مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
لڑائی اورعدم استحکام نےخطے کو کئی دہائیوں سےجکڑے رکھا،خاتمہ ضروری ہے: نواز شریف
اسلام آباد ... افغان صدر حامد کرزئی نےتوقع کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان مصالحتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے افغان اعلٰی امن کونسل اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے انعقاد میں مدد کرے گا ۔ پیر کو اعلٰی سطحی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچنے کے بعد صدر کرزئی نے وزیر اعظم نواز شریف سےملاقات کی جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، جن میں پاکستان کی طرف سے فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی شرکت کی۔ وزیر اعظم نواز شریف اور صدر حامد کرزئی کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تجارت، معیشت، توانائی اور مواصلات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ افغان صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرحد کے دونوں اطراف قیام امن کے لیے پاکستان اور افغانستان کو دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ اُن کا ملک مستحکم، متحد اور پرامن افغانستان کا خواہاں ہے۔ اُنھوں نے صدر کرزئی کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے بین الاقوامی برادری کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرے گا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ لڑائی اور عدم استحکام جس نے اس خطے کو کئی دہائیوں سے جکڑ رکھا ہے اب اس کا خاتمہ ضروری ہے۔ صدر حامد کرزئی نے اپنے ہم منصب آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کی۔ نواز شریف کی جانب سے وزارت عظمٰی کا منصب سنبھالنے کے بعد افغان صدر کا یہ پہلا دورہ اسلام آباد ہے اور پاکستانی حکام کے مطابق اس سے دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے میں مدد ملی ہے۔