مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
انتہا پسندانہ اسلامی نظریات کے فروغ پر ٹی وی چینل کو 85 ہزار پاؤنڈ جرمانہ
لندن... برطانیہ میں نشریات پر نظر رکھنے والے ادارے آف کام نے ایک اسلامی ٹی وی چینل کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں 85 ہزار پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا ہے۔ آف کام نے دسمبر میں فیصلہ دیا تھا کہ نور ٹی وی نے براڈکاسٹنگ کے ضابطوں کی خلاف ورزی کی ہے کیونکہ ایک پروگرام کے دوران اس کے ایک میزبان نے کہا تھا کہ اگر کوئی پیغمبر کی توہین کرے تو یہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ پیغمبر کی توہین کرنے والے کو قتل کر دیں۔ آف کام کا کہنا ہے کہ آج عائد ہونے والے اس جرمانے کی رقم اس لیے زیادہ ہے کیونکہ یہ معاملہ سنگین نوعیت کا ہے۔ تاہم اس چینل کا لائسنس منسوخ نہیں کیا گیا۔ یہ چینل اہیہ ڈجیٹل ٹیلی ویژن کا ہے جو برطانیہ میں نشر کیا جاتا ہے اور سکائی نیٹ ورک پر بھی براڈکاسٹ ہوتا ہے۔ متنازع پروگرام ’پیغامِ مصطفی‘ تین مئی 2012 کو براڈکاسٹ کیا گیا تھا۔اس پروگرام میں مولانا محمد فاروق نظامی اسلام کے بارے میں دنیا بھر سے لوگوں کے مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔ کسی نے ان سے سوال کیا تھا کہ پیغمبر کی توہین کرنے والے کی کیا سزا ہونی چاہیے۔ جواب میں فاروق نظامی نے کہا کہ اس بارے میں نہ تو کوئی اختلاف ہے اور نہ ہی دو آرا کہ ایسا کرنے والے کی سزا موت ہے۔ انہوں نے 2011 میں پاکستان کے صوبے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ان کے محافظ ممتاز قادری کو بھی درست قرار دیا۔ نور ٹی وی پر جرمانہ عائد کیے جانے کے علاوہ یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ آف کام کا بیان بھی بڑھ کر سنایا جائے اور متنازع پروگرام دوبارہ نشر نہ کیا جائے۔ اپنے دفاع میں چینل کا کہنا تھا کہ میزبان کا مقصد تشدد کا جانب مائل کرنے کے بجائے لوگوں کو یہ بتانا تھا کہ اگر پیغمبر کی توہین کی جائے تو وہ اس مسئلے کو حل کرنے کی ذمہ داری لیں۔ چینل کا کہنا تھا کہ محمد فاروق نظامی کئی سال سے پروگرام پیش کر رہے ہیں اس لیے ان کی جانب سے اس طرح کے بیان کی توقع نہیں تھی۔ چینل نے پروگرام کے دوران اپنے سیاسی نظریے کو فروغ دینے اور تشدد کی حمایت کرنے پرمحمد فاروق نظامی کو مئی میں برخاست کر دیا تھا۔