمایاں کارکردگی دیکھانی ہوگی۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں خواتین کو حقوق اور نمایاں مقام حاصل ہے۔ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑ کر تیسری جنگ عظیم کی بنیادیں رکھی جارہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار بنات المسلمین کے زیر اہتمام مختلف مسائل پر مبنی محفل مذاکرہ میں شرکاء مہمانوں نے مختلف سوالات اور لگائے گئے مختلف اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ چیئرپرسن بنات المسلمین سمیرا فرخ کی صدارت میں منعقدہ اس منفرد تقریب میں روایتی تقریروں کی بجائے حاضرین نے پینل میں موجود زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ افراد اور ان کی نمائندگی کرنے والوں سے روزہ مرہ کے مختلف مسائل، مختلف چینلز ور خرابیوں کی نشاندہی کرتےہوئے مختلف سوالات کئے، پینل میں ممبر آف پارلیمنٹ خالد محمود، لیام برن، قونصلیٹ جنرل آف پاکستان برمنگھم سید معروف احمد، رارڈ میئر شفیق شاہ، سابق لارڈ میئر بریڈ فورڈ چوہدری خادم حسین، میئر آف ہینڈ برن ہینڈبرن چوہدری منصف داد، چیئرمین قادریہ ٹرسٹ صاحبزادہ پیر محمد طیب الرحمن قادری، چیئرمین مسلم ہینڈز کے صاحبزادہ سید لخت حسنین، پرنسپل سٹی حسنات کالج ڈاکٹر اقتدار احمدچیمہ ، ڈپٹی پولیس کمشنر ایوان مسکیٹو، کونسلر ماجد خان، کونسلر اعظمی احمد، کونسلر ادریس، ڈاکٹر شوکت نواز شامل تھے۔ جب کہ نظامت کے فرائض کو نسلر محمد اخلاق نے سر انجام دیئے۔ تقریب کے آغاز پر سمیرا فرخ اور انیلہ اسد نے تقریب کے مقاصد بیان کرتے ہوئے تمام شرکاء اور معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب میں خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر آئمہ خان نے سوال کیا کہ پاکستان قونصلیٹ برمنگھم میں خواتین کیلئے سہولیات کا فقدان ہے۔ اس پر قونصلیٹ جنرل نے یقین دلایا کہ ان کی تعیناتی ابھی ہوئی ہے عنقریب مسائل پر قابو پالیا جائے گا۔ خواتین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ خواتین بلخصوص سوشل شعبہ میں کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی اس پر مختلف مہمانوں نے کہا کہ اس تقریب کا انعقاد خواتین نے کرکے اس کا جواب دے دیا ہے۔ جب کہ پیر لخت حسنین نے کہا کہ گھروں میں خواتین کا راج ہے اور وہ ہمارے لئے وزیراعظم ہیں۔ حسینہ بیگم کے سوال پر MPخالد محمود نے کہا کہ مساجد پر اعتراض کرنے کی بجائے بچوں کو من پسند مسجد اور دینی مدارس میں بھیجا جائے۔ ایک خواتین نے مساجد کے ناقص اور ناکام کردار پر سوال اٹھایا تو خالد محمود ایم پی نے کہا کہ مساجد پر تنقید سے ہمارا نقصان ہورہا ہے۔ پہلے ہی کمیونٹی تقسیم ہوکر کمزور ہوچکی ہے۔ ملک فیاض، محمد علی ربنواز چغتائی نے بھی سوالات کئے اور اپنے خدشات و تحفظات سے پینل کو آگاہ کیا۔ سماجی ورکر رضیہ ہدایت نے سیکس گرومنگ، خواتین پر گھریلوتشدد اور جنسی ہراساں پر کرنے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا، صاحبزادہ پیر سید لخت حسنین شاہ نے آخر میں بحث کو سمیٹتے ہوئے دعائے خیر سے تقریب کا اختتام کیا۔