مقبول خبریں
جامع مسجد اولڈہم میں جشن عیدمیلادالنبیؐ کے حوالہ سے محفل کا انعقاد ،حامد سعید کاظمی و دیگر کی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
لڑائی اورعدم استحکام نےخطے کو کئی دہائیوں سےجکڑے رکھا،خاتمہ ضروری ہے: نواز شریف
اسلام آباد ... افغان صدر حامد کرزئی نےتوقع کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان مصالحتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے افغان اعلٰی امن کونسل اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے انعقاد میں مدد کرے گا ۔ پیر کو اعلٰی سطحی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچنے کے بعد صدر کرزئی نے وزیر اعظم نواز شریف سےملاقات کی جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، جن میں پاکستان کی طرف سے فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی شرکت کی۔ وزیر اعظم نواز شریف اور صدر حامد کرزئی کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تجارت، معیشت، توانائی اور مواصلات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ افغان صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرحد کے دونوں اطراف قیام امن کے لیے پاکستان اور افغانستان کو دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ اُن کا ملک مستحکم، متحد اور پرامن افغانستان کا خواہاں ہے۔ اُنھوں نے صدر کرزئی کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے بین الاقوامی برادری کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرے گا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ لڑائی اور عدم استحکام جس نے اس خطے کو کئی دہائیوں سے جکڑ رکھا ہے اب اس کا خاتمہ ضروری ہے۔ صدر حامد کرزئی نے اپنے ہم منصب آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کی۔ نواز شریف کی جانب سے وزارت عظمٰی کا منصب سنبھالنے کے بعد افغان صدر کا یہ پہلا دورہ اسلام آباد ہے اور پاکستانی حکام کے مطابق اس سے دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے میں مدد ملی ہے۔