مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ہم آدمی تمہارے جیسے …
’وفا کرو گے وفا کرینگے ، جفا کرو گے جفا کرینگے ، ستم کرو گے ستم کرینگے ، کرم کرو گے کرم کرینگے ، ہم آدمی ہیں تمہارے جیسے جو تم کروگے وہ ہم کرینگے ‘۔ زمانہ طالب علمی میں برصغیر کے معروف براڈ کاسٹر ضیاء محی الدین کی آواز میں یہ مشہور زمانہ نظم سنی اور کچھ ایسی سنی کہ کبھی بھلا نہ سکا ۔ ردعمل اور طرز عمل کے حوالے سے اس نظم میں بتلائے گئے رویئے کو عملی صورت میں دیکھنے کی خواہش کے ساتھ برسوں بیت گئے ۔ جیسے کو تیسا اور Do Good have Good جیسے مثالی درس ، نصاب میں شامل سبق آموز کہانیاں اور شیخ سعدی کی حکایتوں کے سواء اور کہیں نظر نہیں آسکے ۔ جیسے ہم ہیں ویسے دوسرے نہیں اور جیسے دوسرے ہیں ویسے ہم نہیں ۔ یہاں حلق خدا کی ہمدردی اور بھلائی میں زندگی وقف کر دینے والے ایدھی کو دن دیہاڑے بڑی آسانی کے ساتھ لوٹ لیا جاتا ہے ۔ بیگناہ معصوم بچوں کو روٹی کی بجائے باپ کی لاش ملتی ہے ، سکول کالج جاتی ہوئی بے قصور لڑکیوں کو اغوا کرکے نہ صرف جنسی درنگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ ان کی فلمیں بنا کر انٹرنیٹ کے ذریعے عام کر دی جاتی ہیں ، تیزاب پھینک کر جیتے جاگتے انسانوں کو نشانہ عبرت بنا دیا جاتا ہے مگر آئین قانون اصول اور ضابطے سب خاموش رہتے ہیں ، بیگناہ سزا وار ٹھہرتے ہیں اور گنہگار دامن جھٹک کر صاف بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ برسوں پہلے مجھے اخبارات میں شائع ہونے والی ایک خبر یاد ہے ، لاہور کے کسی علاقے میں دو نوجوان لڑکیاں ہر روز صبح کے وقت دفتر جانے کے مخصوص وقت پر اپنے گھر کے نزدیکی سٹاپ سے ایک ہی ویگن پر سوار ہوتی تھیں ، ڈرائیور کو معلوم ہوتا تھا وہ لڑکیاں سٹاپ پر کھڑی ہونگے ، اس لئے وہ اگلی سیٹ کو خالی رکھ کر آتا تھا ۔ ایک روز کسی بے حس بے ضمیر نے اس سیٹ پر کوئی ایسا محلول مل دیا جس سے سیٹ پر بیٹھتے ہی ان کا لباس سیٹ کے ساتھ چھپک گیا ، جب وہ دونوں لڑکیاں ویگن سے اتریں تو ایسا منظر تھا کہ جسے میرے قلم میں بیان کرنے کی قوت نہیں ۔ یقینا اس واقعہ پر پولیس بھی حرکت میں آئی ہو گی ، عوام نے احتجاج بھی کیا ہو گا ، چند ایک سیاسی اور سماجی رہنمائوں نے بیانات بھی داغے ہونگے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ عوامی ردعمل ان لڑکیوں کو ملنے والی عمر بھر کی ذلت و رسوائی کے ایک لمحے کا بھی مداوا کر سکتا تھا ۔ موثر قانون سازیا ور پھر قوانین پر منصفانہ عملدرآمد کے بغیر مظلوم کی دادرسی اور ظالم کا احتساب کبھی بھی ممکن نہیں ہوتا ۔ سعودی عرب میں رہنے والے ہمارے اکثر و بیشتر دوست یہی بتاتے ہیں کہ نماز کا وقت ہوتے ہی چھوٹے بڑے ہر طرح کے دکاندار کسی بھی قسم کا تالہ کنڈی لگائے بغیر صرف وقفہ برائے نماز کا بورڈ لگا کر نماز پڑھنے چلے جاتے ہیں ، ان کی دکان میں ہیرے جواہرات ہوں یا پھر آٹا ، دالیں ، چاول ، کسی کو چوری کا ارادہ کرنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی ۔ وجہ صرف یہ ہے کہ اکثر لوگوں نے بارہا نماز جمعہ کے بعد چوری چکاری ، قتل و غارت اور منشیات سمگلنگ میں ملوث لوگوں کے ہاتھ اور سر قلم ہوتے دیکھے ہوتے ہیں ۔ اس منظر کو دیکھنے والے کسی بھی شخص کے ذہن میں جرم کا خیال بھی آجائے تو اس کا سارا وجود سزا کے خوف سے کانپنے لگتا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں سزا کا تصور ہی نہیں تو سزا کا خوف کیوں ہو گا۔ الیکشن میں دھاندلی کا معاملہ ہو یا پھر ٹیکس چوری کے کیسز ، ملکی سرمائے کو ناجائز طور پر دوسرے ملکوں میں منتقل کرنے کے الزامات ہوں یا پھر جعلی اسناد پر انتخاب لڑنے کی کہانیاں ، اغوابرائے تاوان سے لے کر ٹارگٹ کلنگ تک اور رشوت سے لے کر دوسروں کے پلاٹوں مکانوں پر قبضے تک ، اگر مجرمان قانون کی گرفت میں آ بھی جائیں تو بچ نکلنے کے ایسے ایسے راستے کھل جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جائے ۔ تصویر کا ایک دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ ان تمام الزامات کو سیاسی مخالفین ایک دوسرے کو بدنام اور رسوا کرنے کیلئے بھی اتعمال کرتے ہیں ۔ ہٹک عزت اور ازالہ عرفی کا قانون بھی موجود ہے لیکن اس قانون کا استعمال بھی محض نوٹس بازی تک محدود رہتا ہے ۔ یہ سارے عوامل یکجا ہو کر ہماری قوم کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں ۔ بدنیتی ، بدعنوانی ، بے ایمانی اور منافقت کا وائرس پولیو سے بھی زیادہ خوفناک ثابت ہو رہا ہے ۔ ہر طرف ایک عجیب سی ہلڑ بازی ہے ۔ کوئی پوچھنے والا نہ روکنے والا ۔ ایسی ابتر صورتحال میں ملکوں کا وجود بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے اور قومی تشخص بھی ۔ معلوم نہیں وہ کون سی ان دیکھی قوت ہے جس نے ان ہزار خرابیوں اور بربادیوں کے باوجود بھی اس قوم کو بھی بچایا ہوا ہے اور اس ملک کو بھی ۔ تاہم ایک عمومی بدنصیبی بطور قوم ہمارے ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے ۔ اس سے بڑھ کر ہماری بد قسمتی اور کیا ہو گی کہ دور دراز ملکوں سے جنگجو ہمارے ملک میں آکر معلوم نہیں کس کس کی جنگ لڑنے میں مصروف رہتے ہیں ۔ آپریشن ضرب عضب کی تفصیلات کبھی غور سے پڑھئے ، آپ کو معلوم ہو گا کہ اس آپریشن میں مارے جانے والے اکثر و بیشتر دہشت گردوں کا تعلق پاکستان سے نہیں ہوتا ، لیکن غیر ملکیوں کی وجہ سے ہم دنیا بھر میں بطور قوم دہشت گرد مشہور ہو رہے ہیں ۔ ہماری معیشت ، تعلیمی ادارے ، کاروبار اور امن و امان ، غرض سارے کا سارا نظام ان غیر ملکی دہشتگردوں کے نشانے پر ہے ۔ ایک نہایت منظم انداز میں کبھی ایک مسلک کے عالم کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی دوسرے مسلک کے عالم کو ۔ مقصد صرف یہ ہے کہ کسی طور فرقہ پرستی کی ہولناک آگ اس سارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے ، مسلک اور عقیدے کی بنیاد پر خون کی ندیاں بہنے لگیں اور جو تھوڑی بہت کسر رہ جائے وہ ہمارے عالمی بد خواہ اپنی سازشوں سے پوری کر دیں ۔ عالمی بد خواہی کی ایک تازہ ترین مثال چند روز قبل مقبوضہ کشمیر کے اڑی سیکٹر میں دیکھنے کو ملی ۔ آج تک تو مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی فوجی ہی مقامی لوگوں پر ظلم و ستم کرتے چلے آئے تھے لیکن اس بار تو کشمیری حریت پسندوں نے کہانی کا منظر نامہ ہی بدل دیا ۔ قابض بھارتی فوجیوں پر ایسا خوفناک حملہ کیا کہ وہاں تعینات بھارتی فوجیوں کی نیندیں حرام ہو گئیں ۔ تاہم بھارتی ارباب اختیار نے اس موقع کو بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا اور اپنی پرانی روش پر چلتے ہوئے الزام پاکستان پر دھر دیا ۔ بھارتی میڈیا نے بھی اس مہم میں اپنے حکومت کا بھر پور ساتھ دیا ۔ آپ کو موقع ملے تو آجکل کے بھارتی اخبارات کا جائزہ لیجئے ، بھارتی چینلرز پر خبریں سنئے ، آپ کو یوں لگے گا کہ دنیا بھر میں پاکستان سے بڑا اور کوئی دہشتگرد نہیں لیکن یہ کمال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ پاکستان دشمنی پر مبنی اس بھارتی تحریک کے باوجود پاکستان کے چند ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل آج بھی پاک بھارت دوستی زندہ باد کے نعرے لگانے میں مصروف ہیں ۔ دوستی کی خواہش اچھی بات ہے لیکن یہ سچائی بھی پیش نظر رہے کہ امن کی خواہش اور خوشامد میں ایک بڑا واضح فرق ہوتا ہے ، امن کی یکطرفہ خواہش ، دوستی کی یکطرفہ تمنا ، خوشامد کہلاتی ہے ۔تالی وہی جو دو ہاتھ سے بجے ، اس نئے زمانے میں کامیابی کا ایک ہی اصول ہے ، ’ہم آدمی ہیں تمہارے جیسے ، جو کرو گے وہ ہم کرینگے ۔