مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
باہمی اتحاد و اتفاق سے دہشت گردوں کو شکست دیں گے، شہدائے پشاور کی یاد میں تقریب سے ملالہ کا خطاب
برمنگھم ...نوبل انعام یافتہ دختر پاکستان ملالہ یوسف زئی نے آرمی پبلک سکول کے سانحہ پر انتہائی دکھ و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں ہم ان معصوم بچوں کی مائوں اور اساتذہ کو سلام پیش کرتے ہیں۔ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ایسے موثر اقدامات کئے جائیں کہ اللہ کرے سانحہ پشاور پاکستان کی تاریخ کا آخری واقع بن جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان قونصلیٹ برمنگھم میں سانحہ پشاور کے حوالے سے منعقدہ دعائیہ تقریب سے کیا،ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ یہ صرف سکول پر حملہ نہیں تھا بلکہ یہ دہشت گردی کا حملہ پاکستان کی سالمیت پر حملہ تھا،یہ پاکستان کیلئے خوش آئند ہے کہ اس واقع نے پوری قوم کو ایک کر دیا،یہ دہشت گردوں کو شکست ہے،ہم مسلح افواج کے جوانوں کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے آپ کے مستقبل کیلئے اپنی جانیں قربان کیں،اس دہشت گردی نے70ہزار ہمارے شہری شہید کئے،ہم اپنے باہمی اتحاد و اتفاق سے دہشت گردوں کو شکست دیں گے،میں حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ ایک پیس میموریل بنایا جائے جس سے ان معصوم بچوں کی قربانیوں کو یاد رکھا جائے۔اس موقع پر قونصلر جنرل برمنگھم شیر بہادر خان نے کہا کہ دہشت گردی کے اس واقع سے دلی صدمہ ہوا ہے،دہشت گردوں کی یہ کارروائیاں حکومت اور قوم کے جذبہ کو ختم نہیں کر سکتیں،پاک فوج ایک نئے عزم کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں کمر بستہ ہے،جو معصوم بچے اور اساتذہ شہید ہوئے انہیں واپس تو نہیں لا سکتے مگر اس واقع کو بنیاد بنا کر اس روٹ کاز تک پہنچ کر اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے،دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈ کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنا ہو گا،دہشت گردی کے اس دکھ کو ملالہ یوسف زئی اور انکے خاندان سے زیادہ اور کون جان سکتا ہے،ملالہ یوسف زئی کے والد ضیا الدین یوسف زئی نے کہا کہ یہ اتنا بڑا دکھ ہے کہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا،ماضی میں مذمت سے دشمن کا حوصلہ پست ہوتا تھا مگر یہ اتنے پست ذہن دہشت گرد ہیں صرف مذمت سے یہ زیادہ وارداتیں کرتے ہیں انہیں صرف گولی کی زبان سمجھ آتی ہے،ہم2007میں یہ مطالبہ کرتے تھے کہ دہشت گردوں کے خلاف جامع آپریشن کیا جائے،سانپوں میں کوئی اچھا برا نہیں ہوتا،گولی نیک اور بد میں فرق نہیں کر سکتی،امید ہے جو ملک میں اتحاد پیدا ہوا اس سے دہشت گردوں کو شکست ہو گی،قوم کو عہد کرنا ہو گا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ہمارا اتحاد برقرار رہے گا،اگرچرچ پر حملہ کے کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا جاتا تو یہ واقع نہ ہوتا،ہمیں پاکستان کی کتاب سے دہشت گردی کا ورق نکالنا ہو گا،جو کمیشن دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بنا اس طرح کا ایک کمیشن تعلیم پر بننا ہو گاتاکہ نصاب میں تبدیلی کر کے انتہا پسندی ختم کی جائے،ملالہ یوسف زئی کی والدہ نے کہا کہ میں ایک ماں ہوں یہ حملہ ہر اس ماں کے دل پر ہوا ہے جس کا کلیجہ چھلنی ہوا ہے،روتے ہوئے کہا کہ جس دن ملالہ پر حملہ ہوا اس نے اس دن ٹھیک سے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا،ان بچوں کا کیا اور والدین پر کیا گزری ہو گی جن کے ننھے بچے گھر آنے کی بجائے انکی لاشیں موصول کیں،اس موقع پر قونصلر محمد فیصل،نئے تضات قونصل جنرل سید احمد معروف،مفتی گل رحمن قادری نے شہدا ء کے ایصال ثواب کیلئے دعا کروائی کچھ دیر کیلئے ملالہ یوسف زئی نے بچوں کے ساتھ مل کر شمعیں روشن کیں۔