مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے سکھ فیڈریشن کا مظاہرہ، مسلمان رہنمائوں کی شرکت اور اظہار یکجہتی
برمنگھم ... بھارت ایک طرف تو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے کرتا ہے اور دوسری طرف انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں بھی اسی ملک میں ہوتی ہیں، بھارت میں آباد کوئی اقلیت ایسی نہیں جو سرکار کے غیض و غضب کا نشانہ نہ بنی ہو ، ان خیالات کا اظہار سکھ فیڈریشن یوکے کے زیر اہتمام بھارتی قونصلیٹ کے باہر ایک احتجاجی مظاہرے میں کیا گیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ سکھ برادری کے بے جا طور پر قید کئے گئے جوانوں کو بھارت سرکار فی الفور رہا کرتے۔ انکا کہنا تھا کہ بھارت سرکار کی غاصبانہ پالیسی کی وجہ سے بھارت کے اندر بسنے والی اقلیتوں میں سخت بے چینی کی سی صورت حال پائی جاتی ہے۔ اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ ایک طرف بھارت اپنے آپ کو دنیا کی بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے اور دوسری طرف اقلیتوں کے بنیادی حقوق غصب کیے جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کے حوالے سے ہونے والے اس مظاہرے میں ممبر پارلیمنٹ خالد محمود اور تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی نے بھی اظہار خیال کیا۔ جبکہ کونسلر عنصر علی خان، کونسلر مریم خان کونسلر آٹوال سنگھ کے علاوہ سینکڑوں سکھ سراپا احتجاج تھے۔ انکا کہنا تھا کہ بھارت میں کالے قانون کے تحت گرفتار سیاسی رہنمائوں کو رہا کیا جائے۔ گورو بخسک سنگھ جو ایک سیاسی قیدی ہیں طویل عرصہ سے جیل میں ہیں۔ اپنی سزا کاٹ چکنے کے باوجود کس قانون کے تحت جیل میں ہیں۔ بھارت اگر حقیقی جمہوریت ہوتا تو گورو بخسک سنگھ کی چھیالیس دن کی بھوک ہڑتال کا نوٹس لیتا۔ ممبر آف پارلیمنٹ مرزا خالد محمود نے کہا کہ ہم اس طرح کھلے عام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش نہیں بیٹھیں گے بلکہ اس مسئلہ کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جائے گا۔ کونسلر آٹوال سنگھ نے کہاکہ اگر ہمیں انصاف نہ ملا اور سکھ کمیونٹی کے ساتھ غاصبانہ سلوک بند نہ ہوا تو ہم مظاہرہ کا دائرہ کار پارلیمنٹ اور یورپین پارلیمنٹ، انسانی حقوق کی تنظیموں کے سامنے بھی کریں گے اور آخری سیاسی قیدی کی رہائی تک جہدوجہد جاری رکھیں گے۔ تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے کہا کہ ہم سکھوں کی اس تحریک کی مکمل حمایت اور سپورٹ کرتے ہیں۔ بھارت کے علاوہ مقبوضہ وادی کے اندر بھی جتنے سیاسی قیدی اور رہنما ہیں انہیں فلفور رہا کیا جائے۔ کونسلر عنصر علی خان، کونسلر مریم خان اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے رہنمائوں نے بھی اس ایشو پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزاد میڈیا کی موجودگی میں اب بھارتی وزیراعظم کسی دوسرے سانحہ گجرات کو نہیں کرواسکتے۔