مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پردیس میں اردو ادب سے لگائوزبان کی عالمگیریت کو ثابت کرتا ہے‘ غزل انصاری
بریڈ فورڈ ... برطانیہ میں اردو شاعری جذبات کے اظہار کا ایک بہترین ذریعہ ہے نوجوان نسل کو برطانیہ میں اپنے کلچر سے حقیقی طور پر متعارف کرانے کیلئے انہیں اردو ادب کے ناصحانہ کلام سے روشناس کرایا جائے تاکہ وہ اپنے حال اور مستقبل کو تابناک اور روشن بنائیں اور شاعری کے ذریعے اپنے وطن سے ربط بھی مضبوط ہو۔ ان خیالات کا اظہار یارکشائر ادبی فورم کے تحت مہ جبیں غزل انصاری کی شاعری کی کتاب ’’زندگی‘‘ کی تقریب رونمائی کی تقریب سے کیا۔ جس کی صدارت کے فرائض اشتیاق میر نے سرانجام دیئے۔ طلال انصاری کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہونے والی اس تقریب سے ڈاکٹر مختارالدین، مقصود الٰہی شیخ، غزل انصاری، راحت زاہد، صادق رضا، تسنیم حسن، مدیحہ انصاری، انور چوہدری، زائد ظفر، ظہر، باسر کاظمی، اعظم لودھی، آدم چغتائی، شیراز علی، زاہد ظفر، منظور قریشی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شاعری کسی بھی تہذیب و ثقافت کا اہم ستون ہے۔ زبانیں انسان کی ذہنی و سماجی رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ مقررین نے کہا کہ وطن سے دور رہ کر اردو ادب سے لگائو اردو زبان کی عالمگیریت ثابت کرتی ہے۔ مدیحہ انصاری نے کہا کہ زندگی کا احاطہ کرنا بہت مشکل ہے زندگی چھوٹے چھوٹے لمحات کا مجموعہ ہے۔ راحت زاہد جو گلاسگو سے بطور خاص آئی تھیں نے کہا کہ غزل انصاری نے اردو غزل کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔ ’’زندگی‘‘ کی مصنفہ غزل انصاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو صرف زبان ہی نہیں بلکہ برصغیر میں بسنے والے لوگوں کا عظیم ورثہ ہے اور کوشش کر رہے ہیں ہم ہزاروں میل دور رہ کر بھی اس ورثے کی نگہبانی کریں۔ مہمان خصوصی مقصود الٰہی شیخ نے کہا کہ اردو ادب ہمیشہ محبتیں تقسیم کرتا ہے۔ ادب کو قائم رہنا چاہئے تاکہ محبتیں بھی بڑھیں۔ معروف گلوکارہ شبنم خان اور گلوکار سہیل اخلاق نے خوبصورت کلام پیش کیا اور خوب داد سمیٹی۔ اس موقع پر کیک بھی کاٹا گیا۔