مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بھارت دنیا سے تسلیم نہیں کرا سکا کہ کشمیر اس کا اٹوٹ الگ ہے : مولانا فضل الرحمان
برسلز ... انسانی حقوق کے حوالے سے یورپی دارالحکومت برسلز میں متعدد تقریبات کا انعقاد کیا گیا جس میں مسئلہ کشمیر کو بطور خاص اہمیت دی گئی۔ ای یو کشمیر کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار اور دیگر تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین کشمیر کمیٹی پاکستان مولانا فضل الرحمان اور یورپی یونین میں فرینڈز آف پاکستان گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر سجاد کریم نے کہا کہ بھارت بین الاقوامی دنیا سے اپنے اس موقف کو کہ کشمیر اس کا اٹوٹ الگ ہے تسلیم نہیں کرا سکا لیکن ہمارے ہاں ان تمام لوگوں کا کوئی احتساب نہیں ہوا جنہوں نے بہت عرصے سے تک یہ موقف بین الاقوامی فورمز پر نہیں اٹھایا۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ شملہ معاہدہ تنازع کشمیر کو بین الاقوامی فورم پر اٹھانے سے نہیں روکتا۔ بین الاقوامی قراردادیں اس بات کی ضامن ہیں کہ یہ تنازع حل طلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپین سفیر نے اسلام آباد میں مجھ سے ملاقات کے دوران کہا کہ انڈیا کے ساتھ تجارت بڑھائیں اور اسے ایم ایف این سٹیسٹس دیں۔ جواب میں، میں نے انہیں کہا کہ بین الاقوامی سطح پر معیشت کے فروغ اور خصوصاً اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافے کے ہم خواہشمند ہیں۔ لیکن ہمارے کچھ مسائل ہیں۔ زراعت ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن انڈیا اگر ہمارے پانی روکے گا جس سے ہماری زراعت کو نقصان پہنچے تو پھر ہم کس چیز کی تجات کریں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انڈیا تو مسئلہ کشمیر پر گفتگو نہیں کرتا لیکن جب بین الاقوامی برادری سے کہتے ہیں کہ آئو ہمارے درمیان اس تنازع پر ثالثی کرو تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف حوالوں سے مغرب نے دہرا معیار اپنا رکھا ہے۔ جدید دنیا نے ایسے بین الاقوامی ادارے اور قوانین بنا رکھے ہیں جو ملکی قوانین پر بھی حاوی ہو جاتے ہیں اور تیسری دنیا کے ممالک اپنے وسائل کو خود استعمال میں لانے کا اختیار بھی نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دفاعی لحاظ سے ایک معتبر ملک ہے لیکن بڑے ممالک جن چیزوں پر خود دستخط نہیں کرتے ان کے بارے میں ہمیں کہتے ہیں کہ آپ دستخط کریں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہمیں انسانی حقوق کا درس دینے والے خود اسے سب سے زیادہ پامال کر رہے ہیں۔ انہوں نے سیکورٹی کے اشو کو سٹریٹجک اشو بنا دیا ہے۔ اس کا اندازہ کرنا ہو تو عراق، شام، افغانستان اور دیگر مسلم ممالک کی صورتحال دیکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا میں تنازعات کم ہونے کی بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ اور بین الاقوامی ادارے انہیں حل کرنے اور فلسطینوں سمیت دیگ مظلوموں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر سجاد کریم ایم ای پی نے کشمیر کاز کے لئے نئی ٹیکنالوجی کے استعمال، توہین مذہب قوانین کے غلط استعمال پر یورپین سوچ اور اوورسیز کے مسائل کے حوالے سے خیالات کا اظہار کیا۔۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ سفیر پاکستان نغمانہ ہاشمی، ڈپٹی ہیڈ آف سٹن خالد جمالی، قونصلر اور ایوب اور ایچ او سی محمد ایوس خان بھی موجود تھے۔ جبکہ لیبر پارٹی کے ممبر یورپی پارلیمنٹ افضل خان نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور ملکی موجودہ صورتحال پر تبادلی خیال کیا۔