مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نکیال سیکٹرمیں بھارتی فوج کی بلااشتعال گولہ باری سے ایک خاتون ہلاک اور نو افراد زخمی
کوٹلی ... آزاد کشمیرکے نکیال سیکٹرمیں بھارتی فوج کی بلااشتعال گولہ باری سے ایک خاتون ہلاک اور نو افراد زخمی ہوگئے۔ ریڈیو پاکستان نے ڈپٹی کمشنر کوٹلی مسعود الرحمن کے حوالے سے بتایا کہ بھارتی فوج کی جانب سے سنیچر کی رات گئے بلا اشتعال گولہ باری کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر کوٹلی کے مطابق بھارتی افواج نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی پر براہِ راست گولہ باری کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کی گولہ باری سے ایک خاتون ہلاک جبکہ نو افراد زخمی ہو گئے۔ پاکستان کے مقامی میڈیا کے مطابق بھارتی فوج کی گولہ باری اور فائرنگ سے ایک گھر اور دو گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر حالیہ ہفتوں میں ایک بار پھر کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے۔ رواں ماہ کے اوائل میں بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستانی فوجیوں نے فائرنگ کرکے اس کے پانچ فوجیوں کو ہلاک کردیا لیکن پاکستان نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز کا دعویٰ ہے کہ بھارت کی طرف سے رواں ماہ 30 سے زائد مرتبہ فائر بندی کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس میں اس کے دو فوجیوں سمیت پانچ شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں۔ دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان متعدد تصفیہ طلب معاملات کے باعث اکثروبیشتر تعلقات تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان معاملات میں کشمیر ایک اہم موضوع ہے۔ پاکستان کی نو منتخب حکومت لائن آف کنٹرول پر پیدا ہونے والی صورتحال پر بھارت سے سفارتی سطح پر احتجاج کرتے ہوئے کہہ چکی ہے کہ وہ اس پر تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہے جسے کسی طور پر کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ حالیہ کشیدگی کے باوجود خصوصاً وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جن میں تعلقات میں تناؤ کو کم کرکے اچھے تعلقات استوار کرنے کی بات کی گئی ہے۔