مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
آخری کالم
اگر زبان سے ادا ہونے والے ہر لفظ کو آخری لفظ اور اور قلم سے لکھے جانے والے ہر حرف کو آخری حرف سمجھنے لگیں تو ہم سچ بولنے اور سچ لکھنے پر مجبور ہوجائیںگے، سچائی ہماری جبلت بن جائے گی، اور پھر یہ جبلت ہمیں حق پرست بھی بنا دے گی اور حقیقت شناس بھی۔ حقیقت کا ادراک اس وقت ہماری سب سے بڑی ضرورت بھی ہے اور ہماری بقاء کی ضمانت بھی۔ جھوٹ کی بنیاد پر ترقی اور شاد مانی کے خواب دیکھنے والی آنکھیں بہت جلد بے نور ہو جاتی ہیں۔ خواب زندگی کی علامت ہوتے ہیں، جینے کا پتا دیتے ہیں،زندگی کی تصویر میں رنگ بھرتے ہیں، بے نور آنکھوں کو رنگوں کی کیا خبر۔ہر سال دسمبر کے آخری ہفتے میں، نہ جانے کیسے،سوچوں کے DVD PLAYER کا ریوائنڈبٹن خود بخود ب جاتا ہے، گزرے سال کے بہت سے منظر، بہت سے قصے اور بہت سی یادیں اس شدت اور تیز رفتاری کے ساتھ ذہن کی سکرین سے گذرنے لگتی ہیں کہ حساب لگانا مشکل ہوجاتا ہے کیا کھویا کیا پایا۔کیسے کیسے چہرے تھے کیسے کیسے لوگ، اگلی صدیوں کے منصوبے بنانے والے ،اپنے فلسفوں اور نظریات کو اٹل سمجھنے والے ، اپنے نکتئہ نظر کو کائنات کی سب سے بڑی حقیقت سمجھنے والے اور آخری سانس تک زندگی کی حفاظت کرنے والی موت کو وسوسہ اور اندیشہ سمجھنے والے لوگ، وہ لوگ جو زندگی بھر دوسروں کی موت کا منظر سوچتے رہے لیکن جنہوں نے لوگوں کے کندھوں پر سوار قبرستان کی طرف جانے والے تابوت میں خود کو کبھی بے حس و حرکت لیٹے ہوئے تصور نہیں کیا۔ آج 2014کی آخری صبح ، پلٹ کر دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ سال بھر میں بہت سے اچھے لوگوں کے ساتھ ساتھ ، بے ایمانی، بد دیانتی، بد نیتی ، خود غرضی اور بے حسی کی زندگی کو منزل آخر سمجھنے والے بے شمار نادان اور کم فہم لوگ بھی خاموشی سے اس دنیا سے چلے گئے، ان میں سے اکثر ایسے تھے بھی تھے جو سمجھتے تھے کہ ان کے نہ ہونے سے نظام کائنات رک جائے گا۔برس دو برس اور گذریں گے، لوگ ان کا نام بھی بھول جائیں گے البتہ ان میں سے کچھ کے بوئے ہوئے زہریلے کانٹوں کی فصل آسیب زدہ گھنے جنگلوں کی صورت آس پاس کی بھری پری آبادیوں کو ویران ضرور کردے گی۔زمانہ جب کبھی ایسے لوگوں کا تذکرہ کرے گا تواس تذکرے میں لعنت اور ملامت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوگا۔کاش ایسے لوگ اپنی زندگی میں زندگی کی بے اعتباری کو جان لیتے۔ جو لوگ جو خود کو آیندہ زمانوں کا خبرشناس سمجھتے ہیں، وہ کہ جنہیں ہاتھ کی لکیریں کل کا پتہ دیتی ہیں، وہ کہ جو حروف اور اعداد کو ملا جلا کر اگلے موسموں کی تصویر بنانے کے دعوے دار ہیں، ممکن ہے وہ میری رائے سے اتفاق نہ کرتے ہوں لیکن مجھ جیسے عام لوگ اپنے گذرے کل کو دیکھ کر اور اپنے زمانہء حال پر نظر ڈال کر اپنے آنے والے کل کی جو تصویر بناتے ہیں وہ عموما حقیقت کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ہم من حیث القوم جو کل تھے وہی آج بھی ہیں۔ایک مجموعی بے حسی ایک اجتماعی خود غرضی کل بھی ہمارے قومی مزاج کا حصہ تھی، آج بھی ہے، یہاں ہر آدمی اپنی زندگی جی رہا ہے،ہر ایک اپنی ذاتی شناخت کی تگ و دو میں مگن ہے،میری بندوق سے نکلنے والی گولی کس کی گود اجاڑتی ہے، کس کا سہاگ چھینتی ہے، مجھے اس سے کوئی غرض نہیں، مجھے تو بس بندوق چلا کر اپنی خوشی کا اظہار کرنا ہے۔میں دھاتی ڈور سے پتنگ اس لیے اڑاتا ہوں کہ میرے علاوہ کسی اور کی پتنگ آسمان پر نظر نہ آئے، اگر میری دھاتی ڈور سے باپ کی ساتھ موٹر سائکل پر بیٹھ کر آئسکریم خریدنے جانے والے کسی تین سالہ بچے کا گلا کٹ جاتا ہے تو مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔میں مریضوں کی استعمال شدہ سرنجیں ایک ڈبے میں جمع کرتا رہتا ہوں اور جوں ہی موقع ملتا ہے وہی سرنجیں دوسرے مریضوں کے وجود میں پیوست کر دیتا ہوں، پانچ پانچ روپے کر کے شام تک اچھے بھلے پیسے جمع ہوجاتے ہیں،مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ میرے اس عمل سے نزلے زکام کے کسی عام سے مریض کو ہیپا ٹائٹس یا ایڈز جیسی خوفناک بیماری منتقل ہوجائے،میں پولیو کے مرض کے خاتمے کے لیے ایک این جی او بناتا ہوں، امریکہ برطانیہ کینڈا اور ایسے ہی بے شمار مما لک سے ڈونیشن حاصل کرتا ہوں، ان ملکوں کے دورے بھی کرتا ہوںمگر پولیو کے مریضوں کے لیے میری ساری جدوجہد محض پولیو واک اور اخباری خبروں تک محدود رہتی ہے اور پھر انہی خبروں کی ایک موٹی سی فائل بنا کر میں اپنی این جی او کے ڈونر ممالک کو بھیج دیتا ہوں تاکہ وہ میری کارکردگی سے متاثر اور مطمئن ہوکر مجھے مزید ڈونیشن کی منظوری دے دیں۔میں حاکم شہر ہوں لیکن میری ساری توجہ محض ان منصوبوں تک محدود رہتی ہے جن منصوبوں کی تکمیل پر میرے نام کا ایک بڑا سا پتھر میری ریٹائرمنٹ یا تبادلے یا پھر موت کے بعد بھی لوگوں کو میری یاد دلاتا رہے۔مجھے سچی اور حقیقی عوامی خدمت سے کوئی غرض نہیں۔ میں وہ ہوں کہ جو رات کے سناٹوں میں سارے شہر کی دیواروں پر سیاہی سے ایسے نعرے لکھ دیتا ہوں کہ جو دن نکلتے ہی خوف و ہراس بھی پھیلا دیں اور نفرتیں بھی۔ معلوم نہیں میں ایسا کیوں کرتا ہوں۔ میںاس بے حس معاشرے کا ایک روایتی خود غرض کردار ہوں، دسمبر 2013 میں بھی میں ایسا ہی تھا،2014میں بھی میں یونہی رہا اور اگر زندہ رہا تو 2015بھی اسی انداز میں گذار دوں گا۔ پیارے پاکستانیو!!!ہمیں اگر عزت کے ساتھ جینا ہے اور اگر ہم اپنی آئیندہ نسلوں کو ایک بہتر زندگی کی بنیاد فراہم کرنا چاہتے ہیں تو ہم میں سے ہر فرد کو خود کو بدلنا ہوگا۔ یقین رکھو ہمیںکسی نئے پاکستان کی نہیں، پرانے بلکہ بہت پرانے پاکستان کی ضرورت ہے، وہی پاکستان جہاں جذبوں کی سچائی حکمران تھی ، جہاں لسانی، نسلی اور مسلکی اختلافات کا سرے سے وجود ہی نہیں تھا، جہاں رشوت کا تصور تھا نہ بے ایمانی اور بد دیانتی کا خیال، جہاں ملک کے دشمن کو ہر شخص ذاتی دشمن گردانتا تھا، جہاں انصاف تھا، قانون کی بالا دستی تھی اور سزا کا خوف بھی،جہاں مائیں اپنے بچوں کو سکول بھیجتے ہوئے ایسی نظروں سے نہیں دیکھتی تھیں جیسے آخری بار دیکھ رہی ہوں، جہاں گلی محلے کی لڑکی سب کے لیے بہن اور سب کے لیے بیٹی ہوتی تھی،ہمیں اس پاکستان کی ضرورت ہے جس کی مسجدوں کے باہر نمازیوں کی حفاظت کے لیے مسلح پہرے دار نہیں ہوتے تھے، مسجدوں کو کبھی تالہ نہیں لگتا تھا اور مسجدیں ہر مسافر اور مصیبت زدہ کے لیے جائے پناہ اور جائے امان ہوتی تھیں۔ دوستو!!!ارادہ تو کرکے دیکھو ، نیت تو باندھو، 2015میں ہم پاکستان کو اپنی اصل پرانی صورت میں واپس لا سکتے ہیں۔