مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی شہریوں کی ایک بڑی تعدادپر کشش ملازمت کی خاطر بیرون ملک منتقل ہورہی ہے
لندن ... ایک حالیہ تحقیق کے مطابق آبادی میں اضافہ اور پبلک سیکٹر کی سہولیات میں کمی جیسے مسئلے پر قابو پانے کے لیے برطانیہ کو بیرون ملک کے تعلیم یافتہ ہنرمند اور پیشہ ورافراد کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ ہرسال برطانوی شہریوں کی ایک بڑی تعداد عالمی منڈی کی پر کشش ملازمت کی خاطر برطانیہ کو خیرباد کہہ کر بیرون ملک منتقل ہو رہی ہے۔اس وجہ سے موجودہ صورتحال میں برطانیہ میں ہنرمند اور پیشہ ورنوجوانوں کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ بہتر معیار زندگی اور موسم کے ساتھ ساتھ ملازمت میں ترقی کے مواقع چند ایسی وجوہات رہی ہیں جن کی وجہ سےگذشتہ برسوں میں بڑی تعداد میں ڈاکٹر، سائنسدان، اساتذہ اور کمپنیوں کےایگزیکٹیو برطانیہ سے ترک وطن کرکے بیرون ملک منتقل ہو گئے ہیں۔ برطانوی روزنامہ ٹیلی گراف کی خبر کے مطابق ، گذشتہ ہفتے حزب اختلاف جماعت کنزرویٹیو سے تعلق رکھنے والے وزیر نک ڈی بوائس نے لیبرمارکیٹ کو درپیش خطرہ سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی لیبرمارکیٹ تعلیم یافتہ انتہائی ہنرمند اورپیشہ ور افراد کی قلت کا شکار ہےاس مسئلے پر قابو پانے کےلیےحکومت جلد ازجلد اقدامات کرے ۔ان کا یہ بیان اسوقت سامنے آیا ہے جب ایک سرکاری رپورٹ کے اعدادوشمارمیں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ برسوں کےمقابلے میں پچھلے سال سب سے زیادہ بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ ہنرمند برطانیہ سے ہجرت کر کے بیرون ملک منتقل ہوئے ہیں۔ قومی شماریات کے دفتر(ONS)سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق کل 154,000 افراد بہتر رہائش زندگی کی تلاش میں برطانیہ سے ہجرت کر کے دیارغیرجا بسے ہیں ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ، بیرون ملک ہجرت کرنے والوں میں برطانوی نژاد شہریوں کی تعداد تقریبا ایک لاکھ تھی جبکہ ایسا پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ ، برطانیہ سے ہجرت کرنے والےتارکین وطن اوربرطانوی نژاد افراد کی تعداد لگ بھگ برابر ہو گئی ہے جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ،ہجرت کرنے والوں میں بڑی تعداد ان نوجوانوں کی ہے جن کی عمریں 25 برس سے 44 برس کے درمیان ہے ۔ رپورٹ میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ، برطانیہ کی بہترین یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے والے نوجوان بیرون ملک ملازمت کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں سال 2011 کے اعدادوشمار کے مطابق ، آکسفورڈ یا کیمبرج جیسی بہترین یونیورسٹیوں سےتعلیم مکمل کرنے والا ہردس میں سے ایک نوجوان برطانیہ سے باہر ملازمت کر رہا ہے ۔