مقبول خبریں
کشمیر میں مظالم کیخلاف اقدامات نہ اٹھائے تو تباہی کی ذمہ داری بین الاقوامی کمیونٹی پر ہو گی:نعیم الحق
ڈیبی ابراھم کی قیادت میں ممبران پارلیمنٹ اور کمیونٹی رہنماؤں کی لارڈ طارق احمد سے ملاقات
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کی وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر سے ملاقات
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
راجہ نجابت حسین کا مسئلہ کشمیر پر بحث میں حصہ لینے پر ارکان یورپی پارلیمنٹ کو خراج تحسین
سوچنے کے موسم میں سوچنا ضروری ہے!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نکیال سیکٹرمیں بھارتی فوج کی بلااشتعال گولہ باری سے ایک خاتون ہلاک اور نو افراد زخمی
کوٹلی ... آزاد کشمیرکے نکیال سیکٹرمیں بھارتی فوج کی بلااشتعال گولہ باری سے ایک خاتون ہلاک اور نو افراد زخمی ہوگئے۔ ریڈیو پاکستان نے ڈپٹی کمشنر کوٹلی مسعود الرحمن کے حوالے سے بتایا کہ بھارتی فوج کی جانب سے سنیچر کی رات گئے بلا اشتعال گولہ باری کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر کوٹلی کے مطابق بھارتی افواج نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی پر براہِ راست گولہ باری کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کی گولہ باری سے ایک خاتون ہلاک جبکہ نو افراد زخمی ہو گئے۔ پاکستان کے مقامی میڈیا کے مطابق بھارتی فوج کی گولہ باری اور فائرنگ سے ایک گھر اور دو گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر حالیہ ہفتوں میں ایک بار پھر کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے۔ رواں ماہ کے اوائل میں بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستانی فوجیوں نے فائرنگ کرکے اس کے پانچ فوجیوں کو ہلاک کردیا لیکن پاکستان نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز کا دعویٰ ہے کہ بھارت کی طرف سے رواں ماہ 30 سے زائد مرتبہ فائر بندی کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس میں اس کے دو فوجیوں سمیت پانچ شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں۔ دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان متعدد تصفیہ طلب معاملات کے باعث اکثروبیشتر تعلقات تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان معاملات میں کشمیر ایک اہم موضوع ہے۔ پاکستان کی نو منتخب حکومت لائن آف کنٹرول پر پیدا ہونے والی صورتحال پر بھارت سے سفارتی سطح پر احتجاج کرتے ہوئے کہہ چکی ہے کہ وہ اس پر تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہے جسے کسی طور پر کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ حالیہ کشیدگی کے باوجود خصوصاً وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جن میں تعلقات میں تناؤ کو کم کرکے اچھے تعلقات استوار کرنے کی بات کی گئی ہے۔