مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
تحریک عدم اعتماد پارٹی کی مرکزی قیادت کے کہنے پر واپس لی: بیرسٹر سلطان محمود چوہدری
ڈربی ...آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ ہمارے لئے بڑے فخر کی بات ہے کہ برطانیہ میں مقیم کشمیری یہاں پر اہم رول ادا کررہے ہیں، اس وقت آزاد کشمیر کے بسنے والے کئی لوگ یہاں برطانیہ میں ہاؤس آف لارڈز، ہاؤس آف کامنز کے رکن ہیں جبکہ بڑی تعداد میں یہاں پر لارڈ مئیرز اور مئیر ز جبکہ تین سو پچاس کے قریب کونسلرز ہیں جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ کشمیری اب برطانوی معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں اور یہاں اپنی حیثیت منوا رہے ہیں اوراپنے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ کشمیر کی آزادی اور استحکام پاکستان کے لئے بھی اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ڈربی میں استقبالیہ کے موقع پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کی صدارت چوہدری الطاف نے کی جبکہ استقبالیہ سے چوہدری افضل، کونسلر جہانگیر، کونسلر عاطف، چوہدری حنیف کالاڈب اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ بیرسٹر سلطان نے کہا کہ ڈربی میرا سیاسی قلعہ ہے اور یہاں مقیم کشمیریوں اور پاکستانیوں نے ہمیشہ میرا کھل کر ساتھ دیا اور ہمیشہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح میرے ساتھ کھڑے رہے۔ انہوں نے کہا ہم نے تحریک عدم اعتماد پیش کرکے عوامی جذبات کی ترجمانی کی تھی اور بعد ازاں پارٹی کی مرکزی قیادت کے کہنے پر واپس لی لہٰذا ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر آئینی اور جمہوری راستے بند کردیے جائیں تو پھر لوگ دیگر راستوں پر چل پڑتے ہیں۔ بیرسٹر سلطان نے کہا کہ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزیوں میں اضافہ کردیا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی بھی عروج پر ہے ایسے موقع پر میں نے اپنا قومی فریضہ سمجھا کہ میں بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کروں جس کے لئے میں یورپ کے دورے کا فیصلہ کیا۔