مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
سوال نفرت،جواب نفرت
آپ کو معلوم ہے بھارت کا سب سے دیانتدار سیاستدان کون ہے؟؟؟؟؟ مئی ۲۰۱۳ میں پورے ہندوستان میں ایک این جی او نے اس حوالے سے رائے شماری کروائی تو ہر طرف سے ایک ہی نام سامنے آیا، مس ممتا بنرجی۔ بھارت کی اس دیانتدار ترین سیاستدان نے ساری زندگی مذہب اور عقیدے کی قید سے آزاد ہو کر صرف اور صرف معاشرے کے ستم رسیدہ اور کچلے ہوئے افراد کی آواز کو بلند کیا۔ ۱۹۵۵ میں ایک غریب گھر میں جنم لینے والی ممتا بنرجی کی مفلسی کا اندازہ محض اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے والد محترم صرف اس لیے موت کے منہ میں چلے گئے کہ اس گھرانے کے پاس ان کا علاج کروانے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ آج ممتا جی بنگال کی چیف منسٹر ہیں اور خاص و عام میں ’ ممتا دی دی ‘کے لقب سے مقبول ہیں۔ انہیں مودی سرکار کی پالیسیوں پر سخت تنقیدکے باعث اکثر مخالفت اور سازشوں کا سامنا رہتا ہے۔ چند روز پیشتر، مغربی بنگال کے علاقے مشرقی مدنا پور میں ایک سیاسی جلسے کے دوران ممتا بنرجی کے بھانجے ابھیشک بنرجی کو ایک سیاسی کارکن کی طرف سے مارے جانے والا تھپڑ بھی اسی سازشی مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مس ممتا بنرجی نے گذشتہ دسمبر کے دوسرے ہفتے میں بین الاقوامی میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا، ’ میں آج تک یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ مسٹر مودی سارے بھارت کے وزیر اعظم ہیں یا پھر انتہا پسند ہندوؤں میں مقبول HINDUTVA فلسفے کے پیروکار۔مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے مودی صاحب ہندوؤں کی کسی عالمی انتہا پسند تنظیم کے سر پنچ ہیں اور امریکی مفادات کی دیکھ بھال پر مامور ہیں۔‘ مس ممتا بنرجی نے یہ بیان، سال گذشتہ کے اختتامی مہینوں میں، ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کو زبردستی ہندومت اختیار کرنے کی مہم اور اس مہم پر مودی سرکار کی مکمل بے حسی اور خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے دیا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ ممتا دی دی کے اس بیان کا جواب مودی سرکار نے ان کے بھانجے ابھیشک کو تھپڑ کی صورت میں دیا۔معلوم نہیں مودی سرکار کی طرف سے اس طرح کا تھپڑ ابھی اور کس کس کو پڑے گا لیکن مودی صاحب اپنی ذات میں بہت سمجھدار آدمی ہیں، صورت حال دیکھ کر فورا پینترا بدل لیتے ہیں۔ گذشتہ ستمبر میں بھارت کے مسلمانوں کے لیے خصوصی طور پر القائدہ کے سربراہ ایمن الزواھری کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا۔اس بیان کے ردعمل میں مسٹر نریندر مودی نے جو جواب دیا وہ مسٹر مودی کی گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کی صلاحیت کی بھرپور غمازی کرتا ہے۔ ایمن الزواھری نے اپنے بیان میں کہا تھا،’ میں ہندوستان کے مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس عالمی جہاد کا حصہ بن جائیں جو برصغیر میں اسلام دشمن قوتوں کے خلاف جاری ہے۔ ہمیں نفاذشریعت کے ذریعے اسلامی پرچم کو دنیا بھر میں لہرانا ہے‘۔ ایمن الزواھری نے اس موقعے پر عاصم عمر کی سربراہی میں قائدۃ الجہاد کے نام سے ایک ذیلی تنظیم کے قیام کا اعلان بھی کیا۔ یہ صورت حال مودی صاحب کے لیے بحر حال کچھ زیادہ خوش کن اور اطمینان بخش نہیں تھی۔ تاہم اپنی روایتی مکارانہ ہندو ذہنیت کا مظاھرہ کرتے ہوئے انہوں نے فوری طور پر بھارتی مسلمانوں کے لیے منافقت سے بھرپور اپنا پالیسی بیان جاری کر دیا۔ انہوں نے کہا،’ بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمان کسی صورت بھی کسی ایسی مہم کا حصہ نہیں بن سکتے جو بھارت دیش کی بربادی کا سبب بنے۔ مسلمان بھارت کا حصہ ہیں اور انہیں کوئی بھی اپنے ملک کے خلاف اکسانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔‘ ایک انگریز صحافی کا کہنا ہے کہ مسٹر مودی جب یہ بیان جاری کر رہے تھے تو وہ گجرات میں مسلما نوں کے خون کی ہولی کھیلنے والے مودی کی بجائے بڑے جذباتی قسم کے مسلمان مبلغ اور مسلمان راہنما دکھائی دے رہے تھے۔ نفرت کسی عارضی یا وقتی جزبے کا نام نہیں۔نفرت، ناپسند یدگی کی ایک انتہائی نہج کو کہتے ہیں۔ یوں سمجھ لیں کی ناپسند یدگی جب خون میں شامل ہوکر رگوں میں دوڑنے لگے تو نفرت کا روپ دھار لیتی ہے۔ ناپسندیدگی سے نفرت تک کا سفر طے کرنے میں زمانے لگ جاتے ہیں، مودی صاحب یہ تمام زمانے عبور کر چکے ہیں۔ ان کے ہونٹوں پر اگر مسلمانوں کے لیے کوئی اچھی بات آ بھی جائے تو سمجھ لیں کہ یا تو مودی صاحب ہوش میں نہیں ہیں، یا پھر منافقت اور مکا ری کا مظاھرہ کر رہے ہیں۔ مودی صاحب کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی سیاسی جوتشی اس بات کی خبر دے رہے تھے کہ ان کے دور اقتدار میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات اتنے بگڑ جائیں گے کہ جنہیں سنبھالنے کے لیے کئی برس درکار ہوں گے۔ جوتشیوں کا کہنا سچ ثابت ہوا، آج پاکستان اور بھارت کے بیچ تعلقات کی جو بدترین صورت حال ہے اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ بات چیت کے لیے بلا کر ہمارے دو رینجر اہلکاروں کو براہ راست فائرنگ کر کے شہید کردیا گیا، ایسا تو جنگل میں بھی نہیں ہوتا۔کرائے کے قاتلوں کے بھی کچھ اصول ضرور ہوتے ہوں گے۔لیکن مسٹر مودی کی قیادت میں بھارتی فوج نے لاقانونیت اور ہٹ دھرمی کے ہر اصول کو پامال کر دیا۔ صرف اسی پر بس نہیں، گزشتہ کئی ماہ سے جان بوجھ کر لائن آف کنٹرول پر جنگ کی سی صورت حال پیدا کی جارہی ہے۔ بے گناہ شہریوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے، املاک کو نقصان پہنچایا جارہا ہے ۔ د فاعی ماہرین بھارتی لاقانونیت کو افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی اور پاکستان میں زور وشور سے جاری آپریشن ضرب عضب سے جوڑ رہے ہیں۔ برس ہا برس سے بھارت امریکہ کی رخصتی کے بعد خود کو افغانستان میں امریکی جانشین کے طور پر دیکھ رہا تھا، اگر کرزئی صاحب مذید کچھ اور برس افغانستان کے صدر رہ جاتے تو بھارت کے لیے یہ جانشینی بڑی حد تک ممکن ہوسکتی تھی لیکن جناب اشرف غنی کے مسند صدارت پر فائز ہونے کے بعد بھارت کے ایسے تمام خواب ریت کا محل ثابت ہوئے۔ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے بھی اس حوالے سے ایک نہایت مثبت کردار ادا کیا اور جناب اشرف غنی کو احساس دلانے میں کامیابی حاصل کر لی کہ افغانستان کے ایک روشن مستقبل کے لیے پاکستان سے بڑھ کر معاون و مدد گار اور کوئی بھی نہیں ہو سکتا۔ جناب اشرف غنی نے اس نئے منظر کو سمجھتے ہوئے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں اپنے بھر پور تعاون کا یقین بھی دلا دیا۔ اس صورت حال میں بھارت کے لیے ایک واحد راستہ باقی رہ گیا،’ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے۔‘ چنانچہ اسی خیال کے پیش نظر، آپریشن ضرب عضب کی کامیابی سے خائف ہو کر بھارت نے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کی توجہ بٹانے کے لیے سرحدوں پر بلاجواز اشتعال انگیزی کا سلسلہ شروع کر دیا۔یہی نہیں بلکہ پاکستانی عوام اور سیکیورٹی اداروں سے بر سر پیکار دہشت گردوں کو نئی امداد کی فراہمی بھی شروع کر دی تاکہ وہ مزید قوت کے ساتھ پاکستان کی بنیادیں ہلانے کے کام میں مصروف ہو جائیں۔افسوس بلکہ شرم کی بات یہ کہ پاکستان میں برسوں سے جیلوں میں بند سزائے موت کے قیدیوں کی سزاؤں پر ہونے والے عملدرآمدپر فکر مندی اور پریشانی کا اظہار کرنے والے مسٹر بان کی مون کو بھارت کی کوئی زیادتی دکھائی نہیں دیتی۔ بعض دفعہ تو یوں لگتا ہے جیسے مسٹر بان کی مون اقوام متحدہ کی نہیں بلکہ پاکستان مخالف قوتوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔