مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بریکنگ نیوز
بابا!! فائرنگ والے انکل اب ہمارے سکول میں بھی آئیں گے؟ گھر سے سکول کے لیے نکلتے ہوئے میرے چھوٹے بیٹے نے اچانک سے سوال کر دیا۔مجھے اس دھند آلود موسم میں ایک دم سے پسینہ آگیا۔ میں کیا جواب دیتا، میرے پاس کوئی جواب ہی نہیں تھا۔ میں نے اس کے کوٹ کا کالر ٹھیک کرتے ہوئے کہا،’تم ٹی وی زیادہ نہ دیکھا کرو، تمہارے پڑھنے لکھنے کے دن ہیں۔ پڑھ لکھ کر جلدی سے بڑے ہو جاؤ۔تمہیں بابا کا ہیلپنگ ہینڈ بننا ہے‘۔اتنے میں سکول کی وین آگئی۔وین میں سوار ہوتے ہوئے اس نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور بولا، با با اگر فائرنگ والے انکل ہمارے سکول میں آگئے تو میں آپ کا ہیلپنگ ہینڈ کیسے بنوں گا؟؟؟؟اس معصوم کا یہ سوال سارا دن میرے کانوں میں گونجتا رہا۔ ایک عجیب سی بے بسی اور بے آسرگی کی کیفیت دن بھر ساتھ رہی۔جہاں بھی گیا، سب کے ہونٹوں پر ایک ہی تذکرہ تھا، پشاور میں سکول کے معصوم اور بے گناہ بچوں کی شہادت۔ بازار بند، سڑکیں خاموش، لوگ افسردہ، ماحول غمزدہ، حوصلے اور ہمت کا بس ایک ہی وسیلہ تھا، زیر لب خاموشی سے ورد کرتا رہا،یا اللہ سب کی خیر سب کا بھلا،سب کی خیر سب کا بھلا۔ ہم بے بس ہیں، ہماری مدد فرما۔ اس کیفیت سے گذرتے ہوئے میرے ذہن میں ایک عجیب سا خیال آیا کہ قدرت مجھ سے اور میری طرح خود کو بے بس و لا چار سمجھنے والے اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں سے یہ سوال ضرور کرے گی کہ تم سب نے خوکود اس بے بسی اور لاچارگی سے نکالنے کی کیا کوشش کی۔ آج اخباروں میں لکھنے والے اور ٹی وی چینلوں پربولنے والے نہایت جوش و جذبے کے ساتھ اس بات کی تکرار کر رہے ہیں کہ سانحہ پشاور نے ساری قوم کو متحد کر دیا، حکمران، سیاستدان،علماء کرام، فوج اور عوام سب ایک پیج پر نظر آنے لگے، میں ان سب سے ایک سوال کرتا ہوں کہ وہ کون سا قانون ہے جس کے تحت ہمیں متحد اور یکجا ہونے کے لیے ڈیڑہ سو کے لگ بھگ ننھے معصوموں کے خون کی ضرورت پڑی۔ کیا ہمارا اتحاد اور یکجہتی انگور کی بیل کی طرح ہے کہ جسے پھلنے پھولنے کے لیے خون سے سینچا جانا لازمی ہوتا ہے۔آج ہمارے ٹی وی چینل دہشت گردوں کو دی جانے والی پھانسیوں کو بریکنگ نیوز بنا کر ایک نئی طرح کی رینکنگ میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سزائے موت محض ایک سزا سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔اور یہ سزا صرف دہشت گردی میں ملوث افراد کے لیے ہی مخصوص نہیں۔ سعودی عرب میں ہر طرح کے سنگین جرائم میں ملوث لوگوں کے ہاتھ پاؤں اور سر قلم کرنے کی روائیت سے سب ہی آشنا ہیں۔امریکا ،چین اور نہ جانے کون کون سے انتہائی ترقی یافتہ ممالک میں، خطرناک ترین مجرموں کو سزائے موت دینے کا عمل بھی کوئی انوکھی بات نہیں، کہیں پھانسی دی جاتی ہے تو کہیں سر قلم کیا جاتا ہے، کہیں زہر کا انجکشن لگایا جاتا ہے تو کہیں گیس چیمبر اور الیکٹرک شاک کا طریقہ، اس میں بریکنگ نیوز کی کونسی بات ہے۔ بریکنگ نیوز تو من حیث القوم ہماری بے حسی اور نا اہلی ہے کہ محض اقتصادی مفادات کی خاطر یورپین یونین کو خوش کرنے کے لیے سزائے موت کو عملی طور پر برسوں معطل رکھا گیا، سینکڑوں کی تعداد میں سزائے موت کے قیدیوں کو خستہ حال جیلوں میں اکھٹا کر کے، کرپٹ اور بد عنوان جیل اہلکاروں کو مزید آزمائش میں ڈالا گیا۔ ہمارے ملک میں سب مسائل کی صرف ایک وجہ اور ایک بنیاد ہے، سسٹم کی خرابی۔ آج سسٹم کو ٹھیک کر لیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ بجلی کی چوری سے لے کر عدالتوں میں جھوٹی گواہیاں دینے تک، عوامی سرمائے سے غیر معیاری سڑکیں اور پل بنانے سے لے کر غیر ملکی فرموں سے کک بیکس لینے تک، ہم نے کبھی ملزموں کو مجرم سمجھا ہی نہیں۔ آنے والی ہر حکومت نے اپنے زمانے کا ایک بہت بڑا حصہ گزشتہ حکومت کو پھٹکارنے اور مورد الزام ٹھہرانے میں گزار دیا، ہر دفعہ کہانی کا نئے سرے سے آغاز ہوا لیکن چند ہی صفحات کے بعد پڑھنے والوں کو پتہ لگا یہ بھی وہی کہانی ہے، صرف عنوان بدلا ہوا ہے۔ سچ پوچھیں تو ہماری قومی زندگی کا ہر ہر لمحہ ایک بریکنگ نیوز ہے۔ دنیا کہیں سے کہیں پہنچ گئی،ہم سے آغاز سفر ہی نہ ہو سکا۔اخبارات میں اپنے ملک کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی بے بسی اور لاوارثی کی داستانیں پڑھتا ہوں اور ان ہسپتالوں کے برآمدوں میں انتہائی نازک حالت کے مریضوں کو بیڈ خالی ہونے کے انتظار میں ایڑیاں رگڑتے دیکھتا ہوں تو مجھے امریکا اور برطانیہ کے گھروں کے غسلخانوں میں لٹکی ہوئی وہ زنجیر یاد آجاتی ہے جس کا براہ راست تعلق علاقے کے سوشل سیکیورٹی آفس سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ یہ زنجیر اس لیے لگائی جاتی ہے کہ اگر گھر میں رہنے والے کسی بوڑھے مرد یا عورت کو غسلخانہ استعمال کرتے ہوئے چکر آجائے یا طبیعت خراب ہو جائے اور کوئی مددگار قریب نہ ہوتو وہ اس زنجیر کو کھینچ دے، تین سے چار منٹ میں سوشل سیکیورٹی کا عملہ ایمبولینس، ڈاکٹر اور ریسکیو اہلکار سب کے سب پہنچ جاتے ہیں۔ہمارے ہاں ایسا کیوں نہیں، پرائیویٹ ہسپتالوں کی سی ٹی سکین اور ایم آر آئی مشینیں ہمارے سرکاری ہسپتالوں کی مشینوں کی طرح اکثر خراب کیوں نہیں رہتیں؟؟ہمارے سرکاری تعلیمی اداروں کا نظام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی طرح accurate کیوں نہیں ہوتا۔پلازے بناتے ہوئے پارکنگ کے لیے جگہ چھوڑنے کے قانون پر عمل کیوں نہیں ہوتا؟؟؟ سوچتا ہوں کہ آخر وہ کون سی قوت ہے جو ہمیں اس طرح کا انسان دوست سسٹم اپنانے سے روکتی ہے۔ ہمارے پاس کائنات کا بہترین نظام ہدایت بھی موجود ہے اور ہماری تاریخ ہمارے اسلاف کی انصاف پسندی، سچائی، بہادری اور انسان دوستی کی روشن ترین مثالوں سے بھری پڑی ہے۔لیکن اس سب کے باوجودہم زندگی کی دوڑ میں سب سے پیچھے کیوں ہیں؟؟؟ کیا ہماری اخلاقی گراوٹ اور کردار کی ابتری بھی امریکا ،بھارت اور اسرائیل کی سازشوں کا نتیجہ ہے؟؟؟ یقیناًایسا بالکل بھی نہیں۔ بے ایمانی ، نا انصافی اور ظلم ، خون میں شامل ہو جائے تو انسان بے حس ہوجاتا ہے اور بے حسی بزدلی کو جنم دیتی ہے۔ ہمیں اپنی اجتماعی بے حسی اور اجتماعی بزدلی کے تدارک کا کوئی نہ کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔مصلحت اندیشی کا لفظ جب تک ہماری لغت کا حصہ رہے گا ہم منافقت کا شکار ہوتے رہیں گے۔ہماری بزدلی اور منافقت ہمیں اپنی قوم کا قاتل بنا رہی ہے۔ ہمارے ارد گرد بارود کی بارش اور گولیوں کی بوچھاڑ ہورہی ہے، لیکن ہم محض اس لیے پر سکون ہیں کہ بارود کا کوئی ذرہ اور بندوق کی کوئی گولی ابھی ہم تک نہیں پہنچی، مگر یاد رکھیے بارود میں لپٹی گولیوں کا نہ کوئی عقیدہ ہوتا ہے نہ مذہب، نہ ہی ان گولیوں کی کوئی ذاتی پسند نا پسند ہوتی ہے۔ گذرے کل جو کچھ پشاور میں اسکول کے بچوں اور اساتذہ کے ساتھ ہوا، آنے والے کل میرے اور آپ کا ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ آگ ہمارے گھروں تک پہنچے ہمیں پڑوس میں لگنے والی آگ کو بجھانا ہوگا۔ یقین کیجیے اس وقت پاکستان اپنی زندگی کے نازک ترین زمانے سے گزر رہا ہے۔ یہ زمانہ ہماری قومی تقدیر کا TURNING POINT بھی ہے اور DECISIVE MOMENT بھی۔ہمیں ہمت ،حوصلے، بہادری اور جوانمردی کے ساتھ ساتھ اتحاد اور اتفاق کی بھی ضرورت ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں ایک پرسکون، پر امن، پر آسائش اور آسان سی زندگی گزارنے کا حق حاصل نہیں؟؟ ہمارا کیا قصور ہے کہ ہمارے نصیب میں ہر طرح کی بربادی لکھ دی جائے؟؟ ہمارے حکمرانوں، ہمارے سیاستدانوں، علماء کرام، صحافیوں اساتذہ کرام اور سب سے بڑھ کر خود عوام کو اس صورت حال میں ایک نہایت موئثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ورنہ ہمارے بچے ہم سے یہ سوال کرتے کرتے وقت سے پہلے بوڑھے ہو جائیں گے ، بابا!!! اب فائرنگ والے انکل ہمارے سکول میں بھی آئیں گے؟؟؟؟؟