مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
انتہا پسندانہ اسلامی نظریات کے فروغ پر ٹی وی چینل کو 85 ہزار پاؤنڈ جرمانہ
لندن... برطانیہ میں نشریات پر نظر رکھنے والے ادارے آف کام نے ایک اسلامی ٹی وی چینل کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں 85 ہزار پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا ہے۔ آف کام نے دسمبر میں فیصلہ دیا تھا کہ نور ٹی وی نے براڈکاسٹنگ کے ضابطوں کی خلاف ورزی کی ہے کیونکہ ایک پروگرام کے دوران اس کے ایک میزبان نے کہا تھا کہ اگر کوئی پیغمبر کی توہین کرے تو یہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ پیغمبر کی توہین کرنے والے کو قتل کر دیں۔ آف کام کا کہنا ہے کہ آج عائد ہونے والے اس جرمانے کی رقم اس لیے زیادہ ہے کیونکہ یہ معاملہ سنگین نوعیت کا ہے۔ تاہم اس چینل کا لائسنس منسوخ نہیں کیا گیا۔ یہ چینل اہیہ ڈجیٹل ٹیلی ویژن کا ہے جو برطانیہ میں نشر کیا جاتا ہے اور سکائی نیٹ ورک پر بھی براڈکاسٹ ہوتا ہے۔ متنازع پروگرام ’پیغامِ مصطفی‘ تین مئی 2012 کو براڈکاسٹ کیا گیا تھا۔اس پروگرام میں مولانا محمد فاروق نظامی اسلام کے بارے میں دنیا بھر سے لوگوں کے مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔ کسی نے ان سے سوال کیا تھا کہ پیغمبر کی توہین کرنے والے کی کیا سزا ہونی چاہیے۔ جواب میں فاروق نظامی نے کہا کہ اس بارے میں نہ تو کوئی اختلاف ہے اور نہ ہی دو آرا کہ ایسا کرنے والے کی سزا موت ہے۔ انہوں نے 2011 میں پاکستان کے صوبے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ان کے محافظ ممتاز قادری کو بھی درست قرار دیا۔ نور ٹی وی پر جرمانہ عائد کیے جانے کے علاوہ یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ آف کام کا بیان بھی بڑھ کر سنایا جائے اور متنازع پروگرام دوبارہ نشر نہ کیا جائے۔ اپنے دفاع میں چینل کا کہنا تھا کہ میزبان کا مقصد تشدد کا جانب مائل کرنے کے بجائے لوگوں کو یہ بتانا تھا کہ اگر پیغمبر کی توہین کی جائے تو وہ اس مسئلے کو حل کرنے کی ذمہ داری لیں۔ چینل کا کہنا تھا کہ محمد فاروق نظامی کئی سال سے پروگرام پیش کر رہے ہیں اس لیے ان کی جانب سے اس طرح کے بیان کی توقع نہیں تھی۔ چینل نے پروگرام کے دوران اپنے سیاسی نظریے کو فروغ دینے اور تشدد کی حمایت کرنے پرمحمد فاروق نظامی کو مئی میں برخاست کر دیا تھا۔