مقبول خبریں
یوم عاشور کے حوالہ سے نگینہ جامع مسجد اولڈہم میں روح پرور،ایمان افروز محفل کا اہتمام
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
ملالہ نام کی لڑکی......
چینی انرجی سیور،امریکی بادام،جاپانی گاڑیاں اور بھارتی پان اور چھالیہ،پاکستان میں سب ملتا ہے،سب بکتا ہے،حد تو یہ ہے کہ اب تو بھارتی دوائیں بھی پاکستان میڈیسن مارکیٹ پر چوری چھپے راج کر رہی ہیں۔لوگ پوچھتے ہیں پاکستان کیا بناتا ہے؟ میں کہتا ہوں منصوبے اور صرف منصوبے،ڈیموں کے منصوبے،غربت دور کرنے کے منصوبے،آبادی کنٹرول کرنے کے منصوبے،بیروز گاری ختم کرنے کے منصوبے،تعلیم عام کرنے کے منصوبے اور تمام منصوبوں پر جلد از جلد عملدرآمد کو یقینی بنانے کے منصوبے،سچ تو یہ ہے کہ منصوبے بنانے کیلئے بہت سی سمجھداری کی ضرورت ہوتی ہے اور منصوبوں پر عمل کرنے کیلئے سمجھداری کے ساتھ ساتھ مشقت اور محنت کی بھی ضرورت ہوتی ہے،لیکن بعض صورتوں میں محنت مشقت اور سمجھداری کے بغیر ہی بہت کچھ مل جاتا ہے،شاید اسی طرح کے ملنے کو قسمت کی مہربانی کہتے ہیں۔پاکستان کے ایک انتہائی دور افتادہ علاقے سوات سے امریکہ کی طرف الف لیلوی سفر کرنے والی ملالہ کو ہی دیکھ لیں،منصوبہ کسی اورنے بنایا،محنت مشقت کسی اور نے کی لیکن پھل ملا تو کسی اور کو۔معلوم نہیں پاکستان میں بہت سے لوگ اس لڑکی کی جدو جہد اور عظمت کو تسلیم کرنے پر آمادہ کیوں نہیں۔ملالہ کے مداحوں کی دلیل ہے کہ ہمت و حوصلے کی اس سے بڑھ کر نا قابل یقین مثال اور کیا ہو گی کہ جس زمانے میں سوات میں طالبان کی طرف سے اس قدر سختی تھی کہ کسی کو سر اٹھانے کی جرات نہیں تھی،خواتین کیلئے پردے کی سخت تاکید تھی،آڈیو ویڈیو کیسٹوں کی دکانوں کو جلا دیا جاتا تھا،حجاموں کو شیو بنانے کی اجازت نہیں تھی،یہ لڑکی ان پابندیوں کے خلاف ڈٹ گئی۔امریکی میڈیا اور پاکستان کے ایک نجی چینل کا کہنا ہے کہ جب طالبان لڑکیوں کے سکولوں کو نذر آتش کر رہے تھے،ملالہ ان کے سامنے آہنی دیوار بن گئی۔لوگ پوچھتے ہیں کہ انتہائی تربیت یافتہ اپنے نظریات میں اٹل اور ارادوں میںدیوار چین کی طرح ٹھوس اور مضبوط طالبان کو اس دس بارہ سال کی بچی نے کیسے شکست دی؟سنا ہے کہ یہ بچی کسی بین الاقوامی انگریزی اخبار میں قلمی نام سے ڈائری بھی لکھتی رہی ہے،لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ کیونکر ممکن ہے،پاکستان کے بڑے بڑے انگریزی زبان کے لکھاریوں کیلئے اپنے نام سے اس طرح کے اخبارات میں چھپنا ممکن نہیں ہوتا،سوات میں رہنے والی اس معصوم بچی کے پاس ایسا کیا کمال ہنر تھا کہ اس کی تحریر کو قلمی نام سے بھی قبول کر لیا گیا۔سوال اور بھی بہت ہیں مگر کیا کریں کہ ہمارے بڑے بوڑھوں نے ہمیشہ یہی سمجھایا کہ زیادہ سوال کرنا اچھی بات نہیں۔ہم پاکستانیوں کیلئے یہ خبر نہایت ہمت افزاء ہونی چاہئے کہ ملالہ کو امن کا نوبل انعام مل گیا،انعام میں مین میخ نہیں نکالنا چاہئے۔انعام انعام ہوتا ہے،کیسے ملا،کیوں ملا،اس بحث میں پڑنے کا کیافائدہ۔ملالہ نے اپنے ہم وطنوں کا نام روشن کر دیا اور وہ کامیابی حاصل کی جو ہمارے پرکھوں کو بھی نہ مل سکی۔کسی جذباتی نوجوان نے مجھ سے ای میل کے ذریعے پوچھا ہے کہ رابندر ناتھ ٹیگور کو نوبل پرائز مل گیا مگر علامہ اقبال کو نہیں ملا،حالانکہ دونوں کا زمانہ بھی ایک ہے اور تخلیقی کارنامے بھی ایک دوسرے بڑھ کر۔میں نے اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی بڑی کوشش کی،تاریخ کے حوالے سے میرا علم ویسے بھی نہ ہونے کے برابر ہے،بڑی تلاش بسیار کے بعد معلوم ہوا ہے کہ ٹیگور کو1913میں ادب کا نوبل پرائز دیا گیا تھا،وہ1861میں پیدا ہوئے اور1941میں دنیا سے رخصت ہوئے۔کل اسی برس کے لگ بھگ زندہ رہے۔علامہ اقبال1877میں پیدا ہوئے اور1938ء میں انتقال فرما گئے۔اندازاً اکسٹھ برس زندہ رہے۔شاید ٹیگور کو انیس برس زیادہ جینے کی بنیاد پر نوبل انعام سے نوازا گیا ورنہ اقبال اور ٹیگور کا کوئی تخلیقی مقابلہ بنتا ہی نہیں۔ اقبال نے مسلمانوں کی حق تلفی کیخلاف آواز اٹھائی،ظلم کا شکار ہونے والوں کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا سبق دیا،سیاست ،مذہب،معیشت،اخلاقیات،غرض کون سا سبق ہے جو اقبال کی نثر اور نظم کے توسط سے انسانوں تک نہیں پہنچا۔آج برسوں بعد بھی اقبال کو پڑھنے،سمجھنے اور چاہنے والوں کی تعداد ٹیگور کے مداحوں کے مقابلے میں سینکڑوں گنا زیادہ ہے،لیکن اس سب کے باوجود اقبال کو نوبل انعام کا حقدار نہیں جانا گیا۔لوگ کہتے ہیں کہ اقبال کو مسلمان ہونے کے باعث اس انعام سے فیضیاب نہیں ہونے دیا گیا لیکن یہ دلیل ملالہ کے معاملے کو دیکھ کر بے اثر ہو جاتی ہے۔ بہر حال اس حقیقت سے کسی طور بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ملالہ کی وساطت سے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن ہوا،اس انعام کے دینے یا نہ دینے میں مغربی سیاست کہاں تک اثر انداز ہوتی ہے،یہ ایک الگ بحث ہے تاہم ملالہ کو ملنے والا نوبل پرائز اگر اکیلی ملالہ کو ملتا تو زیادہ خوشی کی بات ہوتی،یہ جو کیلاش ستھیارتھی کو اس انعام میں ملالہ کا حصے دار بنا دیا گیا اس سے ہم پاکستانیوں کی خوشی کچھ ادھوری سی رہ گئی۔اب جہاں جہاں ملالہ کا ذکر ہو گا وہاں وہاں کیلاش کا تذکرہ بھی آئے گا یعنی پاکستان اور بھارت کا تذکرہ ساتھ ساتھ۔ شاید انعام دینے والوں نے اس انعام کے توسط سے آگ اور پانی کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔آگ اور پانی اکٹھے ہو جائیں تو آگ رہتی ہے نہ پانی،دونوں کا وجود مٹ جاتا ہے۔ ملالہ ایک کم عمر سی لڑکی ہے،اسے اس طرح کی سیاست کا کیا اندازہ،اسے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ سلمان رشدی اور تسنیمہ نسرین جیسے ملعونوں کا سایہ بھی ناپاک ہوتا ہے،شاید اسی لا علمی کے باعث،امن و آشتی کی یہ فاختہ ان ملعونوں کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویریں بنواتی رہی،اور شاید یہ اس کی معصومیت ہی ہے جو اسے پاکستان واپس آنے پر مجبور کر رہی ہے۔ایسے میں ملالہ کو سمجھانے کی ساری ذمے داری اس کے والد پر عائد ہوتی ہے جو بہت سمجھدار اور ذہین آدمی ہیں،سنا ہے انگریزی بھی بہت اچھی لکھتے ہیں اور یہ بھی خبر ہے کہ امریکی انہیں پسند بھی بہت کرتے ہیں،ملالہ کو مقبولیت کی اس نہج تک پہنچانے میں یقیناً ان کا بڑا ہاتھ ہے۔پاکستان کی وزارت عظمی کو چھوڑئیے،ملالہ کے والد چاہیں تو ملالہ کو امریکہ کی کرسی صدارت تک پہنچا سکتے ہیں۔لیکن کیا کریں کہ ملالہ کی خواہش پاکستان کا وزیر اعظم بننا ہے۔یہ کام شاید ضیا الدین یوسف زئی کیلئے تھوڑا سا مشکل ہو۔