مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے سکھ فیڈریشن کا مظاہرہ، مسلمان رہنمائوں کی شرکت اور اظہار یکجہتی
برمنگھم ... بھارت ایک طرف تو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے کرتا ہے اور دوسری طرف انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں بھی اسی ملک میں ہوتی ہیں، بھارت میں آباد کوئی اقلیت ایسی نہیں جو سرکار کے غیض و غضب کا نشانہ نہ بنی ہو ، ان خیالات کا اظہار سکھ فیڈریشن یوکے کے زیر اہتمام بھارتی قونصلیٹ کے باہر ایک احتجاجی مظاہرے میں کیا گیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ سکھ برادری کے بے جا طور پر قید کئے گئے جوانوں کو بھارت سرکار فی الفور رہا کرتے۔ انکا کہنا تھا کہ بھارت سرکار کی غاصبانہ پالیسی کی وجہ سے بھارت کے اندر بسنے والی اقلیتوں میں سخت بے چینی کی سی صورت حال پائی جاتی ہے۔ اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ ایک طرف بھارت اپنے آپ کو دنیا کی بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے اور دوسری طرف اقلیتوں کے بنیادی حقوق غصب کیے جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کے حوالے سے ہونے والے اس مظاہرے میں ممبر پارلیمنٹ خالد محمود اور تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی نے بھی اظہار خیال کیا۔ جبکہ کونسلر عنصر علی خان، کونسلر مریم خان کونسلر آٹوال سنگھ کے علاوہ سینکڑوں سکھ سراپا احتجاج تھے۔ انکا کہنا تھا کہ بھارت میں کالے قانون کے تحت گرفتار سیاسی رہنمائوں کو رہا کیا جائے۔ گورو بخسک سنگھ جو ایک سیاسی قیدی ہیں طویل عرصہ سے جیل میں ہیں۔ اپنی سزا کاٹ چکنے کے باوجود کس قانون کے تحت جیل میں ہیں۔ بھارت اگر حقیقی جمہوریت ہوتا تو گورو بخسک سنگھ کی چھیالیس دن کی بھوک ہڑتال کا نوٹس لیتا۔ ممبر آف پارلیمنٹ مرزا خالد محمود نے کہا کہ ہم اس طرح کھلے عام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش نہیں بیٹھیں گے بلکہ اس مسئلہ کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جائے گا۔ کونسلر آٹوال سنگھ نے کہاکہ اگر ہمیں انصاف نہ ملا اور سکھ کمیونٹی کے ساتھ غاصبانہ سلوک بند نہ ہوا تو ہم مظاہرہ کا دائرہ کار پارلیمنٹ اور یورپین پارلیمنٹ، انسانی حقوق کی تنظیموں کے سامنے بھی کریں گے اور آخری سیاسی قیدی کی رہائی تک جہدوجہد جاری رکھیں گے۔ تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے کہا کہ ہم سکھوں کی اس تحریک کی مکمل حمایت اور سپورٹ کرتے ہیں۔ بھارت کے علاوہ مقبوضہ وادی کے اندر بھی جتنے سیاسی قیدی اور رہنما ہیں انہیں فلفور رہا کیا جائے۔ کونسلر عنصر علی خان، کونسلر مریم خان اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے رہنمائوں نے بھی اس ایشو پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزاد میڈیا کی موجودگی میں اب بھارتی وزیراعظم کسی دوسرے سانحہ گجرات کو نہیں کرواسکتے۔